ووٹ کا قومی دن اور ووٹر

Vote

Vote

تحریر : روہیل اکبر

قومی ووٹرز ڈے ملک بھر میں 7 دسمبر کو منایا جاتا ہے یہ دن 7 دسمبر 1970 کو ملک میں منعقد ہوئے پہلے عام انتخابات کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پھیلانا اورتمام طبقات کی انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنانا ہے اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریبا 22کروڑ سے تجاوز ہوچکی ہے اور ہماری کل آبادی کا نصف حصہ تقریبا 11کروڑ افراد بطور ووٹر الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرد ہے الیکشن کمیشن ملک میں آزاد اور منصفانہ الیکشن کروانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سر انجام دے رہا ہے اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس 127جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 74 پارٹیوں کو انکے انتخابی نشان الاٹ ہیں جبکہ 219ایسے نشانات ہیں جو آزاد ماحول میں الیکشن میں حصہ لینے والوں کے لیے مخصوص ہیں اس وقت قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 342،پنجاب کے اراکین کی تعداد371،سندھ اسمبلی میں اراکین کی تعداد 168،خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اراکین 145،بلوچستان اسمبلی کے اراکین 65،گلگت بلتستان اسمبلی کے 33اراکین اور آزاد کشمیر اسمبلی کے 49اراکین ہیں اسکے ساتھ ساتھ یونین کونسل بھی پاکستان میں انتظامی تقسیم کے لحاظ چھٹی اکائی ہے، یعنی سب سے پہلے وفاق پھر صوبہ پھر ڈویژن پھر ضلع پھر تحصیل اور پھر یونین کونسل۔ لیکن 2007 کے بعد ڈویژن ختم کر دیا گیا اس لیے اب یونین کونسل پانچویں اکائی بن گئی ہے۔ یونین کونسل بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) کا سب اہم حصہ ہوتا ہے۔

یونین کونسل حکومت میں 13 کونسلر ہوتے ہیں جن کی سربراہی ناظم اور نائب ناظم کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 6000 سے زائد یونین کونسلز ہیں ووٹ کے اندارج سے لیکر الیکشن کے تمام مراحل مکمل کرنے تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کا بہت اہم کردار ہیں اس ادارے میں بیٹھے ہوئے تمام افراد خراج تحسین کے لائق ہیں جو کم تعداد کے باوجود ایک بہت بڑا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں مگر ہمارے کچھ سیاستدان انکی تمام محنت پر اس وقت پانی پھیر دیتے ہیں جب وہ الیکشن ہار جاتے ہیں پھر وہ دھاندلی دھاندلی کا شور شروع کرکے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی باتیں کرتے ہیں ووٹ کو عزت دینے کی باتیں کرنے والے اپنے ہی اداروں اور اپنی ووٹروں کی عزت خاک میں ملانا شروع کردیتے ہیں 13دسمبر کو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے لاہور میں اپنے اپنے ووٹروں کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرلیں مگر اب تک کی صورتحال کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے گلگت بلتستان میں جتنے جلسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے کیے اور اپنے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش مگروہاں کی عوام نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ایسے صفایاکیاجیسے پیپلز پارٹی کا پنجاب میں ہوا تھا۔

گلگت بلتستان کی عوام انتہائی باشعور اور سمجھدار ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کا دور بھی دیکھا مسلم لیگ ن کا اقتدار بھی دیکھا سوائے کرپشن کے اور کچھ سامنے نہیں آیااور تو اور گلگت سکردو روڈ نہ بن سکا جب زرائع آمدورفت ہی نہ ہو تو علاقہ اور علاقہ کے لوگ کیسے ترقی کرینگے ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے عوام کے نام پر پہلے بھی خوب لوٹا اور اب پھر انکی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ایک بار پھر ایوان اقتدار میں داخل ہوجائیں اور اس کے لیے انہیں کوئی بھی طریقہ استعمال کیوں نہ کرنا پڑے اس وقت پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے انکی لوٹ مار کے بارے میں پوچھا جارہا ہے مگر وہ جلسہ جلسہ کھیلنا شروع ہوگئے ایک طرف کرونا نے عوام کو بے حال کررکھا ہے تو دوسری طرف ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ مار شروع کررکھی ہے اپوزیشن کو بھی معلوم ہے کہ انکے جلسوں سے حکومت ختم نہیں ہوگی مگر وہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر عوام کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنانے جارہے ہیں اس وقت ملک میں کرونا کے باعث لاک ڈاؤن جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے بڑے بڑے ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے بیڈز ختم ہوچکے ہیں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اپوزیشن اپنے مفادات کیلیے جو کھیل کھیل رہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔

بلاول بھٹو کرونا وائرس کا شکار ہیں مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر کرونا وائرس کا شکار ہیں ایک طرف عوام میں سماجی فاصلہ رکھنے پر زور دیا جارہا ہے تو دوسری طرف عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ کھڑا کردیا جاتا ہے اپوزیشن ناکام ایجنڈے پر کام کر رہی ہے وہ عوام کو سڑکوں پر لاکر مروانا چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم کا ایجنڈا ہے کہ کرونا پھیلے اور معیشت بیٹھ جائے پی ڈی ایم ووٹ کو عزت دو نہیں بلکہ ووٹروں کی جان لو جیسے انتشار کی سیاست کر رہی ہے اس وقت پوری دنیا کرونا سے لڑ رہی ہے۔ عمران خان اور بزدار حکومت کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ معیشت اور عوام دونوں کو بچائیں، لیکن اپوزیشن غیر سنجیدہ رویہ اپنائے ہوئے ہے انکی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح احتساب سے انکی جان چھوٹ جائے اور یہ بات اپوزیشن والے بخوبی جانتے ہیں کہا کہ احتجاج اور جلسوں سے حکومتیں نہیں گرتیں نہ حکومت پر کوئی فرق پڑتا ہے ہاں اگر ووٹروں کو نقصان پہنچے کسی نہ کسی طرح انکی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا جائے تب شائد کچھ نہ کچھ ہوجائے اور اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہ جلسے کیے جا رہے ہیں۔

ووٹ کو عزت دینے کی باتیں کرنے والوں نے کبھی بھی ووٹر کو عزت نہیں دی انکے نزدیک عوام بھیڑ بکریاں ہیں جب دل چاہا چارہ ڈالا اور دودھ نکال لیا اور اب دودھ نکالنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اپنی کرپشن بچانے کے لیے بھی عوام کو استعمال کرنا چاہتی ہے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو بھی ایک دوسرے کی دشمن ہوتی ہیں پیپلز پارٹی والے مسلم لیگ ن کے خلاف احتجاج کررہے ہوتے ہیں اور جب ن لیگ اقتدار میں آتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی والے انہیں گھر بھیجنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں الیکشن میں ایک دوسرے پر لوٹ مار کے انبار لگائے جاتے ہیں شہباز شریف بھاٹی چوک میں جلسہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آصف زرداری کو سڑک پر گھسیٹوں گا اور انکے پیٹ کے اندر سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کی جائیگی انہیں علی بابا اور چالیس چوروں کا نام دیا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی والے تو ایک سیکنڈ کے لیے بھی میاں نواز شریف پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے مگر اب دونوں کو اپنا مستقبل خطرے میں نظر آیا تو ووٹ کو عزت دینے کے بہانے اکھٹے ہوگئے اور کوشش میں ہیں کہ انکے خلاف کرپشن کے جو کیسز ہیں وہ ختم کردیے جائیں مزے کی بات یہ ہے کہ جن کیسز کو اب یہ ختم کروانے کے لیے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں یہ تمام کے تمام کیس انہوں نے خود ایک دوسرے پر قائم کیے ہوئے ہیں ابھی کل ہی کی بات ہے کہ نواز اور زرداری اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے لیے سازشیں کیا کرتے تھے اور آج اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں عوام کو سب سمجھ ہے مگر وقت کے انتظار میں ہیں کہ کب بدلے گا۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر