2005 کے زلزلہ زدہ متاثرین کی حالت زار

Earthquake Victims

Earthquake Victims

تحریر: علی عمران شاہین

8 اکتوبر ایک بار پھر آیا اور گزر گیا۔ 9 سال قبل 2005 کو پاکستان میں طلوع ہونے والا یہ دن پاکستان ہی نہیںبلکہ دنیا کی تاریخ کے لئے المناک تھا،جب ہولناک زلزلے نے لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانیوں سے زندگی چھین لی اور لاکھوںافراد کو زخمی و معذور کر دیا۔اس درد ناک سانحہکے اذیت ناک زخم آج بھی تازہ ہیں۔ آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن کے وہ اضلاع جو اس زلزلے میں تباہ و برباد ہو گئے تھے، وہاں نہ پہلے جیسے مکانات اور عمارتیں تعمیر ہو سکی ہیں اور نہ ہی لوگوں کا کاروبار بحال ہو سکا ہے۔ ہزاروں ایسے بد قسمت لوگ جو ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے تھے آج بھی ٹوٹے اعضاء گھسیٹتے نظر آتے ہیں۔

جس وقت یہ قیامت بیتی، اس وقت پاکستان میںجنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔پرویز مشرف نے پہلے 3پھر 5سال کاوعدہ دے کر کہا تھا کہ وہ اس عرصے میں زلزلہ زدہ علاقوں کو پہلے سے بھی کہیں بہتر اور ترقی یافتہ بنادیں گے اور متاثرین کا آخر دم تک ساتھ دیں گے۔اس دوران میںپاکستان کے ہر شہری کے ہر لحاظ سے بھر پور تعاون کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے اربوں ڈالر کی امداد الگ سے آئی۔بے شمار ملکی اور غیرملکی رضاکار ادارے اور کارکن بھی دن رات مصروف رہے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیااس سب کے باوجود زلزلہ زدہ لوگوں اور علاقوں کی صورتحال کتنی بدل سکی ہے ؟آئیے ! اس کا عملی مشاہدہ کرتے ہیں۔

زلزلہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ مانسہرہ کا سیاحتی مقام اور3 لاکھ آبادی کا شہر بالاکوٹ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گیا تھا۔بالا کوٹ میں داخل ہوں تو آج بھی سب سے پہلے فلاح انسانیت فائونڈیشن کا ہسپتال اور اس کی ایمبولینس استقبال کرتی ہے۔ 9سال بعدیہاں یہ واحدامدادی ادارہ یہاں رہ گیا ہے جو آج بھی زلزلہ زدگان کو مفت طبی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔اس سے آگے بڑھیں توساتھ ہی وہ گورنمنٹ ہائی سکول سامنے آ جاتا ہے جس کے صحن میں 100کے لگ بھگ شہید بچوں کی قبریں یہاں آنے والوں کوآج بھی رلا دیتی ہیں۔ یہاںایک منزلہ چند سرکاری عمارتیں بھی کچھ اچھی طرز پر بنی ہیں لیکن باقی سارا شہر عارضی ہی نظر آتا ہے۔

آج کا بالاکوٹ پہلے سے بھی بڑا تجارتی مرکز بن چکا ہے کیونکہ کاغان اور ناران تک کے وہ لوگ جن کے علاقے زلزلے میں ملیامیٹ ہو گئے تھے، آکر یہیں بس گئے ہیں ۔تھوڑا بلندی پر جا کر بالاکوٹ شہر پر نظر دوڑائیں تو ہر طرف پہاڑوں پر اور ان کے دامن میں سفید اور نیلے رنگ کے ایک جیسے ہزاروں عارضی گھروں کی ایک وسیع بستی نظر آئیگی۔ یہ تمام گھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے لوگوں کو بنا کر دیئے گئے ہیں ۔یہاں کے بہت سے لوگ اب انہی عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ دو چھوٹے چھوٹے کمروں، ایک چھوٹے کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل یہ گھر آج بالاکوٹ کی پہچان ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ شہر کی منتقلی کے چکر میں تا حال یہاں کوئی جدید ہسپتال اورمضبوط طرز پرکوئی تعلیمی ادارہ بھی نہیں بنایا جا سکا۔

حکومت نے زلزلے کے فوری بعدبالا کوٹ میں دوبارہ پختہ تعمیر پر پابندی عائد کر دی تھی اور اعلان کیا تھاکہ موجودہ شہر سے 23 کلومیٹر دور ”بکریال” کے مقام پر ”نیو بالاکوٹ سٹی” تعمیر کیا جائے گا اورمتاثرین کو وہاں بسایا جائے گا۔ اعلان تو یہ تھا کہ حکومت نیا شہر جدیدخطوط پر خود تعمیر کرے گیاا ور متاثرین کو صر ف وہاں رہنے کیلئے بلایا جائے گا۔ اس کے لئے زمین بھی خریدی گئی۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے افتتاح بھی کیا ،کام بھی شروع ہوا لیکن9سال گزرے ”نیو بالاکوٹ سٹی” کیا تعمیر ہوتا؟ اس کی طرف جانے والی چندکلو میٹر سڑک بھی نہ بن سکی اوراب یہ منصوبہ مکمل طور پر کھٹائی میںجاچکا ہے۔ دوسری طرف لوگ حکومت کی دیکھ دیکھ کر جب تھک ہار گئے تو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جہاں جگہ ملی، گھر بنانے شروع کر دیئے۔

زلزلے سے تباہ ہونے والے 5ہزار سے زائد سکولوں میں سے اب تک بمشکل چند سو ہی تعمیر ہو سکے ہیں ،ان میں سے تو اکثر بیرونی دنیا نے بنائے ہیں جن میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے نمایاں ہیں۔یہی ممالک سارے متاثرہ علاقوں میں صحت عامہ کے اور تعلیمی ادارے بنا رہے ہیں۔آج بھی بے شمار سکول خیموں میں کام کر رہے ہیں۔

Kashmir

Kashmir

آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلے میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ یہاں اموات بھی بہت زیادہ ہوئی تھیں۔ گزشتہ 9سالوں میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام یہیںہوئے ہیں۔ ترکی نے حکومتی سیکریٹریٹ اور ایک عالیشان مسجد تعمیر کی ہے۔ سعودی عرب نے یونیورسٹی اوربڑا ہسپتال بنایا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی جدید ہسپتال بنایا گیا ہے ۔ سکولوں اور کالجوں کی تعمیر نو بھی انہی ممالک کی جانب سے کی جاری ہے۔ اکثر لوگوں نے جیسے تیسے گھردوبارہ تعمیر کر لئے ہیں لیکن بہت سے متاثرین ابھی تک خیموںاور فائبر گلاس کے عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔یہا ں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے عطیہ کردہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے عارضی گھر ہر طرف نظر آتے ہیں۔شہر کی صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔ بیشتر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ دریائے نیلم کے پل پر پہنچیں تو سیدھاسامنے 7 سال پہلے جلنے والے جماعة الدعوة کے بڑے ہسپتال کا ڈھانچہ آج بھی موجود ہے۔

اس سے 7 کروڑ کا نقصان ہواتھا اورزلزلہ زدہ اہل کشمیر علاج معالجے کی ایک بہترین سہولت سے محروم ہو گئے۔یہاں زلزلہ متاثرین کے لیے لائی گی 70لاکھ کی سی آرم مشین بھی جل گئی تھی جس کی خریداری کے لئے دس لاکھ روپے میاں نواز شریف نے بھی دیئے تھے۔ حکومتی وعدوں کے باوجود یہ ہسپتال دوبارہ نہیں بنا۔ جماعة الدعوة نے شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ریسکیو سنٹر کے نام سے ایک نیا اور منفردامدادی ادارہ بنایا ہے جو لوگوں کو ہر طرح کے ہنگامی حالات میں فوری مفت تعاون فراہم کرتا ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی دینی اور مذہبی جماعتیںزلزلہ زدگان کے لئے امدادی کام میں پیش پیش تھیں ۔ایدھی فائونڈیشن، الخدمت فائونڈیشن ،صفہ ویلفیئر، المصطفےٰ ٹرسٹ، اسلامی دعوت، الرحمت ٹرسٹ ، منہا ج ٹرسٹ، الاحسان ویلفیئر فائونڈیشن ،خدمت خلق فائونڈیشن اور دیگر ایسے ہی بے شمار اداروں کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی متحرک رہے تھے، جن کی خدمات کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

زلزلے سے تباہ ہونے والا تیسرا بڑا شہرباغ تھا۔مظفرآباد سے باغ کی طرف روانہ ہوںتو ایک بار پھر ٹوٹی پھوٹی اور تباہ حال سڑکیں جسم کا جوڑ جوڑ ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور ڈیڑھ سے دوگھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔راستے میںبالاکوٹ اور مظفر آباد کی طرح کہیں شکستہ تو کہیں زیر تعمیرگھر اور خیمے نظر آتے ہیں۔ باغ شہرتو تقریباً پہلے کی طرح آبادہے لیکن شہر میںاب بھی ٹوٹی عمارتیں اور گھرموجود ہیں۔ باغ سے راولاکوٹ جانے والی سڑک پورے آزاد کشمیر میں اسے واحد سب سے اچھی سڑک قرار دیا جا سکتاہے۔زلزلے میں راوالاکوٹ شہر بھی بری طرح تباہ ہوا تھا۔ یہاں تعمیر نو کا کام کافی حد تک ہو چکا ہے۔

سارے زلزلہ زدہ علاقوں کے دورے میں جو بات بہت خاص طور پر دیکھنے میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ آزاد کشمیرکی حکومت ہو یا پاکستان کی حکومت یا کوئی بیرونی این جی او ز یا بیرونی دنیا کا تعمیر نو کاسلسلہ… کسی نے مساجد اور مدارس کی بحالی اور تعمیر نو کا کام سرے سے نہیں کیا۔ چند نئی مساجد تو ضرور بنائی گئی ہیں لیکن پرانی زلزلہ زدہ مساجد کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نماز کی ادائیگی کے قابل بنایا ہے یاان کی تعمیر نو کا کام کیا ہے۔ 9سال گزرنے کے بعد آج بھی بے شمار مساجد کی حالت پریشان کن ہے۔ مساجد اور مدارس کی تعمیر نوکے لئے دینی ادارے ملک بھر تھوڑی بہت امداد فراہم کرتے رہے جس سے کچھ نہ کچھ مساجد اور مدارس کی تعمیر نو اور بحالی کا کام ہوا، وگرنہ باقی صورتحال ویسی ہی ہے

2005کے زلزلہ زدگان کے لئے دنیا بھر اور ملک بھر سے بے پناہ امداد آئی لیکن جس قدر امداد آئی، اس میں خردبرد ، لوٹ مار اور کرپشن بھی اسی پیمانے پر ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ اگر زلزلہ زدگان کے لئے آنے اور جمع ہونے والی امداد کا نصف بھی صحیح طورپر خرچ ہو جاتا تو زلزلہ زدہ علاقے پاکستان کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقے بن چکے ہوتے۔ اس کا فائدہ ملک اورحکومت کو بھی بے پناہ ہوتاکیونکہ اس سے سیروسیاحت کابہترماحول میسرآتا۔اس سے ان لوگوں کا کاروبار بھی شروع ہوتا اور یہ لوگ بآسانی اپنے پائوں پر کھڑے ہوتے۔وائے افسوس! ہمارے ملک کی روایت اندھی کرپشن نے زلزلہ زدگان کو بھی معاف نہ کیا۔

زلزلہ زدہ علاقوں میں اگر اب بھی حکومت صرف اچھی سڑکیں تیزی سے تعمیر کر دے، پانی کی فراہمی کا اچھا نظا م بنا دے، سکول اور مساجد کی تعمیر نو کر دے تو یہ اس کا سب سے بڑا احسان ہو گا کیونکہ اکثر زلزلہ زدگان نے تو اپنے سر چھپانے کی جگہ کسی نہ کسی طرح بنا ہی لی ہے اور باقی ماندہ بنا رہے ہیں۔وہ اپنے پیاروں کو8سال پہلے دفنا چکے ہیں،بیشتر متاثرین تباہ حال گھروں کا ملبہ خود ہی صاف کر کے ایک نئی زندگی بھی شروع کر چکے ہیں اور جو رہ گئے ہیں وہ بھی کر ہی لیں گے۔ بس اب حکومت ان پر تھوڑا احسان کر دے اور اس احسان میں بالاکوٹ والوں کی مشکل کا بھی حل شامل کر لیا جائے۔

Ali Imran Shahee

Ali Imran Shahee

تحریر: علی عمران شاہین