غریبوں کی خیر خواہی

Pakistan

Pakistan

کراچی پاکستان کا دل ہے۔ یہاں ملک کی تمام سیاسی، سماجی اور دینی تنظیموں کے مراکز موجود ہیں۔ دنیا بھر کے ملکوں کے قونصل خانے اور ایمبیسیاں بھی موجود ہیں، بڑے بڑے تجارتی مراکز اور این جی اوز بھی ہیں، کراچی اپنے دامن میں اگر صدیوں پرانی تاریخی اور سماجی یادیں سمیٹے ہوئے ہے تو نئے دور کی تمام تر رعنائیاں بھی یہاں جلوہ گر ہیں۔ کراچی یقینا غریبوں کا شہر ہے،کراچی کبھی یقینا جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب، کیا اب بھی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کراچی دل والوں کا شہر تھا اب بے دل والوں اور قتل و غارت گری، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، بوری بند لاشیں، ٹارگٹڈ آپریشن، محاصرے اور نہ جانے کن کن بے ہنگم برائیوں کا مسکن بنتا جا رہا ہے۔ اب اس پر مفاد پرستوں، خود غرضوں اور خود سروں کا قبضہ ہے اس لئے کراچی شہر اپنی حالت پر خون کے آنسو رہ رہا ہے، گاہے بہ گاہے اپنے شہریوں کو بھی رُلاتا رہتا ہے۔پچھلے کئی برسوں سے کبھی اس شہر پر خوف کے بادل منڈلاتے ہیں تو کبھی در اندازی کا واویلا کیا جاتا ہے۔

کبھی دہشت گردی کے نام پر ہنگامہ تو کبھی کراچی کا سب کا، کے نام پر ماتم کیا جاتا ہے اور کبھی نئی نسل کی بے راہ روی کے نام پر شور مچایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ہماری سابقہ قومی دارالخلافہ پاکستان میں ہی کیوں ہو رہا ہے، اس کے بارے میں نہ کبھی سچے دل سے سوچا جاتا ہے اور نہ ہی کبھی سنجیدگی سے کوئی عملی قدم اٹھا یا جاتا ہے جس کی وجہ سے مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۔

کتنے شرم کی بات ہے کہ کراچی کو اب لوگ جرائم کا شہر کہنے لگے ہیں، آپ نے دیکھا کہ پچھلے دنوں قومی اسمبلی ہال میں ایک معمر، باریش اور بُردبار ممبر نے کس طرح کراچی کو دہشت گردوں کا شہر قرار دیا اور پھر بعد میں اپنے الفاظوں کی تصحیح کر دی۔وہ شہر جو کبھی امن و سکون کا گہوارہ تھا، اب بے سکونی اور خوف و دہشت کا مرکز بن گیا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں۔ لوگوں کا اپنے گھروں سے بے خوف و خطر نکلنا اور خیریت سے گھر واپس آ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔

Karachi

Karachi

کراچی کو حادثات کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ کئی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ دن بہ دن گاڑیوں میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور ملک کے طول و عرض سے روزانہ ہزاروں افراد کی آمد نے اس شہر کو بربادی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ اب یہاں حال یہ ہے کہ مرنے والا بھی پریشان ہے کیونکہ یہاں قبروں کے لئے قبرستانوں میں جگہ بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔اوراقبروںکی قیمتیں بھی آسمان پر جا پہنچی ہیں۔

خدا خیر کرے۔ یہاں ایسے ایسے لوگ بھی آباد ہیں جنہیں رہنے کے لئے گھر تک میسر نہیں لیکن ایک دوسرے کی مقابلہ آرائی میں قرضوں پر گاڑیاں خریدتے ہیں، جھوٹی شان اور شیخی بگھارنے میں آگے آگے رہتے ہیں اور گاڑی کھری کرنے کے لیے پڑوسیوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پوش علاقوں کی کیا ہی بات کریں اب تو پسماندہ علاقوں میں بھی گاڑیوں کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ گھروں سے لوگوں کا نکلنا دو بھر ہو جاتا ہے اور اگر کسی نے ہمت و جرأت کے ساتھ کسی کو ٹوکا تو اس کی خیر نہیں، اور پھر اُلٹا چور کوتوال کو ڈانتے کے مصداق جواب ملے گا کہ گاڑی کہاں کھری کروں؟

ہماری سڑکوں کا یہ حال ہے کہ سمندر کی مچھلیوں کی طرح گاڑیاں تیرتی رہتی ہیں اور جس طرح بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی رہتی ہیں اسی طرح بڑی گاڑیاں چھوٹی گاڑیوں کو اپنی خوراک بناتی رہتی ہے اور اب تو اس صورتحال میں روز افزوں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر جس طرح کسی منصوبے کے بغیر ہی پھیل رہا ہے اسی طرح اس کے چہار سُو گاڑیوں میں اضافے کے باعث شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار متاثر ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں پارکنگ کا مسئلہ الگ درپیش ہے۔ گاڑیوں کی چوری چکاری بھی عروج پر ہے۔

اکثر و بیشتر عوامی تقریبات اور مجمع و جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے لیڈران یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہماری پارٹی غریبوں کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری پارٹی نہیں چاہتی کہ ملک کا کوئی بھی غریب آدمی بھوکا سوئے، ان باتوں میں کوئی نئی چیز تو پیش نہیں کی جاتی کیونکہ ہر سیاسی پارٹی اپنے آپ کو ملک کے غریب اور محروم طبقات کے لئے مسیحا کے طور پر پیش کرتی ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے انگریزوں سے آزادی کے بعد غربت سے آزاد پاکستان کا خواب دیکھا اور دکھایا بھی تھا۔

Political Party

Political Party

لیکن چھ دہائی سے زائد کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے سیاسی رہنمائوں نے اس خواب کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ تبھی تو آج بھی غربت ایک حقیقت کے طور پر پاکستان میں موجود ہے۔ ملک کی اکثریت نہ صرف یہ کہ خود خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، بلکہ اس نے دنیا کے سامنے پاکستان کا سر بھی نیچا کر رکھا ہے۔ پاکستان میں غربت اور غریب کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔

محترم وزیراعظم صاحب نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ لیگ چاہتی ہے کہ کوئی بھی غریب بھوکا نہ رہے، بے گھر نہ رہے، سوال یہ ہے کہ غریبوں کی ترقی کی معراج صرف یہی ہوگی کہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا پیت بھر سکیں؟ کیا غربت کی بڑی وجہ بے روزگاری نہیں ہے؟ اس لئے پہلے بے روزگاری کو دور کیا جائے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے تو بھوک خود بخود ہو جائے گا۔

اگر موجودہ حکومت ان غریبوں کی حالت کو سدھارنے کے لئے واقعی مخلص ہے تو اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ لیکن ملک میں غریبوں اور مہنگائی کے حالات تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔ غریب جو آٹے سے روٹی حاصل کرتا ہے اس کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے، پیٹرول کی قیمت بلند ترین سطح پر بُراجمان ہے، اب تو صورتحال یہ ہے کہ غریب تو غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے بھی دو وقت کی روزی روٹی کا حصول دشوار گزار بن چکا ہے۔

ایک طرف اگر غریب اپنی روزی روتی کی وجہ سے فکرمند ہے تو دوسری جانب ملک کے عظیم رشوت ستانی اورکرپشن کے معاملوں میں ملوث لوگ ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو گئے وقتوں میں عوام کا خون چوس کر اپنی تجوری بھرنے والے بادشاہوں کو بھی میسر نہ ہوتی تھی۔ وزیراعظم صاحب نے چھ اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش بہترین ہے مگر کیا اس میں شفافیت کا عمل دخل ہوگا؟ کیا بلا رنگ و نسل و زبان ان اسکیموں پر عمل در آمد کیا جائے گا، یہ ان تمام اسکیموں میں بھی رشوت ستانی اور کرپشن کا دور دورہ ہو گا۔

یہ تمام معاملات بھی وزیراعظم صاحب کو خود ہی مانیٹر کرنا ہونگے تاکہ غریب اور متوسط لوگوں تک ان اسکیموں کے فوائد پہنچ سکیں۔اس کے علاوہ محترم وزیراعظم صاحب کو ایک اور بات باور کرانا چاہوں گا، جیسا کہ ہمارے یہاں روزگار کا حصول ناممکن ہو چکا ہے اس لئے اس دور میں اوسطاً چھ افراد پر مشتمل خاندان کے کسی ایک فرد کو روزگار کی ضمانت دی جائے تو بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غربت کی سطح پر کافی بہتری آ جائے گی۔و

Poor people

Poor people

اضح رہے کہ اکیسویں صدی میں بھی پاکستان میں ایسے غریب اور متوسط خاندانوں کی کافی تعداد ہے جنہوںنے نہ کھا کر بھی اپنی اولادوں کی تعلیم کے زیور سے روشناس کرایا ہے مگر بے روزگاری کی سطح اس قدر اونچی ہو چکی ہے کہ بے چارے یہ لوگ نوکریوں کے لئے در بدر بھٹک رہے ہیں مگر نوکری ان سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔

اوپر کی سطروں میں کراچی کا ذکر زیادہ کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ پاکستان کا دل ہے، یہاں ترقی ہوگی تو پاکستان ترقی کرے گا ، پاکستان کے لوگ ترقی کریں گے، اس لئے یہاں کے حالات نیک نیتی کے ساتھ سدھارے جائیں۔ سیاست بالائے سیاست کا کھیل ختم کرکے حقیقی امن قائم کیا جائے تاکہ وہ انڈسٹریاں جو بھتہ خوری کی لعنت کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں دوبارہ فعال ہو سکیں۔

لازمی امر ہے کہ امن و امان کا دور دورہ ہوگا تو ہر چیز درست سمت میں محو پرواز ہو سکے گا۔ امید ہے اربابِ اقتدار نیک نیتی سے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہوئے ہر سطح پر ہر معاملے کو سدھارنے کی کوشش کریں گے، خدا ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین
تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی