رہنما ہو تو ایسا

Rajab Tayyab Urdgan

Rajab Tayyab Urdgan

تحریر : شاہ بانو میر
ملک شام برادر اسلامی ملک پر ٹوٹنے والی قیامت پر اسلامی ممالک کی خاموشی کا جمود اس وقت ٹوٹا جب ترکی کے صدر کی جانب سے جانب سے صدائے حق ترش و تیز آواز میں بلند ہوتی ہے۔ ہم کبھی تھے اسلام کا قلعہ آج اردگان اسلام کا شیر ہے۔ پاکستان سے آدھی فوج رکھنے والا ملک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنی فوج شام بھیج رہا ہے۔ طیب اردگان عوام کا نہیں امت کا ہیرو جسے دیکھ کر سن کر حوصلہ بڑہتا ہے انبیاء کی مقدس سر زمین مبحوس ہے۔

پہلے بیت المقدس چھینا گیا ۔ اب شام اس کے بعد مکہ مدینہ استنبول اسلام آباد؟ ایسی خوفناک صورتحال میں تمام کے تمام اسلامی ممالک دم سادھے چُپ چاپ سو رہے ہیں اور مسلم امہّ کی خواتین ہر شعبہ فکر میں متحرک بیحد حساس وہ بھی خاموش ہیں کیوں؟ پاکستان میں بڑی تعداد موجود ہے ایسی خواتین کی جو سنجیدہ شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کو موقعہ دیا جائے تو اسی ٹی وی کی سکرین کو وہ شام کیلیۓ بہترین انداز میں استعمال کر کے ایسا کام کر سکتی ہیں جو شامی لوگوں کے دکھ درد میں کمی لا سکتا ہے۔ آج ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں غیر ضروری الجھا دی گئیں کہ وہ دعا کرنا ہی بھول گئیں تو رحمتیں کیسے اتریں؟ اقتصادی معاشی ترقی کمزور تعلیم سے دور ایسے میں دعا کا سہارا بھی چھوٹ جائے تو کیا حال ہو ہمارا ؟ غاصبوں کی سازشوں نے جال پھینکا شام کے حکمران کو بے دینی کے جال میں الجھایا اور ایسے غیر اسلامی روش پر آمادہ کیا جو اس کی قوم کو اپنے تاریخی اسلامی تشخص اور اسلامی طرز معاشرت کیلئے قطعا پسند نہ آئے ۔ یوں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جو ایسی بڑہی کہ آج اس سر سبز و شاداب گھنی آبادی والا علاقہ تہس نہس ہو کر کھنڈر بن گیا۔

غیر اسلامی رسم و رواج کی بھرمار شام کی غیور غریب عوام کی برداشت سے باہر ہو گئے۔ اور بار بار متنبہ کرنے پر بھی بشارا لاسد باز نہ آیا تو کچھ سال قبل عظیم ایک عوامی سیلابی ریلہ باہر نکلا اپنے صدر کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ اپنی ہی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال کر کے انہیں اور ان کے احتجاج کو اس نے زمین بوس کر دیا ۔ اس کے بعد بشار الاسد نے معذرت کر کے پھر کبھی ایسا نہ کرنے کا کہا مگر کیمیائی ہتھیاروں کا عوام پر استعمال بار بار دیکھنے میں آیا ۔ عوام ایک بار پھر ہاتھوں میں ہتھیار اور زباں پر لا الہ الا اللہ کا ورد کفن باندھ کر دین کو بچانے یہ باہر نکلی ۔ اس بار شام کی حزب اختلاف قوت بھی سامنے آئی اور بشارالاسد کے خلاف محاذ قائم کیا اور باغیوں کے عنوان سے نئی طاقت سامنے آئی ۔ شامی صدر باغیوں کی سرکوبی میں ناکام رہا اور کمزور ہوتے ہوئے اس نے 2015 میں روس کو مدد کیلیۓ پُکارا تا کہ از سر نو طاقت کے بر وقت استعمال سے وہ کھویا ہوا کنٹرول علاقوں پر پھر سے حاصل کر سکے ۔ روس کو سنہری موقعہ ملا اپنے نئے کیمیائی ہتھیاروں کے ٹیسٹ کا ان نئے کیمیائی ہتھیاروں کی تعداد 200 کے قریب ہے انہیں مختلف انداز سے بے رحمی سے شام کی عوام پر گرا کر نتائج اکٹھے کئے گئے ۔ شام جو کبھی ایک ملک تھا آج مختلف طاقتوں کی سامراجی سوچوں اور خطے میں بڑہتے ہوئے ان کے علاقائی مفادات کا گڑھ بن کر کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔

ایک حصہ بشار الاسد کے پاس ہے یعنی انتظامیہ کے پاس ہے دوسرا حصہ حزب مخالف کے پاس ہے تیسرا حصہ نیٹو اور امریکہ کے پاس ہے چوتھا حصہ ترک فوج کی تحویل میں ہے پانچواں حصے پر داعش قابض ہے کئی سالوں سے جاری اس لڑائی میں اس ملک کے اپنے ہی شہری دنیا بھر میں 1 کروڑ کے لگ بھگ ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوئے ۔ جو رہ گئے ان میں سے محتاط اندازے کے مطابق 5 لاکھ سے زائد شہری شہید کر دیے گئے۔ شام میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد 30 ہزار کے قریب ہے ۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام کی جیلوں میں 3000 باغیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ہے ۔ محض حریف طاقتوں پر دہشت بٹھانے کے لئے۔ اسلامی تعلیمات کہتی ہیں کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے دنیا میں ایک کے بعد ایک اسلامی ملک کو بغیر کسی جائز وجہ کے برباد کرنے کیلئے فتنہ پیدا کیا جائے گا۔

مکہ مدینہ دمشق بغداد استنبول کو نشانے پر رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان مبارک ہے کہ جیسے کسی قوم کے امت کے اعمال ہوں گے ویسا ہی حکمران ان پر نافذ ہوگا ۔ قابل غور نقطہ یہ ہے کہ آج ایک عام مسلمان کا اپنا کردار کیا قرآن و سنت کے عین مطابق ہے؟ بس یہی وجہ ہے ایسے حکمران ہم پر مسلط ہو گئے جو اللہ کی ناراضگی کا ہم سے منہ بولتا ثبوت ہیں؟

مسلمان عورت جاگے اور شام کیلئے اپنی خدمات پیش کرے ہر پلیٹ فارم سے جو جو وہ کر سکتی ہے؟ خواتین شام کیلئے آگے بڑہیں اور اپنی طاقتِ فہم سے خواتین بچوں پر جاری مظالم کے خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں ۔ ورنہ یاد رکھیں فاصلے سمٹ جائیں گے اور کل جب ہماری باری آئے گی تو دیگر اسلامی ممالک بھی ٹی وی کی آواز بلند کر کے ہمارے ملک سے اٹھتی چیخوں کو دبا کر مارننگ شوز میں گُم ہوں گے۔ آئیے جاگیں اور اپنے حکمرانوں کو جگا کر طیب اردگان کا ہمنوا بنا کر پھر سے امت مسلمہ کا وقار بلند کریں۔ طیب اردگان رہنما ہو تو ایسا

و اخر الدعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر