ووٹ بس کردار کے لیے ۔۔ نہ دولت کے لیے ۔۔ نہ دھونس کے لیے۔ زبیر کیانی

Zubair

Zubair

اسلام آباد : آزاد امیدوار برائے حلقہ NA – 56 اور PP-13 نے اپنے ایک نکاتی انتخابی منشور اور انتخابی نعرے کا اعلان کر دیا۔ زبیر کیانی نے اپنے دفتر میں اپنے انتخابی حلقہ سے ائے ہوئے لوگوں، اپنے دوستوں اور ورکرز کے ساتھ اپنی الیکشن حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ہمارا انتخابی نعرہ یہ ہے کہ ” ووٹ بس کردار کے لیے ۔ نہ پارٹی کے لیے ۔۔ نہ مال کے لیے ۔

ووٹ بس کردار کے لیے۔نہ دولت کے لیے ۔۔ نہ دھونس کے لیے۔ ۔ووٹ بس کردار کے لیے ” ۔ انھوں نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ٹینڈے، کدو یا آلو میں داغ ہوں تو ترازو سے نکال کر دکاندارکو واپس کر دیتے ہیںاور خریدتے نہیں۔ کپڑے پر دھبہ ہوتو واپس کر دیتے ہیں۔ بندے کی شہرت اچھی نہ ہوتومکان کرائے پر نہیں دیتے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کردار ہی اصل چیز ہے! لیکن ہم جب الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔

تو امیدوار کے کردار کو اُتنی بھی اہمیت نہیں دیتے جتنی کہ ٹینڈے، کدو یا آلو کے داغ اور کپڑے کے دھبے کو۔ کیا اس لیے کے ہم ملک و ملت کے مفاد کو اپنا ذاتی مفاد نہیں سمجھتے یا اس لیے کہ ہم پر کسی کا خوف طاری رہتا ہے؟ یا ہم الیکشن کے شوروغل میں صحیح و غلط، کھرے اور کھوٹے کی تمیز بھول جاتے ہیں۔

انھوں نے پاکستانی اعوام سے اپیل کرتے ہوے کہا کہ خدارا اس با ر ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے قیمتی وقت سے چند منٹ ملک و ملت کے لیے نکال کراپنے حلقے میں موجود امیدواروں کے کردار کو ٹینڈے، کدو یا آلو کے داغ اور کپڑے کے دھبے جتنی اہمیت ضرور دیں۔اپنا ووٹ دینے سے پہلے ان کے کردار اور ماضی و حال کے بارے میں ضرور معلوم کریں کیونکہ یہ ووٹ آپ پانچ سالوں کے لیے دے رہے ہیں۔

آپ اپنے محلے میں خود کارنر میٹنگ کا انتظام کریں اور تمام امیدواروں کو باری باری دعوت دیں اور ان کے متعلق ان سے معلومات حاصل کریں تاکہ آپ کا ووٹ ڈالنے کا فیصلہ ضرورت ، حقیقت اور معلومات پر مبنی ہو۔ زبیر کیانی نے کہا میرا الیکشن لڑنے کا مقصد صرف ایک ہے کہ آپ اور آپ جیسے لوگوں کے ذہن سے یہ تاثر دور کروں کہ الیکشن لڑنا صرف اور صرف امیر لوگوں کا کام ہے۔

اور آپ جیسے لوگوں کا کام نہیں حالانکہ میرے اور آپ جیسے لوگ اس معاشرے کا 90% ہیں اور اس 90% آبادی کے مسائل اور اس سے پیدا ہونے والی تکالیف سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔ یہ تاثر ان 10% لوگوں کا پیدا کردہ ہے جن کے کتے کا ایک دن کا خرچہ دو کمروں کے مکان میں رہنے والے خاندان کے ایک ماہ کے برابر ہوتا ہے اور وہ اس 90% آبادی کے مسائل اور اس سے پیدا ہونے والی تکالیف کو کیسے محسوس کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ 10% لوگ آپ کے ووٹ کی طاقت سے خائف ہیں۔ یاد رہے کہ میں آپ میں سے ہوں اور معاشرے کے 90% لوگوں کی حقیقی نمائندگی کرتا ہوں اور دو بار الیکشن میں حصہ بھی لے چکا ہوں میرے الیکشن کا بجٹ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان ہوتا ہے۔

اور میں آپ کی مدد سے الیکشن میں کروڑوں روپے خرچ کرنے والے امیدوارں کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیتا ہوں۔ میرا الیکشن لڑنے کا مقصد پورا ہو جایئیگا اگر آپ یاآپ جیسے نمائندے اگلے الیکشن میں حصہ لیں گے اور ہمارے ملکی اورمعاشر تی مسائل بھی حل ہوجائینگے۔