گلابی نمک اور بھارت

Pink Salt

Pink Salt

تحریر : محمد جواد خان

سر سبز و شاداب، پر امن و پر سکون ہما را وطن عظیم ملکِ پاکستان، جس کی ترقی کی ہر راہ میں رکاوٹیں پیدا کر کے پاکستان کی ہر خوشی کو غم میں تبدیل کرنے کی سازشیں کرنے والا ، ہمارا ازلی و ابدی دشمن دیش بھارت نے ناجانے کب پاکستان سے گلابی نمک کی تجارت شروع کی جو کہ بھارتی پنڈتوں کی ایک اور سازش پر مبنی سودا بازی ہے ۔ ہمارا دیش ملکِ پاکستان نعمت خداداد سے مالا مال عظیم وطن ہے جس کو قدر ت نے عظیم اور بے شمار ذخائر سے مالا مال کیا ہوا ہے اُنہی میں سے پاکستان میں پایا جانے والا نایاب گلابی نمک بھی خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں مگر بدقسمتی ہماری ۔۔۔ کہ ہمارے ہی کچھ عناصر نے بھارت کے ساتھ نمک کی خرید و فروخت کا معاہدہ کیا جو کہ بھارت ہم سے مٹی کے بھائو پر خرید رہا ہے اور خود اسی نمک کو خوبصورت پیکنگ میں بند کر کے اوپر ہمالیہ کا لیبل لگا کر عالمی مارکیٹ میں ہزار گناہ زیادہ منافع پر فروخت کر تا آ رہا ہے ۔ اور اوپر سے نمک حرامی بھی ہم سے کر کے آئے روز ہمارے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں معدنی نمک نہ ہونے کے برابر ہے صرف ہما چل کے صوبے میں ایک جگہ سے معدنی نمک کی کان دریافت ہوئی ہے وہ بھی کالا نمک ۔۔۔مگر بھارت ہمارے ساتھ اب بھی مکار چالیں چل کر ہم کو بے وقوف بنا رہاہے ۔ گویا کہ پاکستان کے ساتھ وہ معاہد ہ ہے کہ جس میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور کا بھٹے کے مالک کے ساتھ ہوا ہوتا ہے۔

پاکستان کو صرف اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ سیاحوں کے آنے سے کان میں رونق لگی رہتی ہے مگر بھارت کے ساتھ تجارت اور گلابی نمک کی افادیت اور قیمتوں کے بارے میں نہ عوام کو خبر ہے اور نہ حکومت بالا اور مجاذ محکموں کو کہ وہ اس بارے میں بھی کوئی نظر ثانی کر کے ملک کے ذخائر کی حفاظت کر کے خود اصل منافع کی طرف توجہ دیں ۔ بات صرف کھیوڑہ کے کان سے نکلنے والے گلابی نمک کی ہی نہیں بلکہ پاکستان اپنے ملک سے خود سونا اور تانبا تک نہیں نکال سکتا ۔ بلوچستان میں سینڈک اور رکوڈیک منصوبے برائے نام معاوضے پر دوسروں کے حوالے کر کے خو د صرف تماشا بن کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔

ان کو روک بھی نہیں سکتے کیونکہ ایسی بین الاقوامی کمپنیاں عالمی مافیا کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کو عالمی عدالت انصاف کا تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے ۔ جب ہم ان کو روکیں گئے یا معاہد ہ ختم کریں کے تو ہرجانے کے طور پر بھاری جرمانہ ہم پر ڈال دیا جائے گا ۔ اب بس صرف اتنا ہے کہ اپنے ملک کا سونا باہر مٹی کے بھائو جاتے ہوئے صرف تماشا دیکھتے رہو۔ ایک نمک کے معاہدے پر ہی نظر ثانی کر لی جائے اور کوئی پالیسی ایسی اختیار کرے یا بنائے جس کی بدولت ملک کے ذخائر کا ملکِ پاکستان کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔

ملک کے ذخائر ہی ملک کو مالی مشکلات اور پریشانیوں سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کو رب العزت نے ہر نعمت سے نوازا ہے مگر بات پھر وہی کہ سمجھے گا کو ن۔ ۔۔۔ اپنے ہی ہاتھوں اپنے پائوں کاٹ رہے ہیں ہم ۔۔۔ خود تو بھوک سے مر رہے ہیں اور دوسروں کو بولتے ہیں کہ جائو منافع کھائو۔ ۔۔ معذرت کے ساتھ ہر جگہ اپنے مفادات کو ہی نہیں دیکھنا ہوتا ملک و قوم کے بارے میں جب بھی مثبت سوچ ہو گی تو ملک ترقی کرے گا یہ نہیں کہ اپنے اولا د اور جائیداد باہر بنا کر ملک کی عوام کو صرف ڈنڈے کھانے کے لیے سڑکوں پر نکالا جائے ۔ بلکہ اسی بے وقوف عوام کے فائدے کے لیے بھی کبھی کوئی پالیسی یا معاہد ہ کر کے تو دیکھو۔۔۔یہ بے وقوف نہیں بلکہ محب الوطن ہے جو ہمہ تن ملک ووطن کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار کھڑی ہوتی ہے ۔ ان کو درس یا سبق نہیں دیا جاتا بلکہ ان کے اندر جذبہ ایمانی موجود ہوتا ہے ۔ خدارا ملک و قوم کے فوائد کو سوچتے ہوئے سابقہ اداوار میں ہونے والے معاہدوں کے اوپر نظر ثانی کر کے ملک و وطن کو ان سنگین حالات سے نکالا جائے۔۔۔

Mohammad Jawad Khan

Mohammad Jawad Khan

تحریر : محمد جواد خان
aoaezindgi@gmail.com