fbpx

فلپائن بھارت سے اینٹی شپ میزائل سسٹم خریدے گا، معاہدہ ہو گیا

Anti-Ship Missile System

Anti-Ship Missile System

منیلا (اصل میڈیا ڈیسک) فلپائن نے اپنی بحریہ کی عسکری صلاحیت میں اضافے کے لیے بھارت سے تقریباﹰ چار سو ملین ڈالر کے اینٹی شپ میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلپائن کے وزیر دفاع کے مطابق اس بارے میں دونوں ممالک کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن کے دارالحکومت منیلا سے ہفتہ پندرہ جنوری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی بحریہ کے لیے بھارت سے خریدے جانے والے ان میزائل سسٹمز کی مجموعی قیمت 375 ملین ڈالر بنتی ہے۔

ساحلی علاقوں میں نصب کیے جانے والے ان میزائلوں سے سمندر میں دشمن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔

بھارت ان میزائلوں کی تین بیٹریاں فراہم کرے گا۔
فلپائن کے وزیر دفاع ڈیلفن لورینزانا نے جمعے کو رات گئے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ بھارت اور فلپائن کی حکومتوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے تحت منیلا کو ان اینٹی شپ میزائل سسٹمز کی تین بیٹریاں بھارت کی ایک نجی دفاعی کمپنی براہموس ایروسپیس مہیا کرے گی۔

ساتھ ہی براہموس ایروسپیس کی طرف سے منیلا کی لاجسٹک سپورٹ کرتے ہوئے فلپائن کی بحریہ کے اہلکاروں کو ان میزائلوں کی دیکھ بھال اور انہیں چلانے کی تربیت بھی دی جائے گی۔

پاکستانی میزائل اور ان کی رینج
پاکستانی بلیسٹک میزائل پروگرام کم فاصلے سے لے کر درمیانے فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائلوں سے لیس ہے۔

خریداری کا منصوبہ پانچ سال پرانا
بھارت فلپائن کو جو میزائل سسٹم مہیا کرے گا، ان کی خریداری کوئی نیا فیصلہ نہیں۔ اس بارے میں بات چیت 2017ء سے مختلف مراحل میں جاری رہی تھی مگر اس میں منیلا کے بجٹ سے متعلق فیصلوں اور کورونا وائرس کی عالمی وبا جیسے عوامل کے باعث مسلسل تاخیر ہوتی رہی تھی۔

ساحلی علاقوں میں نصب کیے جانے والے یہ میزائل ان دشمن یا غیر ملکی بحری جہازوں کو دور رکھنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جو فلپائن کے 200 سمندری میل کے علاقے پر پھیلے ہوئے اقتصادی زون میں بلا اجازت داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

بھارت کے ساتھ اینٹی شپ میزائل سسٹم خریدنے کا جو معاہدہ اب طے پا گیا ہے، وہ فلپائن کے اس پانچ سالہ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملکی افواج کو جدید تر بناتے ہوئے ان کی دفاعی اہلیت میں اضافہ کرنا ہے۔ منیلا حکومت کے مطابق 300 بلین پیسو (5.85 بلین ڈالر) مالیت کا یہ دفاعی پروگرام اس وقت اپنے آخری مراحل میں ہے۔

فلپائن کی مسلح افواج کے پاس موجودہ عسکری ساز و سامان اتنا پرانا ہے کہ اس کے کچھ جنگی بحری جہاز دوسری عالمی جنگ کے زمانے کے ہیں اور کچھ ہیلی کاپٹر تو ایسے بھی ہیں جو امریکا نے ویت نام کی جنگ میں استعمال کیے تھے۔

قبل ازیں فلپائن نے 2018ء میں اسرائیلی ساختہ اسپائک ای آر نامی وہ نیول ڈیفنس میزائل بھی خریدے تھے، جو ملکی بحریہ کے ایسے اولین میزائل تھے، جنہیں بحری جہازوں سے فائر کیا جا سکتا ہے۔