پاکستان ہماری پہچان

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

وزیراعظم پاکستان میاں میں محمد نواز شریف نے جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان دیں گے۔ پاکستان ہماری پہچان ہے۔ بے شک پاکستان ہماری پہچان اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ پاکستان میرا ہے آج یہ بات میں ہرگزنہ کہہ پاتا اگر میرے بڑوں نے انگریزوں اور ہندئوں سے آزادی نہ حاصل کی ہوتی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے پر امن جدوجہد سے دنیا پر واضح کردیا تھا کہ وہ اپنے لئے ایک آزاد ریاست کے حق دار ہیں جس میں اپنے دین اسلام کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنے ذاتی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے حصول آزادی کی خاطر اپنے تن ،من اور دھن کی قربانی کے جذبے کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی تو بلا آخر 14 اگست 1947ء کے دن برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی مل گئی۔

آج ہم اُسی آزادی کو پاکستان کے نام سے جانتے ہیں ۔ آج میں بڑے فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر خود کو پاکستانی کہتا ہوں اور کیوں نہ کہوں پاکستان میرا وطن ہے ۔وقت اچھا ہویا برا میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ جہاں کہیں بھی میرے وطن کو میری ضرورت پڑی ہر محب وطن پاکستانی کی طرح جان حاضر کردوں گا۔ آج دشمن مختلف طریقوں سے میری پاک سرزمین پر اپنی ناپاک نظرجمائے بیٹھا ہے۔ آج میرے وطن کو ہر قدم پر کسی نہ کسی محاذ کا سامنا ہے جن میں ڈورون حملے، خودکش دھماکے، دہشتگردی، توانائی بحران، بھتہ خوری اور دیگر کے ساتھ بھارت کا جنگی جنون سرفہرست ہے۔ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائنز کی مسلسل خلاف ورزیاں بلا شبہ خطے کے امن کے لئے خطرناک ہیں۔

Pakistan Army

Pakistan Army

بھارت کے اندر بیانات اور میڈیا مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف اشتعال پھیلایا جا رہا ہے۔ ممبئی اور دہلی میں پی آئی اے دفاترز پر حملوں کی دھمکیاں دی گئی جبکہ انتہا پسندی کی انتہا کرتے ہوئے پاکستانی سفارت خانے اور دوستی بسوں پر حملے کے کئے گئے۔ پاکستان کے خلاف اس تازہ مہم جوئی کے لئے چند روز پہلے بھارتی حکام نے یہ بے بنیاد الزام لگایا کہ کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی فائرنگ سے پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے فوری طور پر واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا لیکن بھارت کی جانب سے مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کا جنگی جنون نہ صرف خطے بلکہ دنیا کا بچا کچا امن تباہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ مجھے جنگ ہرگز پسند نہیں لیکن اگر بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو پاک دھرتی کا بیٹا ہونے کاحق ادا کرنے میں دیر نہیں کروں گا۔ میرے نزدیک کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں صرف سیاسی چھیڑ چھاڑ ہیں اور بزدل بھارتی حکمران اور فوج پاکستان کے بہادر جوانوں کا میدان جنگ میں سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

لیکن بڑے ہی فکر اور دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک محاذ ایسا ہے جہاں بھارت اور مغرب مل کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کو آدھی سے زیادہ شکست دے چکے ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ جس محاذ پر ہم کمزور ہو رہے وہ تہذیبی محاذ ہے بزدل دشمن ہمیشہ سامنے کی بجائے پیچھے سے وار کرتے ہیں۔ پاکستان کے دشمن بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ میدان جنگ میں پاکستانی فوج اور قوم کو شکست نہیں دے سکتے اس لئے اُنہوں نے ہمارے خلاف تہذیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔شراب نوشی، زنا، سود خوری، ناچ گانا، عوتوں کا فحش لباس اور فحش گفتگو یہ تمام چیزیں ہندئو تہذیب کا حصہ ہیں۔ بھارت نے اپنے میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے یہ تمام لعنتیں مسلم معاشرے میں پھیلانے پر خوب زور دے رکھا ہے جس میں اُسے کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

لیکن بھارت پاکستان کے تحمل اور امن پسندی کو کمزوری تصور نہ کرے۔ میں ذاتی طور پر دور حاضر کی جنگوں کو کسی مسئلے کاحل نہیں سمجھتا، ریاستیں فتح کرنے والے سپہ سالار میدان جنگ میںسب سے آگے لڑا کرتے تھے جبکہ آج کے حکمران پرسکون ماحول میں بیٹھ کر غریب عوام کے بچوں کو میدان جنگ میں مرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیاں دنیا کو نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کے لئے کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے یہ سوچ کر ہی انسان کو اوسان خطا ہونے لگتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے پاکستان کی تو پاکستانی امن پسند قوم ہیں۔ ہم صرف اپنے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے امن کی خواہش رکھتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی بھارت کو ماضی کی تمام تلخیاں بھلا کر دونوں ملکوں کے درمیان تمام اہم معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دے کر پوری دنیا کو امن پسند ہونے کا پیغام دے دیا ہے۔ اگر پھر بھی بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو ہماری بہادر فوج پاک سرحدوں کی حفاظت کرنا اور دشمن کو ناکوں چنے چبوانا جانتی ہے۔ بھارت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میدان جنگ میں صرف پاکستانی فوجی نہیں بلکہ پوری قوم لڑا کرتی ہے جسے شکست دینا بھارت کے بس کی بات نہیں۔ ہم جذبہ شہادت لئے خالی ہاتھ میدان جنگ میں اُتر جاتے ہیں تو ہمارے جسم دشمن کے لشکروں کو تباہ و برباد کرنے والا بارود بن جایا کرتے ہیں۔

Imtiaz Ali Shakir

Imtiaz Ali Shakir

تحریر : امتیاز علی شاکر
imtiazali470@gmail.com