علم کی روشنی

Knowledge

Knowledge

علم کی اہمیت اور افادیت کا احساس ہر دور میں رہا ہے اسی لئے علم کو اہمیت اور اولیت حاصل ہے ،علم ہی سماج میں انسان کیلئے امن و سکون کا بہترین ذریعہ ہے انسان میں عقل اور شعور علم سے ہی حاصل ہوتا ہے ،بغیر علم کے انسان تمام معاملات سے بے خبر اور گمراہ رہتا ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ پڑھو،قلم کے ذریعے علم حاصل کرو۔ایک روایت ہے کہ علم حاصل کرنا فرض ہے اور انسان کو اسے ادا کرنا ضروری ہے اسکے راستے میں کسی طرح کی کوئی روکاوٹ اور مشغولیت نہیں ہونی چاہئے یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو انسان اپنے رب کیلئے پوری کرتا ہے۔

علم کے بغیر کوئی بھی شخص باشعور نہیں ہو سکتا ،کیونکہ تعلیم و تربیت انسان میں کامل معیار زندگی کی صلاحیت پیدا کرتی ہے شعور اور عقل سے انسان اچھی زندگی بسر کرتا ہے ،اخلاق ،فکر ،اور نظم وضبط پیدا ہوتا ہے ،ہر کام میں سبک دست، اور دوسروں کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے کائنات اور اس کائنات کے رموز کو سمجھنے کی ہدایات بھی دیں ہیں ،رموز کائنات کو انسان اس وقت تک نہیں سمجھ سکتا جب تک علم حاصل نہیں کرے گا ،ایک حدیث ہے کہ علم حاصل کرو اگر تم بد صورت ہو تو صاحب جمال بن جاؤ گے اگر مفلس ہو تو مالدار ہو جاؤ گے یعنی خوبصورتی لباس سے نہیں بلکہ علم سے ہوتی ہے ،علم ایک قیمتی ہیرا ہے اسے دنیا کی تمام دولت سے بھی نہیں خریدا جا سکتا ،یہی وجہ ہے کہ علم کو انسان کا حسن کہا گیا ہے جو اس حسن سے محروم ہوتا ہے وہ دنیا کا غریب اور مفلس انسان کہلاتا ہے بھلے اسکے پاس دنیا کی تمام دولت ہو۔

دانشوروں کا کہنا ہے علم انسان کیلئے انتہائی ضروری ہے ،علم انسان کی زندگی کا ایک اعلیٰ حصہ ہے جس سے انسان کی زندگی کا اندھیرا دور ہوتا ہے علم سے انسان کوزندگی سدھارنے کے مواقع میسر آتے ہیں ،یہ وہ روشنی ہے جس سے انسان کو روحانی تقویت اور شائستگی کا احساس ہو تا ہے،علم ہر انسان کی ترقی کی پہلی سیڑھی ہے اور اچھے ماحول میں انسان کی تربیت ہو جائے تو وہ معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے۔

درحقیقت زندگی نام ہی ایک جد وجہد ، کوشش ، کشمکش اور لگن کا ہے ،زندگی ہر قدم ،ہر موڑ ،ہر لمحہ انسا ن کو کچھ دینا چاہتی ہے لیکن علم نہ ہونے سے انسان سمجھ نہیں پاتا کہ کب اور کس موڑ یا لمحات میں زندگی نے ایک موقع فراہم کیا اور انسان نے لاعلمی میں اسے کھو دیا۔

دنیا میں ہر شخص کا انداز فکر ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے انسان کی سوچ میں گہرائی صرف علم کی بدولت حاصل ہوتی ہے اور کائنات کی ہر چیز پر غورو فکر کی نظر بھی انسان کو علم ہی عطا کرتا ہے کیونکہ انسان علم حاصل کرنے کے بعد جب معاشی لحاظ سے ترقی کر جاتا ہے اور آعلیٰ سوچ ، خیالات و نظریات کے باعث اپنے آپ کو آعلیٰ مقام پر لے جاتا ہے تو یہ امتیازہی انسان کو قابل احترام بنا دیتا ہے،اور اسے علم پر ناز و فخر ہوتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو تعلیم و تربیت میں بڑا فرق نظر آئے گا تربیت سے مراد یہ ہے کہ ہر ممکن وسیلے سے کام لے کر افراد کو تیار کرنا ان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو انہی کے ذریعے باہر لانا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کریں اور مستقبل کیلئے مفید و معاون ثابت ہوں محض علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ علم کے مطابق زندگی گزاریں ، علم کے بارے میں مفکرین نے مختلف تعریفات اور تعبیرات کی ہیں ،ایک فلسفی کا قول ہے تربیت کا مقصد انسانی زندگی کا نکھار ہے ،ایک دوسرے ماہرین فن کا خیال ہے کہ علم و تربیت وہ راستہ ہے۔

جس سے اخلاق درست ہوتے ہیں ،یونانی مقولہ ہے زندگی کو مکمل اور یقینی بنانے کیلئے جسم اور عقل دونوں کی سلامتی ضروری ہے ،ان میں سے اگر ایک نہ ہو تو انسان مکمل انسان نہیں بن سکتا اور نہ ہی سماج اور سوسائٹی کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے ،جسم اور عقل کا بہت گہرا رابطہ ہے ، چنانچہ تمام باتوں، مثالوں سے ثابت ہوا کہ ایک تعلیم یافتہ انسان اپنے علم کے سہارے منفی عناصر پر قابو پا لیتا ہے لیکن غیر تعلیم یافتہ ان عناصر پر قابو نہیں پا سکتا اسلئے معاشرے میں ایسے لوگ ایک دوسرے سے متضاد حیثیت رکھتے ہیں۔

World

World

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک عوام اورحکمران علم سے واقف نہ ہوں کیونکہ علم ہی تہذیب و تمدن اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کا ضامن ہے، ہر انسان علم حاصل کرکے ترقی کرتا رہتا ہے، ایک عالم اپنے علم سے پہلے اپنی ذہنی تعمیر کرتا ہے پھر ملک و قوم کی اور اسی ترقی سے ملک و قوم فیض یاب ہوتے ہیں، اسی لئے کہا گیا ہے کہ انفرادی اور مجموعی طور پر علم ضروری ہے اس کے بغیر کوئی ملک قومی پیمانہ پر ترقی نہیں کر سکتا۔

مغربی ممالک میں تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے اور دسویں کلاس تک مفت ہے ، جرمنی میں جیسے ہی بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو سٹی گورنمنٹ کی طرف سے بچے کو سکول کا داخلہ فارم بھیج دیا جاتا ہے کہ اپنی پہلی فرصت میں قریبی سکول ایڈمنسٹریشن سے رابطہ کریں اور بچے کی رجسٹریشن کروائی جائے ،برسرروزگار والدین سے ان کی ماہانہ انکم کے مطابق بچے کی فیس اور سکولز کے دیگر اخراجات کا معاہدہ کیا جاتا ہے اور بے روزگار والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا اوراس تعلیمی نظام سے غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی سکول اور کلاس میں تعلیم کا آغاز کرتے ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان میں علم یا تعلیم کے حصول کیلئے نہ تو ماحول سازگار ہے اور نہ ہی تعلیم و تربیت کے لئے پختہ نظام تعلیم ،ملک میں تعلیم کے نفاذ کو ابتدا سے ہی اکھاڑ دیا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم نہ ہونے پر ملک میں جرائم کی بھرمار ہے اور قانون کا نام و نشان تک نہیں۔

حکمرانوں سے التجا ہے کہ تعلیمی نظام کو درست کیا جائے اورایک مشن کے طور پر چلایا جائے جس کے تحت تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوگا ،ملک کے کونے کونے میں سکولز کی تعمیرات کی جائیں اور ہر بچے کو سکول میں داخلہ دیا جائے، غریب بچے مفت تعلیم حاصل کریں اور امرا سے فیس وصول کی جائے، تاکہ تعلیمی شرح میں اضافہ ہو ،تعلیم کی اقدار اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے عوام میں تعلیمی بیداری پیدا کی جائے ایک ایسا پائیدار اور ٹھوس نظام تعلیم لایا جائے جس کے ذریعے ملک کا ہر شہری علم حاصل کرے اور تعلیم یافتہ کہلائے۔

یاد رہے علم ایک گہرااور لامحدود سمندر ہے جسکی کوئی حد نہیں اسے حاصل کر نا ہر انسان کا حق اور فرض ہے بشرطیکہ ریاست کے حکمران مخلص ، ایماندار ، دیانت دار ،اور روشن خیال ہوں ناکہ بادشاہت کے نشے میں چور۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ملک میں توانائی کا بحران بالخصوص بنیادی جز پانی ، بجلی ،گیس تو ہے نہیں ،بچے تعلیم کیا حاصل کریں گے ، اور کیوں حاصل کریں ؟ تعلیم حاصل کر کے جرائم پیشہ ہی بننا ہے تو اس کیلئے تعلیم کی کیا ضرورت ؟معاشرے کا ایک عام غیر تعلیم یافتہ انسان ان پہلوؤں پر غور کرتا ہے تو تمام بات سمجھ جاتا ہے، لیکن یہ پڑھے لکھے جاہل رہنما کیوں نہیں سمجھتے کیا ان کا بھیجا خالی ہے؟

Shahid Shakeel

Shahid Shakeel

تحریر ۔۔۔ شاہد شکیل۔۔۔ جرمنی