fbpx

جڑوں کی تلاش ( پہلی قسط)

girl typing

girl typing

ڈھمپ اینڈ کو کا دفتر بڑے مزے میں چل رہا تھا مگر اس کی منیجری کم از کم خاور کے بس کا روگ نہیں تھی کیونکہ بزنس کے چکروں کے لئے اس کا ذہن موزوں نہیں تھا۔ ذہن موزوں رہا ہو یا نہ رہا ہو لیکن صورت تو ضرور ایسی تھی کہ وہ کسی فرم کا منیجر معلوم ہوسکتا تھا! بھاری بھرکم بارعب چہرے والا۔۔!
چونکہ وہ بزنس کے معاملہ میں اناڑی تھا اس لئے اس کے کمرے میں لکڑی کی ایک دیوار سے پارٹیشنز کردیئے گئے تھے ایک طرف جولیانا بیٹھی ٹائپ رائٹر کھٹکایا کرتی تھی اور دوسری طرف خاور اپنی مینجری سمیت براجمان رہا کرتا تھا!
اگر کبھی کوئی نیا گاہک آجاتا اور خاور کو اسے ڈیل کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوتی تو جولیا کاغذات کا پلندہ دبائے دستخط کرانے کے بہانے اس کی میز پر آجاتی اور دوران گفتگو میں دخل اندازی کرکے خاور کو سہارا دیئے رہتی۔۔!

آج بھی کوئی بڑا گاہک خاور کی میز پر موجود تھا اور اپنے کام کے سلسلے میں بعض امور کی وضاحت چاہتا تھا! جولیا نے محسوس کیا کہ خاور رک رک کر گفتگو کر رہا ہے اور گاہک کے ٹوکنے پر بعض اوقات گڑبڑا بھی جاتا ہے۔۔!
وہ کچھ کاغذات سنبھالے ہوئے خاور کی میز پر جا پہنچی!
“اوہو۔ اچھا ہوا تم آگئیں۔۔” خاور نے کہا اور پھر گاہک سے بولا۔ ” یہ میری اسسٹنٹ ہیں سرسوکھے! میرا داہنا ہاتھ۔۔ اب دیکھئے آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کام کا تعلق زیادہ تر انہیں کی ذات سے ہوگا۔ حسابات وغیرہ کی پڑتال یہی کرتی ہیں”۔

جولیا نے اس گول مٹول آدمی پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔۔ یہ کچھ وجہیہ ضرور رہا ہوگا! مگر اب مٹاپے نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس کا اظہار الفاظ میں ناممکن ہے بس دیکھنے اور محسوس کرنے کی چیز تھی۔ قد تو متوسط ہی تھا مگر پھیلاؤ نے اس توسط کی ریڑھ مار کر رکھ دی تھی، صرف کناروں پر تھوڑے سے سیاہ بال تھے جو اگر سفید ہوتے تو اتنے برے نہ معلوم ہوتے۔

اس کے پیروں کے پاس ہی ایک ننھا منا سا خوبصورت کتا بیٹھا سرخ زبان نکالے ہانپ رہا تھا، جولیا نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔ اس کے بال بڑے اور سفید تھے۔ کان البتہ گہرے کتھئی تھے اور یہی اس کا حسن تھا۔

“سرسوکھے رام۔۔ اور مس جولیانا فٹنرواٹر۔۔!” خاور نے تعارف کرایا۔
سرسوکھے رام نے مسکرا کر سر کو خفیف سی جنبش دی۔
اور جولیانے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ” میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں جناب!”
وہ دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔ اتنی اردو تو سمجھتی ہی تھی کہ اس کے نام اور حبثہ کے تضاد سے لطف اندوز ہوسکتی!۔۔ کتنی ستم ظریفی تھی۔ یہ ہاتھی سا آدمی سوکھے رام کہلاتا تھا۔۔ یہی نہیں بلکہ خطاب یافتہ بھی تھا وہ سوچ رہی تھی نہ ہوا عمران ورنہ مزہ آجاتا۔

“دیکھئے بات دراصل یہ ہے کہ میں مستقل طور پر آپ لوگوں سے معاملہ کرنا چاہتا ہوں”۔ سرسوکھے نے کہا۔
“ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں”۔
” وہ۔۔ تو۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے”۔ سرسوکھے نے کرسی کی پشت سے ٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا! “مگر آپ کو اس سلسلہ میں تھوڑی سی دردسری بھی مول لینی پڑے گی۔ دیکھیئے بات دراصل یہ ہے۔۔!”
وہ سانس لینے کے لئے رک گیا اور جولیا جھک کر اس کے کتے کا سرہلاتی ہوئی بولی۔ “بڑا پیارا کتا ہے!”

small white dog

small white dog

سرسوکھے نے اس طرح چونک کر کتے کی طرف دیکھا جیسے اس کی موجودگی کا خیال ہی نہ رہا ہو۔
” آپ کو پسند ہے!” اس نے مسکرا کر پوچھا۔
“بہت زیادہ۔۔”
“تو میری طرف سے قبول فرمائیے۔۔!”
“اوہ۔۔ ارے نہیں۔۔!” جولیا خواہ مخواہ ہنس پڑی۔
“نہیں! اب میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاؤں گا۔ سرسوکھے نے کہا اور کتے سے بولا۔ ” لکی۔۔ یہ دیکھو اب یہ تمہاری مالکہ ہیں”۔
وہ دم ہلانے لگا اور سرسوکھے نے پھر اپنے بزنس کی بات شروع کردی۔
“قصہ دراصل یہ ہے کہ۔۔ اوہ ٹھہرئیے میں پہلے اپنا پورا تعارف تو کرادوں! میری فرم کا نام “سوکھے انٹرپرائزس” ہے۔۔!”
“اوہ۔۔ اچھا میں سمجھ گئی۔۔!”
“آپ جانتی ہیں!” وہ خوش ہو کر بولا۔ “خیر تو۔۔ میرا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا الگ سے اسٹاف تھا لیکن اب اس پر غیر ضروری مصارف ہونے لگے تھے۔ میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اگر یہ کام کسی دوسری فرم کے سپرد کردیا جائے تو نسبتاًسستے میں ہوگا”۔
“جی ہاں۔۔ عموما یہی ہوتا ہے۔۔” جولیا سرہلا کر بولی۔
“بس تو پھر میں نے اپنے یہاں وہ سیکشن توڑ دیا ہے! “سرسوکھے نے کہا۔ “اور اب اس کے لئے آپ کی فرم سے معاملات طے کرنا چاہتا ہوں”۔
“غالبا مینجر صاحب آپ کو یہاں کے قواعد وضوابط سے آگاہ کرچکے ہیں”۔
“جی ہاں اور میں ان سے کلی طور پر متفق ہوں۔ سرسوکھے نے کہا۔ “قواعد وضوابط کی بات نہیں تھی! میں تو دراصل آپ کے لئے تھوڑی سی دردسری بڑھانا چاہتا ہوں۔۔!”
“فرمائیے۔۔!”
“آپ کو ایک ایسا حساب بھی تیار کرنا ہوگا جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ کام میری ہی فرم کے ایک سیکشن نے کیا ہے”۔
خاور نے جولیاکی طرف دیکھا اور جولیا جلدی سے بولی”یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کے لئے آپ کو زیادہ تشویش ہو۔ ایسا بھی ہوجائے گا”۔

“بس تو پھر ٹھیک ہے! کیا آپ کسی وقت میرے دفتر آنے کی زحمت گوارا کرسکتی ہیں؟”
“جب آپ فرمایئے۔۔
“نہیں بھئی جب آپ کو فرصت ملے۔ بس آنے سے پہلے فون کردیجئے گا”۔
“بہتر ہے! میں آ کر دیکھ لوں گی کہ اب تک آپ کے یہاں حسابات کس طرح رکھے جاتے رہے ہیں”۔
“اوہ۔ شکریہ! یہ تو بڑی اچھی بات ہوگی! اس کے لئے آپ جو بھی حق المحنت تجویز کریں مجھے اس پر اعتراض نہ ہوگا۔۔!”
“حق المحنت کیسا”۔ جولیا نے حیرت سے کہا! “یہ تو میں اپنی فرم کے انٹرسٹ میں کروں گی۔ ہمارے لئے یہی کیا کم ہے کہ ہمیں اتنا بڑا اور مستقل کام مل رہا ہے”۔

Hand on table

Hand on table

“یہی بات۔۔!” سرسوکھے نے میز پر اس طرح گھونسہ مار کر کہا کہ اس کا سارا جسم تھلتھلا گیا!” یہی بات۔۔ یہی اسپرٹ کام کرنے والوں میں ہونی چاہیئے”۔ پھر خاور سے بولا۔ ” آپ خوش قسمت ہیں جناب کہ اتنے اچھے ساتھی آپ کے حصے میں آئے ہیں!”
“شکریہ۔۔” خاور نے سگار کا ڈبہ اسے پیش کیا۔
“بس جناب، اب اجازت دیجیئے!”۔۔ وہ اٹھتا ہوا بولا۔ پھر جولیا سے کہا۔ “میں آپ کا منتظر رہوں گا”۔۔ ساتھ ہی دم ہلاتے کتے سے بولا۔ “نہیں لکی تم میرے ساتھ نہیں جاسکتے! تمہاری مالکہ وہ ہیں!”
کتا جولیا کی طرف مڑا اور وہ متحیر رہ گئی کیونکہ اب وہ اس کی کرسی پر دونوں اگلے پنجے ٹیک کر کھڑا ہوگیا تھا اور اس کی ران سے اپنی تھوتھنی رگڑ رہا تھا!
اس نے پھر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کی ننھی سی دم بڑی تیزی سے ہلنے لگی۔
“کمال ہے!۔۔ جولیا اور خاور نے بیک وقت کہا۔

“کتوں کو ٹرینڈ کرنا میری ہابی ہے”۔ سرسوکھے مسکرایا۔ “میرے سارے کتے بڑے سمجھدار ہیں، اب یہ میرے ساتھ واپس جانے کی کوشش نہیں کرے گا اور صرف آپ ہی کے ساتھ جائے گا، آپ کے دفتر کا کوئی دوسرا آدمی اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا۔۔ اچھا بس اجازت دیجیئے!۔۔”

وہ ان دونوں سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔ اس کی چال بھی عجیب تھی بس ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی گیند اچھلتا کودتا ہوا چل پڑا ہو۔
“کیا خیال ہے۔۔ اس کے چلے جانے کے بعد خاور نے جولیا کی طرف دیکھا۔
“حیرت انگیز۔۔”
“ہر اعتبار سے۔۔ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ اس شہر میں ایسے ایسے عجوبے موجود ہیں لیکن ہمیں ان کے دیدار نہیں ہوتے۔۔ تم نے اس کی چال پر غور کیا؟”
“ہاں! وہی تو میرے لئے حیرت انگیز تھی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا موٹا آدمی اتنی تیز رفتاری سے چل سکے گا”۔
“اس کی آنکھیں کتنی چمکیلی ہیں”۔ خاور نے کہا۔
“اور یہ کتا۔۔” جولیا نے کتے کی طرف دیکھ کر کہا۔ جو اب اس کے پیروں کے قریب بیٹھا زبان نکالے ہانپ رہا تھا۔۔!

جوزف رانا پیلس ہی کا ہو کر رہ گیا تھا! آتشدان کا بت والے کیس کے بعد اس نے فلیٹ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عمران کی تاکید تھی کہ وہ ادھر کا رخ بھی نہ کرے۔۔! اس طرح سلیمان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوسکا تھا کہ وہ بدستور عمران ہی کی خدمت کرتا رہے گا۔

رانا پیلس میں سب ہی تھے۔ نوکر چاکر، ڈرائیور، جوزف۔ حتی کہ بلیک زیروبھی ( بوڑھے آدمی کے میک اپ میں) لیکن رانا تہور علی صندوقی کا کہیں پتہ نہ تھا۔۔!
بلیک زیرو بوڑھے طاہر صاحب کے روپ میں رانا تہور علی صندوقی کا منیجر تھا، سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

جوزف ہر وقت فوجی وردی میں رہتا تھا اور اس کے دونوں پہلوؤں سے ریوالور لٹکے رہتے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ فوجی وردی میں اس کی مارشل اسپرٹ ہر وقت بیدار رہتی ہے اور شراب نہ ہونے پر اسپرٹ ہی میں پانی ملا کر پینے سے بھی نہیں مرتی۔۔!

water and spirit

water and spirit

جوزف بلانوش تھا لیکن اسے معینہ مقدار سے زیادہ شراب نہیں ملتی تھی اس لئے وہ اکثر اسپرٹ میں پانی ملا کر پیا کرتا تھا۔۔

اس وقت وہ اسپرٹ کے نشے کی جھونک میں پورچ میں “اٹینشن” تھا بالکل کسی بت کی طرح بے حس وحرکت۔ پلکیں ضرور جھپکتی رہتی تھیں۔ مگر بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے کسی الو کو پکڑ کر دھوپ میں بٹھا دیا گیا ہو۔۔ اور وہ خاموشی سے مجسم احتجاج بن کر تن بہ تقدیر ہوگیا ہو۔۔

دفعتا ایک آدمی پشت پر ایک بہت بڑا تھیلا لادے ہوئے پھاٹک میں داخل ہوا لیکن جوزف کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ تو اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا!۔۔
مگر جیسے ہی وہ پورچ کے قریب آیا۔ اچانک جوزف دہاڑا۔
“ہالٹ۔۔!”
اور وہ آدمی بھڑک کر دوچار قدم کے فاصلے پر تھیلے سمیت ڈھیر ہوگیا۔
“گٹ اپ۔۔!” جوزف اپنی جگہ سے ہلے بغیر پھر دہاڑا۔۔
“ارے مار ڈالا۔۔!” وہ مفلوک الحال آدمی دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر کراہا۔
“کدھر جاتا۔ ۔ جوزف غرایا۔
“بھیر جاتا۔۔ رانا صاحب کے پاس۔۔ ایسی ایسی جڑی بوٹیاں ہیں میرے پاس!۔۔”
“کیا باکتا۔۔!” جوزف پھر غرایا!
“آؤں۔۔ آجاؤں۔۔ پاس آجاؤں!” وہ آدمی خوف زدہ انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر پوچھتا رہا۔
اب جوزف خود ہی اپنی جگہ سے ہلا اور وہ آدمی تھیلا سمیٹتا ہوا پیچھے پھدک گیا۔ یہ دبلا پتلا اور چیچڑ چسم والا ایک بوڑھا آدمی تھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی اور دھندلی تھیں!۔۔ لیکن ہاتھ پاؤں میں خاصی تیزی معلوم ہوتی تھی۔
“کیا باکتا۔۔!” جوزف اس کے سر پر پہنچ کر دہاڑا۔
“شش شش۔۔ شقاقل۔۔ مصری!” وہ تھیلے سے کوئی چیز نکال کر اسے دکھاتا ہوا پیچھے کھسکا!
“یو کیا ہائے۔۔ جوزف غرایا۔
“اجی بس۔۔ کیا بتاؤں۔۔” وہ بہت تیزی سے بول رہا تھا۔ رر ۔۔ رانا صاحب قدر کریں گے”۔
“رانا صاحب نائیں ہائے۔۔ بھاگ جیا۔۔
“تو آپ ہی لڑائی کیجیئے صاحب۔۔ مزہ آجائے گا۔۔ جڑی بوٹیاں۔۔ ہا ہا۔۔ رانا صاحب کہاں ہیں!”
“ام نائیں۔۔ جیان تا۔۔ جیا۔۔
اتنے میں بلیک زیرو شور سن کر باہر آگیا۔
“کیا بات ہے۔۔” اس نے جوزف سے انگریزی میں پوچھا۔
“باس کو پوچھتا ہے میں کہتا ہوں باس نہیں ہیں! وہ مجھے کوئی چیز دکھاتا ہے”۔
بلیک زیرو نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔ وہ جھک جھک کر اسے سلام کر رہا تھا۔
“حضور۔۔ حضور۔۔ حضور عالی۔۔ سرکار۔ جڑی بوٹیاں ہیں میرے پاس۔ بڑی دور سے رانا صاحب کا سن کر آیا ہوں”۔

بلیک زیرو نے جلدی میں کچھ سوچا اور آہستہ سے بولا۔ “ہاں کہو ہم سن رہے ہیں”۔
“جو کچھ کہیئے۔ حاضر کروں سرکار۔۔!”
“ہم کیا کہیں! ہم نے تمہیں کب بلایا تھا؟”

jari bootian

jari bootian

“سرکار حضور۔۔ رانا صاحب بڑے معرکے کی بوٹیاں ہیں۔ بس طبعیت خوش ہوجائے گی۔
“کیا ہمارے کسی دوست نے تمہیں بھیجا ہے؟”
“جی حضور۔۔ ہم نے اس سرکار کی بڑی تعریف سنی ہے!”
“خیر اندر چل کر۔۔ ہمیں کچھ بوٹیاں دکھاؤ اور ان کے خواص بتاؤ”۔
بوڑھا خوش نظر آنے لگا تھا اس نے تھیلا سمیٹ کر کاندھے پر رکھا اور بلیک زیرو کے پیچھے چلنے لگا۔
جوزف کھڑا احمقانہ انداز میں پلکیں جھپکاتا رہا۔۔ پھر یک بیک وہ چونک کر اس بوڑھے آدمی کے پیچھے جھپٹا۔
بلیک زیرو اور بوڑھا آدمی اندر داخل ہو چکے تھے بلیک زیرو اسے ایک کمرے میں بٹھانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اس نے جوزف کو اس پر جھپٹے دیکھا۔۔
“ارے۔۔ ارے حضور”۔ بوڑھا بوکھلا گیا۔
بلیک زیرو بھی بھونچکا رہ گیا۔۔
لیکن بوڑھا دوسرے ہی لمحے میں زمین پر تھا اور جوزف نے اس کی میلی اور سال خوردہ پتلون کی جیب سے ایک چھوٹا سال پستول نکال لیا تھا۔۔
بوڑھا اس اچانک حملے سے بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ اس لئے جوزف کی گرفت سے آزاد ہونے کے بعد بھی اسی طرح بے حس وحرکت پڑا رہا البتہ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ پلکیں بھی چھپکا رہا تھا۔
“کیوں! تم کون ہو؟۔۔” بلیک زیرو نے آنکھیں نکال کر بولا۔
“مم۔۔ میں نہیں جانتا صاحب۔۔ کہ یہ خطرناک ۔۔ چیز میری جیب میں کس نے ڈالی تھی”۔ وہ ہانپتا ہوا بولا۔
“بکواس مت کرو”۔ بلیک زیرو غرایا! تم کون ہو؟”
“جی میں جڑی بوٹیاں تلاش کرکے بیچتا ہوں۔۔ شوقین رئیس میری قدر کرتے ہیں”۔
“مگر تم پہلے تو کبھی یہاں نہیں آئے۔۔!” بلیک زیرو اسے گھورتا ہوا بولا۔
“جی بیشک میں پہلے کبھی نہیں آیا”۔
“کیوں نہیں آئے تھے؟” بلیک زیرو نے غصیلے لہجے میں کہا! اس کے ذہن میں اس وقت عمران رینگنے لگا تھا اور اس نے یہ سوال بالکل اسی کے سے انداز میں کیا تھا۔
“جج۔۔ جی۔۔ ای۔۔ کیا بتاؤں مجھے اس سرکار کا پتہ نہیں معلوم تھا وہ تو ابھی ابھی ایک صاحب نے سڑک ہی پر بتایا تھا کہ اس محل میں جاؤ۔ یہاں رانا صاحب رہتے ہیں۔ بہت بڑی سرکار ہے۔۔”
“اس پستول کی بات کرو۔۔
“صص۔۔ صاحب! میں نہیں جانتا! بھلا میرے پاس پستول کا کیا کام! پتہ نہیں کس نے کیوں یہ حرکت کی ہے۔ میں کچھ نہیں جانتا!۔۔ خدا کے لئے ان کالے صاحب کو یہاں سے ہٹا دیجیئے ورنہ میرا دم نکل جائے گا”۔
جوزف اسے خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بڑبڑا رہا تھا۔ “مسٹرٹائر۔ یہ کیا کہہ رہا ہے! مجھے بھی بتائیے”۔
“اس کو گردن سے پکڑ کر ٹانگ لو”۔ بلیک زیرو نے کہا۔

جوزف پستول کو بائیں ہاتھ میں سنبھال کر اس کی طرف بڑھا! لیکن اچانک ایسا معلوم ہواجیسے آنکھوں کے سامنے بجلی سی چمک گئی ہو! بوڑھا چکنے فرش پر پھسلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
“خبردار فائر نہ کرنا جوزف۔۔” بلیک زیرو چیخا۔
جوزف نے بوڑھے پر چھلانگ لگائی تھی اور اب فرش سے اٹھ رھا تھا کیونکہ بوڑھا تو چھلاوہ تھا چھلاوہ۔
جب تک جوزف اٹھتاوہ بیرونی برآمدے میں تھا۔
“فائر مت کرنا۔ بلیک زیرو پھر چیخا! ساتھ ہی اب وہ بھی تیزی دکھانے پر آمادہ ہوگیا تھا جوزف کو پھلانگتا ہوا وہ بھی بیرونی برآمدے میں آیا۔
یہاں دو ملازم کھڑے چیخ رہے تھے۔
” صاحب وہ چھت پر ہے”۔ دونوں نے بیک وقت کہا۔

Climb

Climb

بلیک زیرو چکرا گیا! بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اتنی جلدی چھت پر بھی پہنچ جاتا!۔۔
نوکروں نے قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ انہوں نے اسے بندروں کی سی پھرتی سے اوپر جاتے دیکھا ہے۔ انہوں نے گندے پانی کے ایک موٹے پائپ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جس سے ملی ہوئی پورچ کی کارنس تھی اور پورچ کی چھت بہت زیادہ اونچی نہیں تھی کوئی بھی پھرتیلا آدمی کم از کم پورچ کی چھت تک تو اتنے وقت میں پہنچ ہی سکتا تھا۔
پھر ذرا ہی سی دیر میں پوری عمارت چھان ماری گئی لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں تھا!۔۔
اندر پہنچ کر بلیک زیرو نے محسوس کیا کہ اس چھلاوے نے اپنا تھیلا بھی نہیں چھوڑا تھا۔

“ٹائر صاب”۔ جوزف نے غصیلی آواز میں کہا۔ “مجھے فائر کرنے سے کیوں منع کیا تھا؟”
“باس کا حکم ہے کہ اس محل میں کبھی گولی نہ چلائی جائے”۔
“چاہے کوئی یہاں آکر جوزف دی فائٹر کے منہ پر تھوک دے”۔
“خاموش رہو! باس کے حکم میں بحث کی گنجائش نہیں ہوا کرتی”۔
جوزف فوجیوں کے سے انداز میں اسے سلیوٹ کرکے اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا۔ اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا اس لئے وہ شراب کی بوتل پر ٹوٹ پڑا۔۔

آج صفدر تین دن بعد آفس میں داخل ہوا تھا۔ مگر اس حال میں کہ اس کے بال گردآلود تھے۔ لباس میلا اور شیو بڑھا ہوا تھا۔
دوسروں نے اسے حیرت سے دیکھا اور اس نے ایک بہت بری خبر سنائی۔
“عمران مار ڈالا گیا۔
اور یہ خبر بم کی طرح ان پر گری ،جولیا تو اس طرح اچھلی جیسے اس کی کرسی میں اچانک برقی رو دوڑا دی گئی ہو۔
“کیا بک رہے ہو ۔۔ اس نے کانپتے ہوئے سسکی سی لی۔

وہ سب صفدر کے گرد اکھٹے ہوگئے اس وقت یہاں صرف سیکرٹ سروس کے آدمی تھے۔ چونکہ چھٹی کا وقت ہوچکا تھا اس لئے دوڑ دھوپ کے کام کرنے والے جاچکے تھے۔
“ہاں یہ حادثہ مجھے زندگی بھر یاد رہے گا ” صفدر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ میں تین دن سے اس کے ساتھ ہی تھا ہم دونوں کیپٹن واجد والی تنظیم کے بقیہ افراد کی فکر میں تھے۔ تین دن سے ایک آدمی پر نظر تھی۔ آج اس کا تعاقب کرتے ہوئے ندی کی طرف نکل گئے، مقبرے کے پاس جو سرکنڈوں کی جھاڑیاں ہیں وہاں ہمیں گھیر لیا گیا، حملہ اچانک ہوا تھا۔

پھر یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ ہمیں دھوکے میں رکھا گیا تھا۔ ہم تو دراصل یہ سمجھتے رہے تھے کہ اس تنظیم کا ایک آدمی ہماری نظروں میں آگیا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ ہمیں نہایت اطمینان سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ کسی ایسی جگہ گھیرنا چاہتے تھے جہاں سے بچ کر ہم نکل ہی نہ سکیں یعنی انہوں نے بھی وہ طریقہ اختیار کیا تھا جسے واجد کو پکڑنے کے لئے عمران کام میں لایا تھا”۔
“پھر کیا ہوا۔۔ باتوں میں نہ الجھاؤ۔” جولیا مضطربانہ انداز میں چیخی۔
“ہم پر چاروں طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی اور ہم کھلے میں تھے۔ اچانک میں نے عمران کی چیخ سنی۔ وہ ٹیکرے سے ندی میں گر رہا تھا۔ میں نے اسے گرتے اور غرق ہوتے دیکھا۔ تم جانتے ہی ہو کہ ندی کا وہ کنارہ کتنا گہرا ہے جس کنارے پر مقبرہ ہے۔۔
“تم کیسے بچ گئے؟”
“بس موت نہیں آئی تھی ، صفدر نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“تب تو پھر تم آفس ناحق آئے۔۔ تمہیں ادھر کا رخ ہی نہ کرنا چاہیئے تھا،جاؤ جتنی جلدی ممکن ہو اپنی قیام گاہ پر پہچنے کی کوشش کرو”۔

جولیا میز سے ٹکی کھڑی تھی۔ اس کا سر چکرارہا تھا۔
“نہیں میں یقین نہیں کرسکتی!۔۔ کبھی نہیں”۔ وہ کچھ دیر بعد ہذیانی انداز میں بولی۔ ” عمران نہیں مر سکتا! بکواس ہے۔ کبھی نہیں! تم جھوٹے ہو!”
وہ خواہ مخواہ ہنس پڑی! اس میں اس کے ارادے کو دخل نہیں تھا!۔۔
وہ سب اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان میں تنویر بھی تھا۔
“مرنے کو تو ہم سب ہی اسی وقت مرسکتے ہیں!” اس نے کہا۔
“ہم سب مرسکتے ہیں! مگر عمران نہیں مرسکتا! اپنی بکواس بند کرو”۔
پھر جولیا نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کئے لیکن دوسری طرف سے جواب نہ ملا!

” تمہیں سرسوکھے کے ہاں جانا تھا”۔ خاور نے کہا۔
“جہنم میں گیا سرسوکھے”۔ جولیا حلق پھاڑ کر چیخی۔ ” کیا تم سب پاگل ہوگئے ہوکیا عمران کا مرجانا کوئی بات ہی نہیں ہے!”
“اس کی موت پر یقین آجانے کے بعد ہی ہم سوگ منا سکیں گے!” خاور نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
دفعتا لیفٹیننٹ چوہان نے صفدر سے سوال کیا! “تمہیں وہ آدمی ملا کہاں تھا!۔۔ اور تمہیں یقین کیسے آیا تھا کہ وہ اسی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے”۔
“عمران نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا”۔
“آخر وہ تمہیں ہی کیوں ایسے مہمات کے لئے منتخب کرتا ہے؟”
“وہ کیوں کرنے لگا! مجھے ایکس ٹو کی طرف سے ہدایت ملی تھی۔۔!”
وہ سب پھر خاموش ہوگئے۔ جولیا میز پر سر ٹیکے بیٹھی تھی! اور تنویر غصیلی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا!
پھر وہ اٹھی اوراپنا بیگ سنبھال کر دروازے کی طرف بڑھی۔
“تم کہاں جارہی ہو؟” تنویر نے اسے ٹوکا۔
“شٹ اپ۔۔” وہ مڑ کر تیز لہجے میں بولی۔ “میں ایکس ٹو کے علاوہ اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوں”۔
وہ باہر نکل کر اپنی چھوٹی سی ٹوسیٹر میں بیٹھ گئی! لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا ہے۔۔!
صفدر کو وہ ایک دیانت دار اور سنجیدہ آدمی سمجھتی تھی۔ اس قسم کے جھوٹ کی توقع اس کی ذات سے نہیں کی جاسکتی! اس نے سوچا ممکن ہے عمران نے اسے بھی ڈاج دیا ہو!۔۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ بچتا ہی رہے۔

car

car

کچھ دیر بعد ٹوسیٹر ایک پبلک فون بوتھ کے قریب رکی اور بوتھ میں آکر عمران کے نمبر ڈائیل کئے اور دوسری طرف سے سلیمان نے جواب دیا لیکن اس نے عمران کے متعلق لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے تین دنوں سے گھر نہیں آیا۔
جولیا نے سلسلہ منقطع کرتے ہوئے ٹھنڈی سانس لی۔
کیسے معلوم ہو کہ صفدر کا بیان کہاں تک درست ہے آخر یہ کمبخت کیوں بچ گیا پھر ذرا ہی سی دیر میں اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے صفدر ہی عمران کا قاتل ہو۔۔
پھر اس نے غیر ارادی طور پر اپنی گاڑی ندی کی طرف جانے والی سڑک پر موڑ دی۔۔
سورج غروب ہونے والا تھا۔ مگر وہ دن رہے وہاں پہنچنا چاہتی تھی اس لئے کار کی رفتار خاصی تیز تھی۔ گھاٹ کی ڈھلان شروع ہوتے ہی اس نے بائیں جانب والے ایک کچے راستے پر گاڑی موڑ دی۔ اسی طرف سے وہ اس ٹیکرے تک پہنچ سکتی تھی جہاں ایک قدیم مقبرہ تھا اور دور تک سرکنڈوں کا جنگل پھیلا ہوا تھا۔

کچے راستے کی دونوں جانب جھنڈ بیریوں سے ڈھکے ہوئے اونچے اونچے ٹیلے تھے۔
مقبرے تک گاڑی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ وہاں تک پہنچنے کا راستہ ناہموار تھا اس نے گاڑی روکی، انجن بند کیا اور نیچے اتر کر خالی خالی آنکھوں سے افق میں دیکھتی رہی جہاں سورج آسمان کو چھوتی ہوئی درختوں کی قطار کے پیچھے جھک چکا تھا
پھر وہ چونکی اور مقبرے کی طرف چل پڑی۔

ابھی دھندلکا نہیں پھیلا تھا۔۔ دریا کی سطح پر ڈھلتی ہوئی روشنی کے رنگین لہرئے مچل رہے تھے۔۔ وہ ٹیکرے کے سرے کی جانب بڑھتی چلی گئی۔
مگر کیا یہ حماقت ہی نہیں تھی۔ اس نے سوچاآخر وہ یہاں کیوں آئی ہے؟
ٹیکرے کے نیچے پانی پر ایک موٹر بوٹ نظر آئی جس میں کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اس کے چھوٹے سے کیبن میں رہے ہوں۔
اچانک موٹر بوٹ سے ایک فائر ہوا۔ پانی پر ایک جگہ بلبلے اٹھے تھے اور گولی بھی ٹھیک اسی جگہ پڑی تھی۔

کیبن کی کھڑکی سے رائفل کی نال پھر اندر چلی گئی اور اس کے بعد ایک آدمی سر نکال کر پانی کی سطح پر دیکھنے لگاجہاں ایک بڑی سی مردہ مچھلی ابھر آئی تھی۔
پھر کیبن کی دوسری کھڑکی سے ایک سیاہ رنگ کا بڑا سا کتا پانی میں کودا اور تیرتا ہوا مچھلی تک جاپہنچا۔ اس کی دم منہ میں دبا کر وہ پھر موٹر بوٹ کی طرف مڑا تھا۔
دوسری بار جب موٹر بوٹ میں بیٹھے ہوئے آدمی نے اپنے دونوں ہاتھ کھڑکی سے نکال کر مچھلی کو سنبھالا۔ اس وقت جولیا نے اسے صاف پہچان لیا۔
وہ سرسوکھے تھا،
اس نے مچھلی اندر کھینچ لی اور کتا بھی کھڑکی سے کیبن میں چلاگیا۔

تو وہ مچھلیوں کا شکار کھیل رہا تھا۔۔ جولیا ٹیکرے سے پرے کھسک آئی۔ اس نے سوچا اچھا ہی ہوا سرسوکھے کی نظر اس پر نہیں پڑی ورنہ خواہ مخواہ تھوڑی دیر تک رسمی قسم کی گفتگو کرنی پڑتی، مگر اب وہ یہاں کیوں ٹھہرے، آئی ہی کیوں تھی؟ یہاں کیا ملتا؟۔۔ اگر عمران مارا بھی گیا تو۔۔ وہ۔۔ وہ یک بیک چونک پڑی اگر وہ یہاں مارا گیا ہوگا تو ایک آدھ بار لاش سطح پر ضرور ابھری ہوگی مگر اسے کیا؟ ضروری نہیں ہے کہ کسی نے اسے دیکھا بھی ہو۔۔
پھر وہ کیا کرے۔۔ کیا کرے۔۔

غیر ارادی طور پر وہ سرکنڈوں کی جھاڑیوں میں گھس پڑی یہ ایک پتلی سی پگڈنڈی تھی جو سرکنڈوں کی جھاڑیوں سے گذر کر کسی نامعلوم مقام تک جاتی تھی۔
کچھ دور پر اسے ریوالور کے چند خالی کارتوس پڑے ملے اور صفدر کے بیان کی تصدیق ہوگئی، ویسے وہ تو اس پر یوں بھی اعتماد کرتی تھی۔
مگر سوال یہ تھا کہ اب جولیا کیا کرے۔؟ یہ بات تو خود صفدر کو بھی نہیں معلوم تھی کہ عمران نے اس آدمی کو کہاں سے کھود نکالا تھا جس کے تعاقب میں وہ دونوں یہاں تک آئے تھے اور یہ حادثہ پیش آیا تھا۔

اچانک کوئی چیز اس کی پشت سے ٹکرائی اور وہ اچھل پڑی۔ بس غنیمت یہی تھا اس کے حلق سے کسی قسم کی آواز نہیں نکلی تھی ورنہ وہ چیخ ہی ہوتی۔

اس نے جھک کر اس کاغذ کو اٹھایا جو شاید کسی وزنی چیز پر لپیٹ کر پھینکا گیا تھا۔
کاغذ کی تہوں کے درمیان ایک چھوٹی سی کنکری تھی۔
کاغذ پر تحریر تھا:
“جولیا۔ دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔ کھیل مت بگاڑو،
ایک بیساختہ قسم کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔ دل پر سے بوجھ سا ہٹ گیا۔۔ اور وہ تیزی سے واپسی کے لئے مڑ گئی طرز تحریر عمران ہی کا سا تھا۔

واپسی بڑے سکون کے ساتھ ہوئی۔ جولیا کا دل چاہ رہا تھا کہ قہقہے لگائے، ہنستی ہی رہے۔۔ لیکن وہ صرف ذہنی مسرت پر ہی قناعت کئے ہوئے کار ڈرائیو کرتی رہی۔

گھر پہنچ کر اس نے ٹھنڈی پھواروں سے غسل کیا اور ڈریسنگ گان پہنے ہوئے خواب گاہ میں چلی گئی۔ آج کی تھکن اسے بڑی لذت انگیز محسوس ہو رہی تھی۔

اس نے ہیٹر پر چائے کے لئے پانی رکھتے ہوئے سوچا اگر اس وقت آجائے عمران۔۔؟ اچھی طرح خبر لوں اس کی۔
دفعتا فون کی گھنٹی بجی۔
جولیا نے ہاتھ بڑھا کر رسیور اٹھا لیا۔
“ہیلو۔”
“ایکس ٹو۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“یس سر۔”
“تم ندی کی طرف کیوں گئی تھیں؟”
“اوہ۔۔ جناب۔۔ وہ۔۔ عمران۔۔”
“ہاں مجھے علم ہے۔۔ مگر تم کیوں گئی تھیں؟”
“صص۔۔ صفدر۔۔
تمہارے علاوہ۔۔ اور کوئی کیوں نہیں گیا؟”
“پتہ نہیں جناب!” جولیا جھنجلا گئی۔
“وہ جانتے ہیں کہ انہیں اتنا ہی کرنا ہے جتنا کہا جائے۔۔
“یعنی میں۔۔ اس کی موت کی خبر سنتی۔۔ اور۔۔
“تجہیز و تکفین کی فکر نہ کرتی” ایکس ٹو نے طنزیہ لہجے میں جملہ پورا کردیا۔
“تم کون ہوتی ہو اس کی فکر کرنے والی اپنی حدود سے باہر قدم نہ نکالا کرو”۔
“بہت بہتر جناب جولیا کسی سلگتی ہوئی لکڑی کی طرح چٹخی۔
“تمہارا لہجہ۔۔ تم ہوش میں ہو یا نہیں؟ ایکس ٹو اپنے مخصوص خونخوار لہجے میں غرایا۔

“میرا محکمہ عشقیہ ڈراموں کے ریہرسل کے لئے نہیں ہے، سمجھیں۔۔؟
“جج۔۔ جی۔۔ ہاں”۔ جولیا بوکھلا گئی۔
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا۔
وہ رسیور رکھ کر آرام سے کرسی کی پشت سے ٹک گئی۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور دل بہت شدت سے دھڑک رہا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ سکون ہوتا گیا اور اسے ایکس ٹو پر اس زور سے غصہ آیا کہ ذہنی طور پر ناچ کر رہ گئی۔۔ اسے کیا حق حاصل ہے۔ وہ کون ہوتا ہے۔ میرے نجی معاملات میں دخل دینے والا ظالم۔۔ کمینہ۔۔ ذلیل۔۔
فون کی گھنٹی پھر بجی
اس نے برا سا منہ بنا کر رسیور اٹھا لیا اور “ہیلو” کہتے وقت بھی اس کا لہجہ زہریلا ہی رہا۔
“مس فٹز واٹر پلیز۔۔!” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“ہاں۔۔ جولیا نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔۔ وہ بولنے والے کی آواز نہیں پہچان سکی تھی۔
“میں سوکھے رام بول رہا ہوں”
“اوہ۔۔! فرمائیے۔۔ جناب۔۔”
“میں اس وقت اپنے آفس میں تنہا ہوں! کیا آپ تکلیف کریں گی”۔

A woman talks

A woman talks

“اس وقت”؟ جولیا نے حیرت سے کہا اور پھر کسی سوچ میں پڑ گئی۔
“آپ نہیں سمجھ سکتیں مس فٹز واٹر۔۔ میں دراصل آپ کو اپنے اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔ میری بدنصیبی کی داستان طویل ہے”۔
“میں بالکل نہیں سمجھی! سرسوکھے۔۔ پلیز”
“فون پر کچھ نہیں کہہ سکتا”

“اچھا سر سوکھے میں آرہی ہوں مگر آپ کو میرے گھر کانمبر کیسے ملا؟”
“بس اتفاق ہی سے میں مچھلیوں کا شکار کھیل کر واپس آرہا تھا کہ آپ کے دفتر کے ایک صاحب نظر آگئے۔ انہوں نے اپنا نام بتایا تھا لیکن صرف صورت آشنائی کی حد تک میری یادداشت قابل رشک ہے۔ نام وغیرہ البتہ یاد نہیں رہتے بہرحال میں نے ان سے آپ کے متعلق پوچھا تھا انہوں نے بتایا کہ آپ اس وقت گھر ہی پر ملیں گی۔ انہوں نے فون نمبر بھی بتایا”
“خیر۔ میں آرہی ہوں”۔ جولیا نے کہا اور سلسلہ منقطع کرکے خاور کے نمبر ڈائیل کئے۔ وہ گھر ہی پر موجود تھا۔
“سر سوکھے مجھے اس وقت اپنے آفس میں طلب کر رہا” جولیا نے کہا۔
“ضرور جاؤ۔۔ ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ ہونی چاہیئے۔ تمہاری حفاظت کا انتظام بھی کردیا جائے گا”۔
“مگر میں نہیں سمجھ سکتی؟”
“ٹھہرو” خاور نے جملہ پورا نہیں ہونے دیا۔ ” ایکس ٹو کی ہدایت ہے کہ اگر آج کل کوئی نیا گاہک بنے تو اسے ہر ممکن رعایت دی جائے میں سر سوکھے کا معاملہ اس کے علم میں لاچکا ہوں”۔
“اور اگر میں جانے سے انکار کردوں تو۔۔”؟
“میں اسے محض مذاق سمجھوں گا کیونکہ تم ناسمجھ نہیں ہو”۔
جولیا نے اپنی اور سرسوکھے رام کی گفتگو دہراتے ہوئے کہا۔ “وہ آدمی اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔۔”
“پرواہ مت کرو، ایکس ٹو اس کے معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہا ہے”۔
جولیا نے پھر برا سا منہ بنایا اور سلسلہ منقطع کردیا۔

تھوڑی دیر بعد پھر اس کی ٹوسیٹر شہر کے بارونق بازاروں میں دوڑ رہی تھی۔
تقریبا پندرہ منٹ بعد اس نے عمارت کے سامنے کار روکی جس کی دوسری منزل پر سرسوکھے انٹرپرائزس کا دفتر تھا۔ کھڑکیوں میں اسے روشنی نظر آئی۔ چوتھی یا پانچویں منزل کی بات ہوتی تو وہ لفٹ ہی استعمال کرتی لیکن دوسری منزل کے لئے تو زینے ہی مناسب تھے۔

سر سوکھے نے بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا لیکن جولیا محسوس کر رہی تھی کہ وہ کچھ خائف سا نظر آرہا ہے۔

“بیٹھیئے بیٹھیئے۔ مس فٹز واٹر میں بیحد مسرور ہوں کہ آپ میری درخواست پر تشریف لائیں۔۔” وہ ہانپتا ہوا بولا۔ جولیا ایک کرسکی کھسکا کر بیٹھ گئی۔
میں آپ کا زیادہ وقت نہیں برباد کروں گا مس فٹز واٹر” سوکھے رام پھر بولا۔ “اوہ۔۔ ٹھہرئیے آپ کیا پئیں گی؟ اس وقت تو میں ہی آپ کو سرو کروں گا کیوں کہ اس وقت یہاں ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے”۔
“اوہ شکریہ! میں کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں محسوس کر رہی اور پھر میں تو ویسے بھی شراب نہیں پیتی”

“گڈ۔۔” سرسوکھے کی آنکھیں بچکانے انداز میں چمک اٹھیں وہ اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔ “اگر آپ شراب نہیں پیتیں تو میں یہی کہوں گا کہ آپ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ بڑی پختہ قوت ارادی رکھتی ہیں وہ لڑکیاں جو شراب نہیں پیتیں”۔
“شکریہ جی ہاں میں بھی سمجھتی ہوں۔ خیر آپ کیا کہنے والے تھے؟”
جواب میں سرسوکھے نے پہلے تو ایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولا۔ ” میں نے اپنا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا شعبہ بلا وجہ نہیں ختم کیا۔ میں مجبور تھا! نہ کرتا تو بہت بڑی مصیبت میں پڑ جاتا لیکن ٹھہریئے ۔۔ میں آپ پر یہ بھی واضح کرتا چلو ں مس فٹز واٹر کہ آپ کو یہ سب باتیں کیوں بتا رہا ہوں؟ میں جانتا ہوں کہ عورتیں طبعا” رحم دل
ہمدرد ہوتی ہیں”۔
وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا اور جولیا سوچنے لگی کہ اس گفتگو کا ماحصل کیا ہوگا جس کے سر پیر کا ابھی تک تو پتہ نہیں چل سکا۔

“اوہ۔۔ میں خاموش کیوں ہو گیا” سرسوکھے چونک کر بولا پھر خفیف سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نظر آئی اور اس نے کہا۔ “میری باتیں اکثر بے ربط ہوجاتی ہیں مس فٹز واٹر۔ مگر ٹھہریئے میں ایک نقطے کی وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا میرے فاورڈنگ اینڈ کلیرنگ سیکشن میں کوئی بہت ہی بدمعاش آدمی آگھسا تھا اور ایسے انداز میں اسمگلنگ کررہا تھا کہ آئی گئی میرے ہی سرجاتی۔ لکڑی کی پیٹیوں میں باہر سے مال پیک ہو کر آتا تھا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں چلتا تھا کہ خالی پیٹیاں کہاں غائب ہوجاتی تھیں”
“میں نہیں سمجھی ”
“خالی پیٹیاں۔۔ غائب ہوجاتی تھیں”
تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپکی فرم رٹیل بھی کرتی ہے۔۔” جولیا نے حیرت سے کہا۔ پیٹیوں کا کھول ڈالا جانا تو یہی ظاہر کرتا ہے”

godown

godown

“گڈ آپ واقعی ذہین ہیں مجھ سے اندازے کی غلطی نہیں ہوئی”۔ سرسوکھے خوش ہو کر بولا “میں ساری پیٹیوں کی بات نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ میری مراد صرف ان بڑی پیٹیوں سے تھی جن میں مشینوں کے پرزے پیک ہو کر آتے ہیں وہ پیٹیاں تو لامحالہ کھولی جاتی تھیں کیوں کہ ان مشینوں کی تیاری فرم ہی کراتی ہے یعنی وہ یہیں اسمبل ہوتی ہیں”۔

“خیر۔۔ اچھا “جولیا سرہلا کر بولی۔ ” لیکن آپ خالی پیٹیوں کے متعلق کچھ کہہ رہے تھے”
“وہ پیٹیاں غائب ہوجاتی تھیں۔
“اچھا چلیئے” جولیا مسکرا کر بولی۔ “اگر وہ پیٹیاں غائب ہوجاتی ہیں تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ کوئی غریب آدمی انہیں بیچ کر اپنا بھلا کرلیتا ہوگا”۔
“اوہ یہی تو آپ نہیں سمجھتیں مس فٹز واٹر۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ پیٹیاں فائیو پلائی وڈ کی ہوتی ہیں۔۔مطلب سمجھتی ہیں نا آپ۔۔ خیر میں شروع سے بتاتا ہوں ۔۔ مجھے کبھی ان پیٹیوں کا خیال بھی نہ آتا۔ مجھے بھلا اتنی فرصت کہاں کہ کاروبار کی ذرا ذرا سی تفصیل ذہن میں رکھتا پھروں۔۔

بات دراصل یہ ہوئی کہ ایک دوران میری کوٹھی پر لکڑی کا کام ہو رہا تھا۔ ایک جگہ لکڑی کا پارٹیشن ہونا تھا خیال یہ تھا کہ دیوار کے فریم میں ہارڈ بورڈ لگا دیا جائے۔ لیکن کسی نے فائیو پلائی وڈ کی ان پیٹیوں کا خیال دلا دیا۔ میں نے سوچا کہ ہارڈ بورڈ سے بہتر وہی رہے گی پلائی وڈ۔۔ لہذا میں اتفاق سے خود ہی گوڈاؤن کی طرف جا نکلا وہاں اسی دن کچھ پیٹیاں کھولی گئی تھیں۔ چوکیدار تنہا تھا اور وہ خود ہی پیٹیاں کھول کر ان میں سے پرزے نکال رہا تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کیونکہ یہ کام تو کسی ذمہ دار آدمی کے سامنے ہونا چاہیئے تھا اور پھر یہ چوکیدار کی ڈیوٹی نہیں تھی۔

میں نے اس سے اس کے متعلق استفسار کیا اور اس نے بوکھلا کر جواب دیا کہ گوڈاؤن انچارج نے اسے یہی ہدایت دی تھی۔۔ میں نے سوچا کہ انچارج سے جواب طلب کروں گا اور چوکیدار سے کہا کہ وہ ایک ٹھیلا لائے اور جتنی جتنی بھی پیٹیاں خالی ہوگئی ہیں انہیں کوٹھی میں بھجوادے۔۔ وہ ٹھیلا لینے کے لئے دوڑا گیا۔ لیکن پھر اس کی واپسی نہ ہوئی اوہ۔۔ خوب یاد آیا مس فٹز واٹر۔۔ لکی تو ٹھیک ہے نا۔۔ وہ ایک فرمانبردار کتا ہے۔۔ آپ کو یقینا اس سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔”
“بہترین ہے۔۔” جولیا نے کہا۔

“میرے پاس کئی قسم کے بہترین کتے ہیں۔ بہترین کمیاب نسلیں بھی ہیںکسی دن کوٹھی آئیے آپ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گی”۔

“آپ یہ فرما رہے تھے کہ چوکیدار غائب ہوگیا۔۔”
“اوہ۔۔ دیکھیئے بس اسی طرح ذہن بہک جاتا ہے ہاں تو وہ مردود بھاگ گیا۔ میں نے ایک دوسرے گوڈاؤن کے چوکیدار سے ٹھیلا منگوایا۔ اس دوران میں، میں نے ایک پیٹی کا ڈھکن اٹھایا اور اندازہ کرنے لگا کہ وہ ہارڈ بورڈ سے بہتر ثابت ہوگا یا نہیں۔ اچانک اس کے ایک گوشے پر نظر رک گئی اور میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ جانتی ہیں میں نے کیا دیکھا؟۔۔

لکڑیوں کی پرت میں ایک پرت سونے کی بھی تھی۔ سونے کا پتر۔۔ اسے بڑی خوبصورتی سے لکڑی کے پرتوں کے درمیان جمایا گیا تھا۔۔ شاید پیٹی کی کیلیں نکالتے وقت ایک گوشے کی لکڑی ادھڑ گئی تھی اور پرت ظاہر ہوگئی تھی۔ میں نے فورا ہی گودام میں تالا ڈال دیا اور کوٹھی پر فون کرکے چار معتبر اور مسلح چوکیدار وہاں طلب کئے اور انہیں ہدایت کردی کہ کسی کو گودام کے قریب بھی نہ آنے دیں۔۔ میں آپ سے کیا بتاؤں مس فٹز واٹر۔ ان تختوں سے تقریبا اٹھائیس سیر سونا برآمد ہوا تھا۔۔ لیکن میں نے کسی کو بھی اس کی خبر نہ ہونے دی۔

آپ خود ہی سوچیئے اگر یہ بات کھل جاتی تو کون یقین کرتا کہ سرسوکھے کے ہاتھ صاف ہیں کون یقین کرتا۔۔ گوڈاؤن انچارج سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے چوکیدار کسی بڑے آفیسر کا حوالہ دے کر اسے مطمئن کردیتا تھا چونکہ اس سلسلے میں کبھی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی تھی اس لئے اس نے بھی اس پر دھیان نہیں دیا۔ اس طرح وہ ایک درد سری سے بچا رہتا تھا ورنہ اسے بھی کھولی جانے والی پیٹیوں کا باقاعدہ طور پر ریکارڈ رکھنا پڑتا۔

میں نے اس سے پہلے کی خالی پیٹیوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے جنرل منیجر کی درجنوں چھٹیاں دکھائیں جن میں وقتا فوقتا خالی پیٹیاں طلب کی گئی تھیں۔ اس نے بتایا کہ کچھ کباڑی قسم کے لوگ آتے تھے اور پیٹیاں وصول کرکے رسیدیں دے جاتے تھے۔ اس نے رسیدیں بھی دکھائیں۔۔ میں نے جنرل منیجر سے انکوائری کی مگر اس نے چھٹیوں کے دستخط اپنے نہیں تسلیم کئے۔ اس پر میں نے ایک ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کیں جس نے جنرل منیجر کے بیان کی تصدیق کردی یعنی وہ دستخط سچ مچ جعلی تھے بس یہیں سے انکوائری کا خاتمہ ہوگیا۔ میں اب کس کے گریبان میں ہاتھ ڈالتا”۔۔

“آپ نے پولیس کو اطلاع دی ہوتی” جولیا نے کہا۔
“شائد آپ میری دشواریوں کو ابھی تک نہیں سمجھیں۔ یقین کیجیئے کہ میں قانونی معاملات میں بیحد ڈرپوک قسم کا آدمی ہوں اگر کہیں پولیس نے الٹا مجھ پر ہی نمدہ کس دیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہوں گا اوہ مس فٹز واٹر۔ بہرحال مجھے اپنے فاورڈنگ اینڈ کلیرنگ کے عملہ پر شبہ تھا اس لئے میں نے وہ سیکشن ہی توڑ دیا اور اس کے پورے عملے کو برطرف کردیا”۔

“چوکیدار کا کیا ہوا تھا؟” جولیا نے پوچھا۔
“اوہ۔ اس کا آج تک پتہ نہیں لگا سکا وہ مل جاتا تو اتنی درد سری ہی کیوں مول لی جاتی۔ اس سے تو سب کچھ معلوم ہوسکتا تھا اب آپ میری مدد کیجیئے”۔
“مگر میں اس سلسلے میں کیا کرسکتی ہوں؟”
سرسوکھے کی ٹھنڈی سانس کمرے میں گونجی اور وہ تھوڑی دیر بعد مسکرا کر بولا “اب مجھے پوری بات شروع سے بتانی پڑے گی۔۔ بات دراصل یہ ہے مس واٹر۔ میرے یہاں ایک اینگلو برمیز ٹائپسٹ تھی مس روشی۔ وہ آج کل رنگون گئی ہوئی ہے۔ اس نے ایک بار کسی مسٹر عمران کا تذکرہ کیا تھا جو پرائیویٹ سراغ رساں ہیں۔۔ اتفاق سے ایک دن مجھے اس نے دور سے مسٹر عمران کی زیارت بھی کرائی تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ ان کے ساتھ تھیں”۔

“میں۔۔؟”
“جی ہاں۔ آپ۔۔ دیکھیئے مجھے شکلیں ہمیشہ یادر رہتی ہیں یہ اور بات ہے کبھی کبھی نام بھول جاتا ہوں مگر یہ بھی کم ہی ہوتا ہے۔ اس دوران میں جب یہ واقع پیش آیا مجھے مسٹر عمران کا خیال آیا تھا مگر افسوس کہ مجھے ان کا پتہ نہیں معلوم تھا۔ اچانک ایک دن آپ نظر آگئیں آپ اس وقت آفس میں داخل ہو رہی تھیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ آپ وہیں کام کرتی ہیں۔ میں نے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ آپ وہیں کام کرتی ہیں۔

میں نے سوچا واہ سرسوکھے تم بہت خوش نصیب ہو۔ تمہارا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا کام بھی ہوتا رہے گا اور عمران صاحب تک پہنچ بھی ہوجائے گی۔۔ واہ۔۔ اور آج کل میرے ستارے بھی اچھے ہیں مس فٹز واٹر۔۔ اگر میں آپ کو صرف واٹر کہوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہ ہوگا۔ فٹز واٹر کہنے میں زبان لڑکھڑاتی ہے”۔
“آپ مجھے صرف جولیانا کہہ سکتے ہیں!” جولیا بڑے دلاویز انداز میں مسکرائی۔

“اوہ۔ بہت بہت شکریہ!”۔ وہ خوش ہو کر بولا۔ “میں آپ کا بیحد ممنون ہوں اس وقت میرے دل پر سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے صرف آپ ہی سے میں یہ بات کہہ سکا ہوں۔۔ اوہ مس فٹز واٹر میں کتنا خوش نصیب ہوں دراصل اسی گفتگو کے لئے میں نے آپ کو تکلیف دی تھی اور نہ حسابات تو سب جگہ کے یکساں ہوتے ہیں”۔
“پھر آپ کیا چاہتے ہیں۔۔؟”
“مجھے عمران صاحب سے ملائیے۔ ان سے سفارش کیجیئے۔ انہیں مجبورکیجیئے کہ اس معاملہ کا پتہ لگائیں۔ حالانکہ میں نے فارورڈنگ اینڈ کلیرنگ کے عملے کو الگ کردیا ہے مگر کون جانے اصل چور اب بھی یہیں موجود ہو اور کبھی اس کی ذات سے مجھے کوئی بڑا نقصان پہنچ جائے۔ میں نجی طورپر اس کی تحقیقات چاہتا ہوں۔ پولیس کو کانوں کان خبر نہ ہونی چاہیئے”۔

“دیکھیئے میں کوشش کروں گی ویسے بہت دنوں سے عمران سے ملاقات نہیں ہوئی”۔
“کوشش نہیں بلکہ یہ کام ضرور کیجیئے گا مس جولیانا۔۔ اخراجات کی پروا مجھے نہ ہوگی”۔
“آج آپ مقبرے کے نیچے مچھلیوں کا شکار کھیل رہے تھے؟” جولیا مسکرا کر بولی اور آپ کا اسپینیئل شکار کی ہوئی مچھلیاں گھسیٹ رہا تھا”۔
“شکار تو میں یقینا کھیل رہا تھا”۔ اس نے حیرت سے کہا۔ “مگر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ مقبرے کے نیچے کھیل رہا تھا”۔
“میں نے آپ کو دیکھا تھا۔
“کمال ہے، آپ وہاں کہاں۔۔؟”
“میں بھی اوپر جھاڑیوں میں تیتر تلاش کر رہی تھی کچھ فائر بھی کئے تھے کیا آپ نے میرے فائروں کی آوازیں نہیں سنی تھیں؟”
“قطعی نہیں یا پھر ہوسکتا ہے میں نے دھیان نہ دیا ہو۔ اور تو کیا آپ بندوق چلاتی ہیں۔۔؟”
“مجھے بندوق سے عشق ہے”۔

“شاندار!۔۔” سرسوکھے بچگانہ انداز میں چیخا۔ اس کی آنکھوں کی چمک میں بھی بچپن ہی جھلک رہا تھا۔۔ “آپ بندوق چلاتی ہیں، شاندار۔۔ آپ واقعی خوب ہیں۔ مگر آپ نے مجھے آواز کیوں نہیں دی تھی۔۔ آہا کبھی میرے ساتھ شکار پر چلیئے”۔
“فرصت کہاں ملتی ہے مجھے۔۔” جولیا مسکرائی۔
“اوہ۔۔ تو آپ کو بہت کام کرنا پڑتا ہے۔
“بہت زیادہ۔۔”
“بدتمیزی ضرور ہے مگر کیا پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو تنخواہ کتنی ملتی ہے؟”
“مجھے فی الحال وہاں ساڑھے چار سو مل رہے ہیں”۔
“بس۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ پر اتنی ذمہ داریاں ہیں اور تنخواہ آپ جانتی ہیں روشنی کو یہاں کتنا ملتا تھا؟”
جولیا نے نفی میں سر ہلادیا۔

“چھ سو!”
“اوہ۔۔” جولیا نے خواہ مخواہ حیرت ظاہر کی۔ وہ سرسوکھے کو بددل نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ “چھ سو” کہتے وقت اس کا لہجہ فخریہ تھا۔
“اور آپ کی خدمات کا معاوضہ تو ایک ہزار سے کسی طرح بھی کم نہ ہونا چاہیئے؟”
جولیا صرف مسکرا کر رہ گئی۔ انداز خاکسارانہ تھا۔
“میں اسے بیہودگی تصور کرتا ہوں کہ آپ کو آفر دوں۔۔ بہرحال جب بھی آپ وہاں سے بددل ہوں۔ سوکھے انٹرپرائزس کے دروازے آپکے لئے کھلے پائیں گی”۔
“بہت بہت شکریہ جناب”

دفعتا سر سوکھے نے انگلی اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا ا شارہ کیا اور اس کے چہرے پر ایسے آثار نظر آئے جیسے کسی کی آہٹ سن رہا ہو جولیا بھی ساکت ہوگئی اس نے بھی کسی قسم کی آواز سنی تھی۔

اچانک سرسوکھے خوف زدہ انداز میں دہاڑا۔ “کون ہے؟”
کسی کمرے میں کوئی وزنی چیز گری اور بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز آئی ایسا لگا جیسے کوئی دوڑتا ہوا زینے طے کر رہا ہو۔

سرسوکھے نے جیب سے پستول نکال لیا لیکن جولیا اس کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ رہی تھی۔
“ٹھہریئے”۔ جولیا اٹھتی ہوئی بولی۔ “میں دیکھتی ہوں”۔
“اوہ۔۔ نہیں پتہ نہیں کون تھا؟ بہرحال آپ نے دیکھ لیا تھا” اس نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ جولیا بھی اس کے پیچھے بڑھی۔ انہوں نے سارے کمرے دیکھ ڈالے۔ برابر والے کمرے میں دیوار کے قریب ایک چھوٹی سی میز گری ہوئی نظر آئی۔
“یہ دیکھیئے۔۔” سرسوکھے نے کہا۔ “کوئی اس میز پر کھڑا ہو کر روشندان سے ہماری گفتگو
سن رہا تھا!”
جولیا نے میز کی سطح پر ربڑ سول جوتے کے نشانات دیکھے۔
“آپ اس میز کو کسی کمرے میں مقفل کرادیجیئے۔ یہ نشانات عمران کے لئے کارآمد ہوسکتے ہیں”، جولیا نے کہا۔
“گڈ۔۔!” وہ خوش ہو کر بولا “اب دیکھیئے یہ آپ کی ذہانت ہی تو ہے مجھے اس کا خیال نہیں آیا تھا۔ اوہ مس جولیانا مجھے یقین ہے کہ اب میری پریشانیوں کا دور ختم ہوجائے گا۔ مجھے یقین ہے”۔
“آپ بالکل فکر نہ کریں۔۔” جولیا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ “آپ کے پاس بلڈ ہانڈز بھی ہیں۔
“نہیں۔۔ کیوں۔۔”
“اگر کوئی ہوتا تو اسے اس آدمی کی راہ پر با آسانی لگایا جاسکتا تھا جو اس وقت ہماری گفتگو سن رہا تھا”
سرسوکھے کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔

“اوہ۔۔ مس جولیانا آپ کی ذہانت کی کہاں تک تعریف کی جائے آپ تو بہت گریٹ ہیں عمران صاحب کی صحبت نے آپ کو بھی اچھا خاصہ جاسوس بنادیا ہے۔ کاش آپ ہمارے ساتھ ہوتیں۔ میں چین کی نیند لے سکتا۔ ساری تشویش ختم ہوجاتی۔۔”
سرسوکھے نے خاموش ہو کر ٹھنڈی سانس لی۔

اندھیری رات تھی۔ سڑک پر ویرانیاں رقص کر رہی تھیں اور ان کا رقص دراصل جوزف کے وزنی جوتوں کی تال پر ہو رہا تھا وہ اونٹ کی طرح سر اٹھائے چلا جا رہا تھا۔ گو اس وقت وہ فوجی لباس میں نہیں تھا اور اس کے دونوں ریوالور بھی ہولسٹروں کی بجائے جیب میں تھے۔

اس سڑک پر الیکٹرک پول اتنے فاصلے پر تھے کہ دو روشنیوں کے درمیان میں ایک جگہ
ایسی ضرورملتی تھی جہاں اندھیرا ہی رہتا تھا۔ درمیان میں دو پول چھوڑ کر بلب لگائے گئے تھے۔ یہ شہر سے باہر کا حصہ تھا۔ اگر ان اطراف میں دو چار فیکٹریاں نہ ہوتیں تو یہ سڑک بالکل ہی تاریک ہوتی۔

جوزف اس وقت کتھئی سوٹ اور سفید قمیض میں تھا۔ ٹائی تو وہ کبھی استعمال ہی نہیں کرتا تھا آج کل وہ بالکل ہی دیو معلوم ہوتا تھا۔ عمران کی ڈنڈ بیٹھکوں نے اس کا جسم اور زیادہ نمایاں کردیا تھا۔

وہ یکساں رفتار سے چلتا رہا اور اس کے وزنی جوتوں کی آوازیں دور دور تک گونجتی رہیں۔ فیکٹریوں کے قریب پہنچ کر وہ بائیں جانب مڑ گیا۔۔ یہ فیکٹریوں کی مخالف سمت تھی ادھر دور تک ویرانہ ہی تھا۔ ناہموار اور جھاڑیوں سے ذھکی ہوئی زمین میلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

اچانک جوزف رک گیا وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ رہا تھا۔۔ تقریبا سو گز کے فاصلے پر مشرق کی طرف اسے کوئی ننھی سی چمکدار چیز دکھائی دی اور وہ دوسرے ہی لمحے زمین پر تھا ۔ اب وہ گھٹنوں اور ہتھیلیوں کے بل بالکل اسی طرح آہستہ آہستہ چل رہا تھا جیسے کوئی تیندوا شکار کی گھات میں ہو۔

رخ اسی جانب تھا جہاں وہ ننھی سی چمکدار چیز نظر آئی تھی۔
“جوزف۔۔” اس نے ہلکی سی سرگوشی سنی۔۔ اور وہ کسی وفادار کتے کی طرح اچھل کر ادھر ہی پہنچ گیا۔
“شش۔۔
جوزف جھاڑیوں میں دبک گیا پھر کوئی اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ” چند منٹ یہیں رکو”۔
جوزف جس پوزیشن میں تھا اسی میں رہ گیا۔ یہ اس کی عجیب وغریب عادت تھی۔ جب
بھی اسے مخاطب کیا جاتا تو وہ اسی طرح ساکت ہوجاتاکہ اٹھا ہوا ہاتھ اٹھا ہی رہ جاتا جماہی آ رہی ہوتی تو منہ پھیلا کر ہی رہ جاتا اور تاوقتیکہ کوئی نہ کہہ دیتا پھیلا ہی رہتا۔۔
تھوڑی دیر بعد کہا گیا۔
“جوزف کیا تم اس وقت بہت خوش ہو”؟
“ہاں۔ باس بہت زیادہ۔۔ کیونکہ میں آج ایک نئی چیز دریافت کی ہے”۔
“اچھا۔۔”
“ہاں باس اگراسپرٹ اور پانی میں تھوڑا سا جنجر ایسنس بھی ملا لیا جائے تو بس۔۔ مزہ ہی آجاتا ہے”۔
“تم نے پھر اسپرٹ شروع کردی ہے؟”
“ہاں۔۔ باس۔۔”۔
“ایک ہزار ڈنڈ۔۔”
“نن۔۔ نہیں۔۔ باس” جوزف بوکھلا کر بولا “نشہ اتر جائے گا کھوپڑی بالکل خالی ہوجائے گی اور میں کینچوا بن کر رہ جاؤں گا۔۔”
“چلو اٹھو۔۔” عمران نے اسے اٹھوکا حکم دیا۔
“ہم کہاں چلیں گے باس۔۔؟”
“کالا گھاٹ۔۔ تم نے دیکھا نا؟”
“ہاں۔۔ باس۔۔”۔
“وہاں ایک شراب خانہ ہے۔

vine bar

vine bar

“میں جانتا ہوں باس”۔۔ جوزف خوش ہو کر بولا! “وہاں تاڑی بھی ملتی ہے”۔
“ہوم۔۔! اس شراب خانہ کے پاس ندی کی سمت جو ڈھلان شروع ہوتی ہے تمہیں وہاں رکنا ہوگا۔
“ڈھلان پر رک کر کیا کروں گا باس کہ آپ شراب خانہ میں جائیں اور میں ڈھلان پر کھڑا رہوں”۔
“چلتے رہو۔۔”

وہ اندھیرے ہی میں ناہموار راستے طے کرتے رہے کبھی کبھی محدود روشنی والی چھوٹی سی ٹارچ روشن کرلی جاتی۔
جوزف کچھ بڑبڑا رہا تھا۔
“خاموشی سے چلتے رہو”۔ کہا گیا۔
آدھے گھنٹے بعد وہ ایک ڈھلوان راستے پر چل رہے تھے جہاں سے ندی کے کنارے والے چراغوں کے سلسلے صاف نظر آنے لگے تھے۔
“ایک بار پھر سنو جوزف” اس سے کہا گیا۔ ” تم شراب خانے کی پشت پر ندی والی ڈھلان پر ٹھہرو گے”۔
“اچھا باس” جوزف نے بیحد اداس لہجے میں کہا۔
“مگر تم وہاں کیوں ٹھہرو گے؟”
“جماہیاں لینے اور آنسو بہانے کے لئے” جوزف کی آواز دردناک تھی
عمران ہنس پڑا۔
“مگر باس تم اپنے محل میں کیوں نہیں آتے۔۔؟” جوزف نے کہا۔
“یہ ایک درد بھری کہانی ہے۔۔ جوزف” عمران غمناک لہجے میں بولا۔ ” میری آخری بیوی کے رشتے دار مجھے قتل کردینا چاہتے ہیں۔۔”
“اف۔فوہ! “جوزف چلتے چلتے رک گیا۔ اسے وہ پھرتیلا بوڑھا یاد آگیا تھا جس نے دو تین دن پہلے رانا پیلس میں اپنی چلت پھرت کا مظاہرہ کیا تھا۔

بلیک زیرو کو علم ہی نہیں تھا کہ عمران کہاں ہوگا اس لئے یہ کہانی عمران تک نہیں پہنچ سکی تھی اتفاق سے آج صبح جوزف ہوا خوری کو نکلا تھا۔ راستے میں ایک لڑکے نے اسے ایک خط دیا جو عمران کی طرف سے ٹائپ کیا گیا تھا اور جس میں جوزف کے لئے ہدایت تھی کہ وہ رات کو فلاں وقت فلاں مقام پر پہنچ جائے۔

جوزف اس معاملہ میں اتنا محتاط ثابت ہوگا کہ اس نے اس کا تذکرہ بلیک زیرو (طاہر
صاحب) سے بھی نہیں کیاتھا۔ حالانکہ وہ خود بھی دھوکا کھا سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خط ٹائپ کیا ہوا تھا اور اس کے نیچے بھی عمران کے دستخط نہیں تھے بلکہ نام ہی ٹائپ کردیا گیا تھا لیکن اس نے کسی وفادار کتے کی طرح اس میں عمران کی بو محسوس کی تھی اور نتیجے کے طور پر وہ اس وقت یہاں موجود تھا۔

“کیوں رک گئے؟” عمران نے ٹوکا۔
اس پر اس نے جڑی بوٹیاں فروخت کرنے والے بوڑھے کی داستان دہرائی اور بتایا کہ کس طرح اس نے اس کی جیب سے پستول نکال لیا تھا۔

عمران سوچ میں پڑ گیا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس پر عمران ہونے کی بنا پر حملے ہو رہے تھے یا اس لئے کوئی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا کہ رانا تہور علی صندوقی کا راز معلوم کرسکے۔ یا پھر حملہ آواروں کی نظروں میں بھی تہور علی اور عمران ایک ہی شخصیت کے دو مختلف روپ تھے۔

“بس اسی سے اندازہ کرلو۔ جوزف۔۔ کہ آج کل میں کتنی الجھنوں میں گھرا ہوا ہوں۔۔”
“مجھے ان کا پتہ بتاؤ باس ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا”۔ جوزف بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔

“چلتے رہو۔۔” عمران بولا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ اپنے ماتحتوں کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دے گا ورنہ اس کا امکان بھی ہے کہ اسی سلسلے میں ڈھمپ اینڈ کو کا راز ہی فاش ہوجائے۔
“ہاں تو باس! مجھے ڈھلان پر کیا کرنا ہوگا؟”
“اگر میری عدم موجودگی وہاں کوئی سبز رنگ کا موٹر بوٹ آئے تو تم فورا ہی ایک ہوائی فائر کردینا”۔
“بس صرف ہوائی فائر کردوں گا” جوزف نے پھر مایوسانہ انداز میں پوچھا۔
“تم پر خون کیوں سوار رہتا ہے جوزف؟”
“نہیں تو باس۔۔۔ وہ دراصل میں سوچتا ہوں کہ مجھے پھانسی کیوں نہ ہوجائے میں نے سنا ہے کہ اب اسپرٹ بھی لائسنس کے بغیر نہیں ملا کرے گی۔ مجھے کون لائسنس دے گا اس لئے بہتر یہی ہے کہ میں کسی کو قتل کرکے جیل چلا جاؤں”
“اور اگر میں ہی تمہیں قتل کردوں تو۔۔”
“نہیں اس کی بجائے میری بوتلوں میں اضافہ کردو۔ باس” جوزف گھگھیا۔
“اب روزانہ پانچ ہزار ڈنڈ۔۔”
“مم۔۔ مرا۔۔ نہیں۔۔ نہیں باس میرے پھیپھڑے پھٹ جائیں گے”۔
“خاموش رہو۔ ہم شراب خانے کے قریب ہیں! تم یہیں سے اسی پگڈنڈی پر مڑ جاؤ! آگے چل کر یہ دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہوگئی ہے مگر تم بائیں جانب مڑ جانا۔ پگڈنڈی نہ چھوٹنے پائے۔ اس طرح تم ٹھیک اسی جگہ پہنچو گے جہاں ٹھہر کر تمہیں میرا انتظار کرنا ہے”۔
“اچھا باس!”جوزف کسی بہت ہی ستم رسیدہ آدمی کی طرح ٹھنڈی سانس لے کر پگڈنڈی پر مڑ گیا۔۔

عمران جو اب روشنی میں آچکا تھا یعنی طور پر جوزف کے لئے ایک مسئلہ بن کر رہ جاتا۔۔ اسی لئے اور بھی اس نے اسے اندھیرے ہی میں رخصت کردیا تھا! وہ دراصل ایک بوڑھے بھکاری کے روپ میں تھا اور اس کے جسم پر چیتھڑے جھول رہے تھے
جوزف چلتا رہا اس مقام کو پہچاننے میں بھی اسے کوئی دشواری نہیں پیش آئی۔ جہاں پگڈنڈی دو شاخوں میں بٹ کر مخالف سمتوں میں مڑ گئی تھی وہ عمران کی بتائی ہوئی سمت پر چلنے لگا۔۔

ہوٹل کی پشت پر پہنچ کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں گہرا اندھیرا فضا پر مسلط تھا کہیں کہیں روشنی کے نقطے سے نظر آرہے تھے۔

جوزف لاکھ ڈفر سہی لیکن خطرات کے معاملہ میں وہ جانوروں کی سی حس رکھتا تھا اس نے سوچا کہ فائر کرنے کے بعد وہ کیا کرے گا اگر کچھ لوگ آگئے اور وہ پکڑ لیا گیا تو۔۔کیا باس اسے پسند کرے گا۔۔

اب وہ کوئی ایسا درخت تلاش کرنے لگا جسے فائر کرنے کے بعد اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کرسکے۔
اچانک ایک موٹر بوٹ گھاٹ سے آلگی۔۔
جوزف نے تیزی سے جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن پھر آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا بھلا اندھیرے میں موٹر بوٹ کا رنگ کیسے نظر آتا ہیڈ لیمپ کی روشنی بھی اسے نہ ظاہر کرسکتی تھی۔۔
“او۔۔ باس!” جوزف دانت پیس کر بڑبڑایا۔ “تم نشے میں تھے یا مجھے ہی ہوش نہیں تھا سبز رنگ۔۔ ہائے سبز رنگ۔۔ زرد نکلے تو کیا ہوگا۔۔ نیلا۔۔ اودا۔۔ کتھئی۔۔ زعفرانی۔۔ اب میں کیا کروں۔۔؟ او باس۔۔
وہ کھڑا دانت پیستا رہا پھر اپنے سر پر مکے مارنے لگا،
بہرحال اب اس کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ عمران کو تلاش کرکے پوچھتا کہ اندھیرے میں موٹر بوٹ کا رنگ کیسے دیکھا جائے؟
وہ شراب خانے کے صدر دروازے کی طرف چل پڑا۔ اسے یقین تھا کہ عمران شراب خانے ہی میں ملے گا۔۔ شاید اس نے کہا بھی تھا۔۔
شراب خانہ پوری طرح آباد ملا اس کی چھت زیادہ اونچی نہیں تھی۔ دیواریں اور چھت سفید آئل پینٹ سے رنگی گئی تھیں بس ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی بہت بڑے بحری جہاز کا شراب خانہ ہو لیکن یہاں اتنی صفائی اور خوش سلیقگی کو دخل نہیں تھا۔

لوگ میلی کچیلی میزوں پر بیٹھے تاڑی یا دیسی شراب پی رہے تھے ویسے بھی یہاں قیمتی شرابیں شاذونادر ہی ملتی تھیں،
یہاں پہنچ کر جوزف کی پیاس بری طرح جاگ اٹھی۔ وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور چندھیائی ہوئی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھتا رہا لیکن یہاں کہیں اسے عمران نہ دکھائی دیا۔
وہ جو ابھی زیادہ نشے میں نہیں تھے اسے گھورنے لگے تھے۔
دفعتا ایک بوڑھا آدمی جھومتا ہوا اپنی میز سے اٹھا اور جوزف کی طرف بڑھنے لگا اس کے ہاتھ میں گلاس تھا۔

اس کی ہیت کذائی پر جوزف کو ہنسی آگئی۔ یہ ایک پست دبلا پتلا آدمی تھا چہرے پر اگر داڑھی نہ ہوتی تو بالکل گلہری معلوم ہوتا آنکھیں دھندلی تھیں۔

جوزف کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا اور اس طرح سر اٹھا کر اس کی شکل دیکھنے لگا جیسے کسی منارہ کی چوٹی کا جائزہ لے رہا ہو۔۔
“کیا ہے۔۔؟” جوزف کھسیانے انداز میں ہنس کر پوچھا۔
“مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہارے کانوں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے مجھے۔۔لاؤڈ اسپیکر نہ استعمال کرنا پڑے”
“ہام” جوزف اسے پکڑنے کے لئے جھکا اور وہ اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔
“خفا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں بہت غم زدہ آدمی ہوں”۔ بوڑھے نے رونی آواز میں کہا۔ وہ انگریزی ہی میں گفتگو کر رہا تھا۔
“کیا ہوا ہے تمہیں”۔ جوزف غرایا۔
“ادھر چلو۔ میں تمہیں پلاؤں گا! تمہیں اپنی دکھ بھری داستان سناؤں گا مجھے یقین ہے کہ تم میری مدد کرو گے بہت زیادہ لمبے آدمی عموما مجھ پر رحم کرتے ہیں”۔
“میں نہیں پیوں گا۔۔” جوزف نے احمقانہ انداز میں کہا اور پھر چاروں طرف دیکھنے لگا۔
“کیا تمہیں کسی کی تلاش ہے”۔ بوڑھے نے پوچھا۔
“نہیں۔
“تو پھر آ۔ نا۔۔ غم غلط کریں۔ تم مجھے کوئی بہت شریف آدمی معلوم ہوتے ہو”۔
“ہاں۔!” جوزف نے سر ہلا کر پلکیں جھپکائیں۔
“آ۔۔ دوست آ۔ تمہارا دل بہت نورانی ہے۔

cross of christ

cross of christ

جوزف سچ مچ خوش ہوگیا اپنی صفائی دل کے متعلق کسی سے کچھ سن کر وہ نہال ہوجاتا تھا۔ ایسے مواقع پر اسے فادر جوشوا یاد آجاتے جنہوں نے اسے عیسائی بنایا تھا اور جو اکثر کہا کرتے تھے کہ “تم سفید فاموں سے افضل ہو کیونکہ تم کالوں کے دل بڑے نورانی ہوتے ہیں”۔
بوڑھا اسے اپنی میز پر لے آیا۔
“اوہ۔۔ شکریہ! میں گھر سے باہر کبھی کچھ نہیں پیتا” جوزف نے کہا۔
“یہ بہت بری عادت ہے دوست گھر پر پینے سے کیا فائدہ۔ کیا دیواروں سے دل بہلاتے ہو!”
“عادت ہے۔۔! جوزف نے خواہ مخواہ دانت نکال دیئے۔
“نہیں میری خاطر! پیو! میں بہت غم زدہ آدمی ہوں۔۔ میری بات نہ ٹالو! ورنہ میرے غموں میں ایک کا اور اضافہ ہوجائے گا!”
“تمہیں کیا غم ہے؟”
“ایک دو۔ نہیں۔۔ ہزاروں میں!۔۔ بس تم پیو پیارے۔۔ یہی میرے غم کا علاج ہے۔ تم بہت نیک آدمی ہو ضرور پیو گے مجھے یقین ہے۔۔!”
“کیا میرے پینے سے تمہارے غم دور ہوجائیں گے!” جوزف نے بڑی معصومیت سے پوچھا!
“قطعی دور ہوجائیں گے۔۔!”
“اچھا تو پھر میں پیوں گا! خدا تمہاری مشکل آسان کرے!” جوزف نے انگلیوں سے کراس بنایا۔
“کیا پیو گے؟”
“تاڑی۔۔ سالہاسال ذرے کہ میں تاڑی نہیں پی۔۔!”
“مذاق مت کرو پیارے۔!” بوڑھے نے کہا۔
“میں مذاق نہیں کر رہا”۔ جوزف کو غصہ آگیا!
“اچھا۔۔ اچھا۔۔ تاڑی ہی سہی”۔ بوڑھے نے کہا اور اٹھ کر کانٹر کی طرف چلا گیا۔ واپسی پر اس کے ہاتھوں میں تاڑی کی بوتل اور گلاس تھے۔

جوزف نے حلق تر کرنا شروع کیا! جب کھوپڑی کچھ گرم ہوئی تو میز پر گھونسہ مار کر بولا۔ “بتاؤ کس کی وجہ سے تمہیں اتنے دکھ پہنچے ہیں؟”
“ابھی بتاؤں گا۔۔ سننے سے پہلے آج کا غم دہراؤں گا!”
تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر بوڑھے نے کہا۔ “ہزاروں روپے کی شراب برباد ہوجائے گی۔ اگر میں نے دو گھنٹے کے اندر ہی اندر کوئی قدم نہ اٹھایا!”
“شراب برباد ہو جائے گی!” جوزف نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔
“ہاں! پانچ بیرل۔ یہاں سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر جنگل میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ہی انہیں وہاں چھپایا تھا۔ اب اطلاع ملی ہے کہ پولیس کو شبہ ہوگیا ہے! اس لئے وہ عنقریب وہاں گھیرا ڈالنے والی ہے۔ کاش میرے بازوؤں میں اتنی قوت ہوتی کہ میں ان بیرلوں کو قریب ہی کے ایک کھڈ میں لڑھکا سکتا!”

“یہ کون سی بڑی بات ہے”۔ جوزف اکڑ کر بولا۔ “میں چل کر لڑھکا دوں گا!”
“اوہ۔۔ اگر تم ایسا کرسکو تو ایک بیرل تمہارا انعام۔۔!”
“لاؤ۔۔ ہاتھ”۔ جوزف میز پر ہاتھ مار کر بولا! “بات پکی ہوگئی! میں لڑھکاؤں گا اور تم اس کے عوض مجھے ایک بیرل دو گے!”
پھر تاڑی کی مزید دو بوتلیں ختم ہونے تک بات بالکل ہی پکی ہوگئی اور جوزف لڑکھڑاتا ہوا اٹھا۔۔ بوڑھا آدمی کسی ننھے سے بچے کی طرح اس کی انگلی پکڑے چل رہا تھا!۔۔
یہ جوڑا دیکھ کر لوگ بے تحاشہ ہنسے تھے۔۔ اور جوزف تو اب اسے قطعی فراموش کرچکا تھا کہ یہاں کیوں آیا تھا۔۔

تحریر: ابن صفی

جاری ہے۔

جڑوں کی تلاش ( پہلی قسط)
جڑوں کی تلاش ( قسط 2)
جڑوں کی تلاش (آخری قسط )