قوم کے معمار اور پاکستان۔۔۔۔۔۔۔

Teacher

Teacher

تحریر : مبارک علی شمسی

ہم جب اس کائنات پر نظر دوڑاتے ہیں تو ذہن کے پنوں پر ایک ہی بات ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ وہ کون سی ذات باصفات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا ، تو نہاں خانہ دل سے یہی جواب ملتا ہے کہ جس نے اسے بنایا اُس ہستی کا نام اللہ ہے جو پوری کون ومکان کا خالق و مالک ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ واحد لاشریک ہے جس نے اپنی مخلوق میں سب سے بہتر انسان کو بنایا یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے اشرف المخلوقات کا اعزاز انسان کے نام کر دیا ، اور جب انسان کو دنیا میں بھیجا تو ذریعہ والدین کو بنایا ، اور قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے اپنی عبادات کے بعد والدین کے ساتھ نیکی، حسن سلوک اور اپنا شکر ادا کرنے کے بعد والدین کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جب بھی کسی انسان کے استادِ اولیٰ کی بات ہو تو ہر انسان کا پہلا استاد اس کے والدین ہی ٹھہرتے ہیں جو ایام طفولیت میں بچوں کے لاشعوری کے عالم میں ان کی تربیت کرتے ہیں اور انہیں چلنے پھرنے کے ساتھ ساتھ آداب بھی سکھاتے ہیں اور جونہی شعور کی کرنیں اس کے دل و دماغ پر منعکس ہونے لگتی ہیں تو اسے روحانی باپ یعنی استاد کے حوالہ کرتے ہیں جہاں سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ اور پھر زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک وملت کی خدمت کا شرف حاصل کرتا ہے۔

اقوام عالم کی طرح پاکستان میں بھی یوم استاد(Teacher Day) ہر سال 5اکتوبر کو شان و شایان طریقے سے منایا جاتا ہے جسکا مقصد اساتذہ اکرام کو سلام پیش کرنا ہے اور ان کی عزت و تکریم اور ان کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ اور ان کے مقام و مرتبہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے ۔ پاکستان میں اس دن کا آغاز سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور ِ حکومت(2003) میں ہوا جس کا آغاز انہوں نے اپنے اساتذہ کرام کو تعریفی و توصیفی میسجز سے کیا اس وقت سے لیکر تاحال یہ دن سرکاری طور پر منایا جاتا ہے اور عالمی سطح پر ٹیچرز ڈے کا ارتقاء دو دہائیوں پر محیط ہے یورپ میں حقیقی بنیادوں پر اساتذہ کا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ استاد کی مثال اس شمع کے جیسی ہے جو خود اندھیرے میں رہ کر دوسروں کو ضیاء بخشتی ہے، استاد کی مثال اس درخت کی مانند ہے جو خود موسمی سختی و گرمی برداشت کر کے دوسروں کو چھائوںمہیا کرتا ہے۔

استاد ایک ایسی ڈھال کا نام ہے جوجہالت کو مٹاتی ہے۔ استاد ایک ایسے پودے کی مانند ہے جس سے طرح طرح کے علمی و ادبی پھول کھلتے ہیں ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور نت نئی ایجادات جو ہم کو میسر ہیں یہ سب انہی قوم کے معماروں کی بدولت ہی ہمیں نصیب ہوئی ہیں۔ انہی سے ہم جینے کا قرینہ سیکھتے ہیں اور علم کی روشنی سے مستفید ہوتے ہیں ۔ پیغمبری پیشہ سے منسلک اساتذہ کرام کیساتھ وطن عزیز پاکستان میں جو سلوک روا رکھا جاتا ہے اس سے پورا زمانہ واقف ہے اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب پروفیسر مجاہد حسین جو پنجاب یونیورسٹی لاہور سے وائس چانسلر کے عہدے سے رخصت ہوئے تھے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں جن کے شاگردوں کی تعداد بہت کثیر ہے جو مختلف شعبوں میں کام کر کے اپنے ملک اور اپنی درسگاہ کا نام روشن کر رہے ہیں ان کو نیب (NAB)کی ٹیم نے ہتھکڑیا ں لگا کر رسوا کیااور پھر انہیں آہنی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا تھا۔

اسی طرح شاہینوں کے شہر سرگودھا میں سرگودھایونیورسٹی کے وائس چانسلر محمداکرم جنہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لیئے اپنا بھر کردار ادا کیا انہیں بھی اسی نیب کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنا پڑا ، صرف یہی نہیں بلکہ جامعہ پنجاب کے ایک سینئر ماہر تعلیم میاں جاوید کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور ہتھکڑیوں کے ساتھ قید میں ہی وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور قلم کے ذریعے جہاد کرنے والے لکھاری عرفان صدیقی کو ان کی رہائش گاہ سے انہیں بے جرم و بے قصورگرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ، پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی نظر بند کیا گیا جو پاکستانی حکومت کے لیئے لمحہ فکریہ ہے اور پاکستانی قوم کا منہ چڑا رہا ہے۔ اساتذہ پر ظلم و تشدد کی ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ مقدس پیشہ بھی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ہے، سیاسی اثرورسوخ اور مداخلت (ایم، این، ایز اور ایم، پی ، ایز کے خصوصی کوٹے کی وجہ سے )کم علم، کم فہم اور نان کوالیفائیڈ ٹیچرز کو تعینات کر دیا جاتا ہے جس سے ہمیں دونقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اول تو یہ کہ بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے اور دوسرا یہ کہ مستحق اور غریب لوگ ڈگریوں کے باوجود اور میرٹ رکھنے کے باوجود بھی ملازمت اور ملک وملت کی خدمت سے یکسر محروم رہتے ہیں یوں پاکستان میں سرکاری اداروں کا معیار تعلیم کم ہو رہا ہے اور سرکاری سکولوں کی جگہ پرائیویٹ مافیا اپنی جڑیں مضبوط کرتی جا رہی ہے جن میں پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن (PEF) اور نیوسکولز پروگرام(NSP) وغیرہ سرفہرست ہیں جو سب سے زیادہ اساتذہ اکرام کا استحصال کر رہے ہیں حالیہ حکومت نے گورنمنٹ کے تحت چلنے والے پرائمری سکولز بھی پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کو سونپ دیئے ہیں، جو لاکھوں روپے ماہانہ PEF سے وصول کر کے مہنگائی کے اس ہو شربا دور میں اساتذہ کو چند سو تنخواہ دے رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یہ پرائیویٹ مافیا میٹرک کی ڈگری رکھنے والے استاد کو ماہانہ 2800روپے ایف اے کو 3400روپے ، بی اے کو 4200روپے اور ایم کو 5000 روپے دے رہے ہیں جو آجکل کے دور میں ایک مزدور کی تنخواہ سے قدرے کم ہیں جوکہ اساتذہ کے ساتھ سراسرناانصافی ہے ان پرائیویٹ پیف کے تحت چلنے والے سکولوں کے اکثر پرنسپلز مڈل پاس بھی نہیں جس کی واضح اور روشن مثال تحصیل حاصل پور کے نواحی قصبہ قائم پور کے تعمیر نو ماڈل سکول کے پرنسپل محمد سعید کی ہے جس نے اپنی بیوی کے نام سے سکول رجسٹرڈ کروارکھا ہے اور خود پرنسپل کی کرسی پر براجمان ہے اور بہاول پور کے دیہی علاقوں سمیت متعدد سکولوں کی یہی صورتحال ہے۔

مڈل فیل تو درجہ چہارم کی ملازمت کی اہلیت بھی نہیں رکھتے اور یہاں پرنسپل بنے بیٹھے ہیں۔ پیف کو چاہیے کہ اس کے تحت چلنے والے سکولز کے اساتذہ کی فہرست طلب کرے اور ان کو معقول تنخواہ مہیا کرے بلکہ ان کے اکائونٹس بنوا کر ان کی تنخواہ ان کے ذاتی اکائونٹس میں بھیجے تاکہ اساتذہ ان کرپٹ سکول مافیا کے چنگل سے بچ سکیں۔ اور حکومت پاکستان کو بھی اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو قومیں اپنے اساتذہ کا احترام کرتیں ہیں وہ ترقی کی منازل عبور کرتیں ہیں۔ میں اپنے شعر و ادب اور صحافت میں اپنے استاد یسیٰن ثاقب بلوچ سمیت قوم کے تمام معماروں کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی صحت و سلامتی کے لیئے دعا گو ہوں۔

Syed Mubarak Ali Shamsi

Syed Mubarak Ali Shamsi

تحریر : مبارک علی شمسی