دہشتگردی اور خوف پھیلانے والا دشمن، آرڈیننس جاری

Terrorism

Terrorism

اسلام آباد (جیوڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ دہشت گردی اور خوف پیدا کرنے والے عناصر ریاست کے دشمن تصور ہوں گے۔ ایسے عناصر کے خلاف ریاستی قوانین کے تحت فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

دہشتگردی کی تحقیقات قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکورٹی ایجنسیاں مل کر کریں گی۔ عادی مجرموں کو مخصوص جیلوں میں رکھا جائے گا۔ سنگین جرائم کی تفتیش مخصوص تھانوں میں وفاقی استغاثہ کے ذریعے ہوگی۔ آرڈیننس کے مطابق پاکستان کے شہری غیر اعلانیہ اور لاحاصل جنگ کا شکار ہیں۔ تین عشروں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی سے سماجی مسائل پیدا ہوئے۔

آبادی اور جرائم میں اضافے اور روزگار کی کمی کے باعث صورتحال مزید ابتر ہو گئی۔ 11 سالہ جنگ سے معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو 100 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے نئی قانون سازی ہو گی۔ عوام کے جان اور مال کی حفاظت تمام اہلکارروں کی بنیادی ذمہ داری ہوگی اور امن اومان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی بلا امتیاز ہوگی۔