یورپ میں کرپشن

Corruption

Corruption

پاکستان میں دوچار لاکھ یا کروڑ کی کرپشن تو کسی زمرے میں نہیں آتی جس ہائی ٹیک سے بڑے پیمانے پر یورپ میںکرپشن کی جاتی ہے پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستانی کھلا ڈھلا کرپشن کرتے ہیں اور قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی قیمت لگاتے ہیں جبکہ یورپ میں قانو ن کو ایک غیر اہم جز سمجھ کر سر کاری و غیر سرکاری افراد پیپرز ورک میں رد وبدل کر کے اسکی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ پاکستان میں انصاف کی کرسی لولی لنگڑی ہو کر بھی قائم رہتی ہے اور کرپشن میں ملوث افراد کو کرپشن کے ذریعے ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے جبکہ مغربی ممالک میں جرم اور کرپشن ثابت ہونے پر بڑے سے بڑا مگر مچھ معمولی سی غلطی کے سبب باقی ماندہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارتا ہے اور قانون پر آنچ نہیں آتی ،اس کالم میں چند بااثر بلکہ حکمرانوں کی کرپشن کے کارنامے بیان کر رہا ہوں کہ دنیا میں آج کل کرپشن ایک معمولی، بے وقعت اور بے معنی لفظ رہ گیا ہے۔

یورپ کے کسی ملک میں اتنی کرپشن نہیں جتنی اٹلی میں پائی جاتی ہے، اٹلی کے سابق وزیر اعظم برلسکونی ساٹھ ارب یورو کی کرپشن کے ذمہ دار ہیں،رپورٹ کے مطابق اٹلی میں کرپشن کے خوفناک حالات ہیں ، حکومت کئی میلین یورو تعمیرات کے لئے ادا کرتی ہے جو کبھی مکمل نہیں ہوتیں،سڑکیں، ہوسپٹل اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری پروجیکٹس انڈر کنسٹرکشن ہیں بڑی رقوم سیاست دانوں اور ان کی پارٹنرز فرمز کے اکاؤنٹس میں چلی جاتی ہیں ،جس سے عوام کو شدید نقصان پہنچتا ہے،برسلز میں واقع یورپی کمیشن کا کہنا ہے اٹلی میں اندازاً ایک سو ساٹھ کھرب یورو کی کرپشن کی جا رہی ہے جو کہ یورپ میں ریکارڈ ہے۔

کمیشن کی تحقیقات کے مطابق سیاستدانوں اور تجارتی اداروں کے درمیان تعلقات ایک مکمل اور منظم مافیا نیٹ ورک ہے جو سسلی سے ساؤتھ ٹیرول تک پھیلاہوا ہے اتنی کرپشن یورپ کے کسی ملک میں نہیں،یہ معاملات واقعی بہت متاثر کن ہیں، صرف دوہزار بارہ میں ہی اہم نصف صوبائی سیاستدانوں کے خلاف کارورائی کا آغاز ہوا، دو سو شہروں میں میونسپل کونسلوں کے ممبر مافیا کے رکن قرار دئے گئے، اور کرپشن کے الزام ثابت ہونے پر برخاست ہوئے، تیس سے زائدارکانِ پارلیمنٹ غیر قانونی پارٹی فنڈنگ میں ملوث پائے گئے جو بلیک چینل سے پارٹی کو فنانس کرتے تھے،اور بدستور جاری ہے۔

کوئی ایسا دن خالی نہیں جاتا کہ اٹالین میڈیا کرپشن کیس نشر نہ کرے،کرپشن کے ان پیسوں کو شاندار دعوتوں میں اڑایاجاتا ہے یا مہنگی کال گرلز پر لٹا دیا جاتا ہے،قیمتی گاڑیاں اور بیش قیمت فلیٹس تحائف میں دئے جاتے ہیں،ان تمام عیاشیوں میں تاجر،اعلیٰ سرکاری حکام اور سیاست دان شامل ہیں، یورپی کمیشن کا کہنا ہے کرپشن ایک سنگین صورت حال اختیار کر گئی ہے، خاص طور پر کرپشن مافیا کے خلاف یورپی عدالتوں کی سست رفتاری کے عمل سے قصور واروں کو سزائیں دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

برلسکونی چھ بار عدالت کی سست رفتاری کے باعث سزا سے بچ گئے اور باعزت بری بھی ہوئے ،انہوں نے ججوں ، پولیس اور سابق وزراء تک کو بھاری رشوت دی،انہوں نے وزارت قانون کے خاص اہلکار کو قوانین میں تبدیلی کرنے اور ان کے خلاف کارورائی روکنے کے علاوہ غلط اکاؤنٹنگ کرنے پر بھاری رقوم ادا کیں،آج برلسکونی کی حکومت نہیں ہے لیکن اس کے اثرات باقی ہیں، ان کے جانشین اب بھی بد عنوانی اور ہیرا پھیری کرتے ہیں بالخصوص ٹیکس میں خرد برد سر فہرست ہے،لیکن یورپی کمیشن موجودہ حکومت سے کسی حد تک مطمئن ہے اور کرپشن کے خلاف جو سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے اس سے مثبت نتائج کی امید ہے۔

گزشتہ دنوں جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اٹالین وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ موجودہ ملکی اقتصادیات میں اصلاحات کے پیکج سے کافی متاثر ہوئی ہیں ،لیبر مارکیٹ میں متعدد تبدیلیاں کرانے اور قومی سطح پر مانگ بڑھانے کے ارادوں کا خیر مقدم کیا اور خواہش ظاہر کی کہ جلد ازجلد روزمرہ کی بنیادی اصلاحات پر عمل درآمد ہوں،ان کا کہنا ہے کہ کم اجرت والے ملازمین کے لئے دس بلین یورو تک کی ٹیکس کی چھوٹ ،کارپوریٹ ٹیکسز کی مد میں دو اعشاریہ چار بلین یورو کی کمی سمیت سرمایہ کاری اور بے روزگار افراد کیلئے سہولیات میں اضافہ خوش آئند قدم ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ اٹالین حکومت کس حد تک کرپشن پر قابو پاسکتی ہے؟

فرانس کے سابق صدر سرکوزی پر بھی بد عنوانی کے الزامات ثابت ہوئے اور عدالتی حکام نے نکولس سرکوزی کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا اس سے قبل سابق صدر شیراک کو بھی کرپشن کیس میں سز اہو چکی ہے، سرکوزی پر دیگر الزامات کے علاوہ لیبیا کے آمر قذافی کو غیر قانونی مالی امداد کا بھی الزام تھا،اکاؤنٹنگ فراڈ میں بائیس میلین یورو کی کرپشن کا الزام ثابت ہوا،ان کو کئی سکینڈلز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اور رپورٹ کے مطابق وہ دوہزار سترہ کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،ان کی پارٹی پرکرپشن اور بدنامی کا داغ لگ چکا ہے۔جرمنی اور فرانس کے سفارتی تعلقات تاریخی ہیں دونوں ممالک کے رہنما یورپ میں ہونے والے مختلف واقعات میں ہمیشہ قدم سے قدم ملا کر چلے ہیں آج بھی فرانس کی موجودہ پالیسیوں پر جرمن حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

UK Parliament

UK Parliament

فرانسیسی صدر اولانڈے سے انجیلا میرکل کی ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی موجودہ اصلاحات پر عمل درآمد کے لئے جرمن حکومت ہر وقت تیار ہے۔ برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ پر ایک لاکھ پونڈ بینی فٹس فراڈ کا پردہ فاش۔برطانیہ میں یورپ مخالف رکن پارلیمنٹ سے پولیس تفتیش کاروں نے ان کے اثاثوں کے بارے میں رپورٹ تیار کی اور الزام لگایا کہ کئیر ہوم میں سرکاری اخراجات میں خرد برد کی گئی ایک سال سے چلنے والی تفتیش کے بعد انکشاف کیا گیا کہ ان کے گھر پر چھاپہ مارنے پر کئی فائیلیں اور دستاویزات قبضے میں لیں گئیں جن میں تمام ثبوت موجود ہیں ،کیس مقامی عدالت کے سپرد کیا گیا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

جرمنی کے سابق صدر کرسٹئین ولف پر کرپشن کے الزامات۔ہانوور کے پبلک پراسکیوٹر نے سابق صدر کے خلاف میڈیا کی تمام رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے اور تحقیقات کو تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہونے کا عندیہ دیا ہے،سابق صدر پر ہوٹل بل اورایک فلم ساز کے ساتھ کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات تھے ،آخری اطلاعات تک ان پر جرم ثابت نہیں ہو سکا لیکن انہیں صدارتی عہدہ سے دستبردار ہو نا پڑا۔جرمنی میں بھی کرپشن کا بول بالا ہے کئی ادارے غیر سرکاری فرمز اور چھوٹے بڑے اہل کار کرپشن کی دلدل میں ملوث ہیں بالخصوص کنسٹرکشن فرمز سرکاری اداروں سے مل کر کرپشن کرتی ہیں ایک مثال برلِن ائر پورٹ کی ہے۔

جو کئی سالوں سے انڈر کنسٹرکشن ہے ہر سال دو سال بعد نئی کنسٹرکشن ٹیم اسے مکمل کرنے کا دعوا کرتی اور عین تکمیل کے آخری مراحل میں کوئی نہ کوئی کرپشن ثابت ہونے پر کام میں روکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور نئے سرے سے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے پھر دو سال بعد نیا ڈراما شروع ہو جاتا ہے یونان، سپین، پرتگال اور بالقان ممالک میں بھی کرپشن کے کئی واقعات رونما ہوئے اور روزبروز اضافہ ہو رہا ہے کرپشن کو روکنے کے لئے حکومتیں نئے قوانین بناتی ہیں ان پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے لیکن۔۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغربی ممالک میں سرکاری یا غیر سر کاری سطح پر کرپشن کی جاتی ہے تو تفتیش کار دن رات انویسٹی گیشن کے بعد مجرموں کو حراست میں لینے کے بعد عدالتوں اور ججز کے حوالے کر دیتے ہیں ماہ و سال مزید تفتیش کی جاتی ہے اور مکمل ثبوت ہونے پر سزا دے دی جاتی ہے ،لیکن پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ کیوں ایک غریب بے گناہ کو پولیس کسٹڈی میں تشدد سے قتل کیا جاتا ہے اور کیوں ایک بااثر پولیس ،وکلاء اور ججز کو خرید کر باعزت بری ہو جاتا ہے۔

جب تک پاکستان میں ادارے ایمانداری ،اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلے نہیں کریں گے ملکی حالات بہتر نہیں ہونگے ،اس لئے ہم سب کو چاہئے کہ تہہ دل سے کرپشن کرنے کی بجائے ایمانداری کی رسی کو تھامیں۔

Shahid Shakeel

Shahid Shakeel

تحریر ۔۔۔ شاہد شکیل۔۔۔ جرمنی