لانگ مار چ کی سیاست

PTI

PTI

کی جانب سے 14اگست کو ڈی چوک تک لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت نے بھی اسے روکنے کی بھر پور منصوبہ بندی کر لی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کہتے ہیں کہ14 اگست کی مرکزی تقریب ڈی چوک میں ہو گی ،عمران خان یوم آزادی پریوم بربادی کا تصور نہ دیں، پاکستان اپنی سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے، وہ اپنا جھنڈا نیچا رکھیں، سڑکوں پر یلغار کی سیاست ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور دہشت گردوں کے لیے مددگار ہو سکتی ہے۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کہتے ہیںکہ میں عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یوم آزادی کو یوم احتجاج میں تبدیل اور قوم کو تقسیم کرنیکی کوشش نہ کریں، ملک حالت جنگ میں ہے اس روز کسی جماعت کا نہیں بلکہ سبزہلالی پرچم لہرانا چاہئے۔

میرا یا عمران خان کا یوم پیدائش تو تبدیل ہو سکتا ہے مگر اس ملک کا یوم آزادی اور دارالحکومت تبدیل نہیں ہو سکتا،ویسے عمران مارچ کرنا چاہئیں تو انہیں آزادی ہے مگر اس کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ نے کرنا ہے ، یہ وقت سیاسی قیادتوں کے آپس میں لڑنے کا نہیں بلکہ قوم کے محافظوں کی پشتی بانی کا ہے جو شمالی وزیر ستان میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں حکومت حسب سابق یوم آزادی شایان شان طریقے سے منائے گئی جس کی اصل تقریب اسلام آباد میں ہو گی جس میں عمران خان سمیت تمام سیاسی رہنمائوں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن آزادی مارچ میں شرکت کے لئے تمام حائل رکاوٹیں عبور کر کے اسلام آباد ضرور پہنچیں گے،14 اگست کو آزادی مارچ پر امن ہو گا، اگر حکومت نے رکاوٹیں کھڑی نہ کیں تو پھر تصادم کاکوئی خدشہ نہیں۔ آزادی مارچ میں شرکت کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی اور جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی کئے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے ماضی میں ہونے والے جلسے پر امن تھے اب 14اگست کا مارچ بھی پر امن ہو گا۔ حکومت مخالف لانگ مارچ کے معاملے پر صورت حال میں تناؤ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں پر سیاسی تصادم کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے قدم پیچھے ہٹھانے سے انکار کر دیا ہے لانگ مارچ کے اعلان پر بدستور ڈٹے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے بھی انتظامات شروع کر دیئے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے لئے 13 اگست سے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بڑے بڑے قافلے راولپنڈی اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے ضلعی تنظیموں کو اس بارے میں متحرک کر دیا گیا ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ صورت حال معمول کے مطابق نہیں ہے اسلام آباد میں سیاسی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو 14 اگست کے آزادی مارچ کو محدود کرنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف تاحال اعلان پرڈٹی ہوئی ہے۔ لانگ مارچ کے لئے پاکستان تحریک انصاف آئندہ ہفتے رابطہ عوام مہم تیز کر دے گی۔ 10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد میں جمع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں پارٹی کے ضلعی عہدیداروں کو اس بارے میں ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں اعلان کے حوالے سے قدم پیچھے نہ ہٹھانے اور ہر صورت ملین مارچ کرنے کے حوالے سے پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی گزشتہ روز بیان دے چکے ہیں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ضرور ہو گا۔

حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعت کے درمیان اس کشمکش کے نتیجہ میں اسلام آباد کی سڑکوں پر سیاسی تصادم اور سیاسی تناؤ کے شدت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت مخالف ممکنہ وسیع تر سیاسی اتحاد کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ بھاگ دوڑ سود مند ثابت نہ ہوئیں سب اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت تنہا پرواز کر رہے ہیں۔ حکومت کے خلاف وسیع تر سیاسی اتحاد کے لئے سرگرم مایوس ہو گئے۔ ایک بار پھر یہ عناصر تنہا رہ گئے ہیں۔ گرینڈ الائینس کے لئے ماضی میں حکمران اتحاد میں شامل بڑی جماعتوں کے بھی اپنے سابقہ حلیفوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا کوئی بڑی جماعت حکومت کو گرانے یا کمزور کرنے کی ” مہم ” کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ گرینڈ الائنس کی کوششوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

کسی بڑی جماعت کو اس اتحاد کے لئے قائل نہیں کیا جا سکا۔ اہم جماعتوں نے واضح کر دیا ہے کہ ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر موجودہ جمہوری سیٹ اپ کو کمزور کرنا پارلیمانی سیاسی نظام کو دھچکا پہنچانے کے مترادف ہو گا۔اہم جماعتوں نے وسیع تر اتحاد کی تشکیل سے انکار کر دیا ہے۔ وسیع تر اتحاد کی کوششوں کرنے والے تنہا رہ گئے ہیں۔ ماضی میں وہ جس حکومت کے اتحادی رہے تھے آپس میں شامل بڑی جماعتوں نے بھی ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔حکومت مخالف وسیع تر اتحاد کی کوششوں کرنے والوں سے بعض جماعتوں کے رہنما حکومت کو دباؤ اور خوفزدہ رکھنے کے لئے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

North Waziristan

North Waziristan

تاہم انہوں نے اپنے ان دوستوں سے حکومت کے خلاف کسی وسیع تر اتحاد کا حصہ بننے سے معذرت کر لی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی خود کو انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے اور اس مقصد کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے تک محدود رکھے گی۔ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کے 14 اگست کے لانگ مارچ پر تند و تیز بیانات اور پرویز مشرف کے مواخذے کے معاملے پر کھڑا ہونے والے نئے تنازعے سے شمالی وزیرستان ایجنسی میں جاری آپریشن ضرب عضب کے باعث 9 لاکھ سے زائد نقل مکانی کرنے والے بے گھر افرعاد کی آواز دب کر رہ گئی انسانی المیے کے خدشہ بڑھ گیا۔ بڑی جماعتو ں کی نظروں سے بے گھر افراد کے مسائل و مشکلات اوجھل ہونے لگے۔ کیمپوں اور ہسپتالوں میں موجود بے گھر افراد کے مسائل بڑھنے لگے۔ ممکنہ انسانی المیہ سے بڑی جماعتوں کی توجہ اسلام آباد کے لانگ مارچ اور پرویز مشرف کے مواخذے کے معاملے کی وجہ سے ہٹھ گئی ہے بڑی جماعتوں کے رہنما ان معاملات پر بیان بیازی کے لئے مورچہ زن ہو گئے۔

رمضان المبارک اور گرمی کے اس شدید موسم میں ان جماعتوں کی جانب سے شمالی وزیرستان ایجنسی کے بہنوں اور بھائیوں کی امداد سے توجہ ہٹھ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرین کی حالت زار انتہائی خراب ہے۔ شمالی وزیرستان سے 4 اور 5 دن کی مسافت کے بعد پیدل بنوں پہنچے۔ سارے متاثرہ خاندان بالخصوص خواتین اور بچون کی صحت تاحال بحال نہیں ہو سکی ان کی صحت تسلی بخش نہیں ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد بچے شامل ہیں اسی طرح بے گھر افراد میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

لانگ مارچ 14 اگست کو ڈی چوک میں سرکاری تقریب اور اب پرویز مشرف کے مواخذے کے معاملے پر کھڑے ہونے والے نئے تنازعے پر حکومتی زعما پاکستان مسلم لیگ ( ن ) ، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے تیز و تند بیانات سے متاثرین شمالی وزیرستان ایجنسی کے مسائل نظر انداز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان جماعتوں کی جانب سے تاحال اپنی جماعتوں کی سطح پر بھی امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی جاسکی ہیں۔ متاثرین کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ مشکلات بڑھ رہی ہیں جب کہ اس اہم نازک موقع پر بڑی جماعتیں غیر ضروری ایشوز میں الجھ کر رہ گئیں ہیں اور الفاظ کی جنگ سے ایک دوسرے کو زیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

Mumtaz Awan

Mumtaz Awan

تحریر:ممتاز اعوان
برائے رابطہ:03215473472