کرکٹ کا کھیل

Cricket

Cricket

کرکٹ کا کھیل گو کہ پاکستان کا قومی کھیل تو نہیں مگر پاکستان کا ہر فرد اس کھیل سے جنون کی حد تک پیار کرتا ہے۔ پاکستان کرکٹ پر یوں تو تاریکی کا باب پچھلے چند سالوں سے چھایا ہوا ہے مگر حال ہی میں چند فیصلوں کے بعد کرکٹ بورڈ پر مزید انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری پاکستانی حکومت اور ذمہ داران کے لئے شاید ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران عدالتی احکامات کی بدولت چئیرمین کے تبادلے آج قابل غور ہے۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق چیئرمین چوہدری زکا اشرف کی بحالی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے نجم سیٹھی کو تیسری بار چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈکے عہدے پر بحال کر دیا پتہ نہیں یہ ڈرامہ کب تک چلے گا۔ حکومت وقت ایک زیلی ادارے کے سربراہ کے تقرر پر اتنی ڈانواں ڈول نظر آرہی ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکومت کسی بڑے فیصلے کرنے کی ہمت رکھتی ہے۔

نجم سیٹھی اور زکا اشرف کے درمیان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کا مسئلہ پچھلے کچھ عرصے سے کشمکش کا شکار ہے ۔ معاملہ تو اتنا گھمبیر نہیں ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ یا تو ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا شخص حکومت کو معلوم نہیں یا پھر حکومت پاکستان کرکٹ بورڈ کو صیحح سمت میں جاتا دیکھنا نہیں چاہتی۔اگر اس کو کھلم کھلا اجارہ داری کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اب تو حکومت پاکستان کا یہ معمول بن گیا ہے کہ کچھ دنوں بعد لازمی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

چیئرمین پی سی بی کی تقرری کا فیصلہ ایک ایگزیکٹو معاملہ ہے اور یہ اختیار پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف کو حاصل ہے اور عدالت کومعاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔چیئرمین کرکٹ بورڈ کی تبدیلی کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اس وقت بدنامی ہو رہی ہے ۔اس کے علاوہ بدنامی کے ساتھ ساتھ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بھی بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے جو بھی چیئرمین پی سی بی آتا ہے ساری سلیکشن کمیٹی وہ اپنی مرضی کی لے کر آتا ہے نہ تو کسی کو باولنگ کوچ کے بارے میں پتہ چلتا ہے نا فیلڈنگ کوچ کا پتہ ہوتا ہے آنے والا ہر نیا چیئرمین اپنی مرضی کی کمیٹی تشکیل دیتا ہے ۔ہر نیا آنے والا چئیرمین انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی بجائے اپنی ہی کمیٹیوں کو بنانے میں مصروف عمل نظر اتا ہے۔

Pakistan

Pakistan

چیئرمین کرکٹ بورڈ کی آئے دن کی تبدیلی کی وجہ سے کرکٹ کو کس قدر نقصان ہو رہا اس کا اندازہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی مجموعی کارکردگی دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے اندر مختلف کھلاڑیوں کی مابین لڑائی جھگڑے اور تنازعات معمول بن چکے ہیں۔ جس کے باعث کئی نامور اور اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑی آج بیرون ملک مختلف کلبوں میں کاونٹیز کھیلنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ایسا کیوں ہے۔

ہمارے ملک کے کھلاڑیوں کے لئے پاکستان میں کھیلنے کے لئیے مناسب اقدامات نہیں ہو رہے ۔ آج ضرورت اس امر کہ ہے کہ ہمارا برسر اقتدار طبقہ اور پی سی بی کے پیٹرن ان چیف میاں نواز شریف اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اور مستقل چئیرمین کی تقرری کو یقینی بنایا جائے ۔ تاکہ لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں بسے اس کھیل کو پاکستان میں بحال کیا جاسکے اور ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔

Zubair Ahmed Bhatti

Zubair Ahmed Bhatti

تحریر: زبیر احمد بھٹی