اندھی، گونگی اور بہری قوم

kifait hussain

kifait hussain

پاکستان میں سیاست اور سیاستدانوں کی شبیہ ملک کے رائے دہندوں میں اسطرح مجروح ہوئی ہے کہ اب رائے دہندگان انتخاب کے عمل میں عدم دلچسپی کا اظہار کرنے لگے ہیں جس کی اہم وجہ سیاستدانوں کی الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام سے بے رُخی اخیتار کر لینا ہے۔سیاستدان پارلیمنٹ میں پہنچنے کے بعد عوام کو ایسے بھول جاتے ہیں جیسے کوئی کسی کی اُدھار لوٹانا بھول جاتاہے،مالک نوکر کی تنخواہ بڑھانا بھول جاتاہے، خاوند شادی کی اینورسری بھول جاتاہے اور جیسے تھانیدار مرضی کی ایف آئی آر لکھتے وقت،وکلا ء جھوٹ کو سچ ثابت کرتے وقت، جج غلط فیصلے کرتے وقت، ڈکیت ڈکیتی کرتے وقت، قاتل قتل کرتے وقت، کھلاڑی کھیل بیچتے وقت، عالم ِ دین قتل وغارت کی تبلیغ کرتے قت اور حکمران کرپشن کرتے وقت اللہتعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔

 

آج اگر رائے دہندگان کو کسی بھی سیاسی لیڈر یا کسی بھی سیاسی پارٹی پر یقین نہیںرہا تو اس کے ذمہ دار اور قصوروار خود سیاسی لیڈرز ہیں کیونکہ تما م سیاستدانوں اور انکی پارٹیز کے منشور نے عوام کو بُر ی طرح مایوس کیا ہے اب صورتحال ایسی نہیں رہی کہ اس بات پر بحث کی جائے کہ کون اچھا ہے یا کون بُر اہے اس وقت عوام سبھی کو گالیاں دے رہے ہیںاور اب عوام کو اس بات کا یقین چکا ہے کہ یہ سب اند ر سے ملے ہوئے ہیں اور ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیںجب ان کے مفاد ات ایک ہوجاتے ہیں تو یہ سب مل جاتے ہیںاور جب وقت آتا ہے عوام کے مسائل کا تو انکی آپس میں لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں ہما رے منتخب کردہ نمایندگان کی آپس میں ہونے والی بحث وتقرار اور مار کٹائی کے چکر ہی میں آج پاکستان ریلوے ، سٹیل مل اور پاکستان ائیر لائین کا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ بجلی کی طویل ترین لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش نے پاکستان کو معاشی طور پر معذور کردیاہے لیکن مجال ہے کہ ان مسائل کے بارے میں اسمبلیوں میں ہمارے منتخب کردہ نمائندگان نے کبھی بات تک کرنا بھی مناسب سمجھا ہو خیر سے ہماری اسمبلیوں کے اجلاس جن گالی گلوچ کے ساتھ شروع ہوتے ہیں انہیں بیہودہ الفاظوں کے ساتھ ہی ختم ہوجاتے ہیں عوام اور اُن کے مسائل گئے بھاڑ میں کسی کو کوئی پرواہ نہیں اور فکر ہو بھی کیسے فکر تب ہوتی ہے جب کوئی کسی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے اور کسی کا درد اُسی وقت محسوس کیا جا سکتا ہے جب کوئی خود اُس تکلیف سے گزرا ہواپنے آپ کو عوام کا خادم کہلوانے والے ہمارے وزیر ،مشیرجو خود بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہوں جن کے کتوں کے لیے بھی الگ بیڈرومز ہوں وہ کسی بے گھر کی تکلیف کو کیا سمجھیں گئے کہ انتہا کی سردی میں غضب کی گرمی میں یا پھر تیز بارشوں میں بغیر چھت کے کھلے آسماں تلے زندگی کیسے گزاری جاتی ہے اور ایسے لوگ جو کروڑوں روپے مالیت کی لگژری کاروں میں سفر کرتے ہوں انہیں ان لوگوں سے کیا واسطہ جو کئی کلومیڑ ز کے فاصلے پیدل چل کر طے کرتے ہیںکیونکہ دن بدن پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ٹرانسپوٹ کے کرایہ جات اتنے بڑھ چکے ہیںکہ بسوں اور رکشوں پر بھی سفر کرنا اب غریب آدمی کے بس کی بات نہیں رہی اور جو لوگ اپنا معمولی سے معمولی علاج دبئی، لند ن یا امریکہ سے کرواتے ہوں اور صرف امپورٹڈمیڈیسنز استعمال کرتے ہوں انہیں پھر کیا احساس ہوگا اُن لوگوں کا جو پاکستان کے ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویا ت کے استعمال سے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں، کسی کو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ جہاں آگ لگتی ہے وہی جگہ جلتی ہے اورجن کے محلوں میں روشنیوں کے لیے بڑے بڑے رنگ برنگے فانوس لگے ہوں سردیوںمیں چوبیسوں گھنٹے ہیٹرز اور گرمیوں ائیر کنڈیشنڈ چلتے ہوں انہیں گیس یا بجلی کی لوڈشیڈنگ ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑ تا ہے ہاں اگر کسی کو کوئی فر ق پڑ تا ہے تو وہ ہیں پاکستان کے غر یب عوام کیونکہ اگر گیس کی بندش سے جب رکشہ ڈرائیور یا ٹیکسی ڈرائیور کی دہاڑی نہیں لگتی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے فیکڑ یوں میں کام کرنے والے مزدور وں کو مزدوری نہیں ملتی اور جب یہ لوگ اپنے معصوم بچوں کو جھوٹی تسلیاں اور دلاسے دے کر بھوکے پیٹ سُلاتے ہیںتو ایسے لوگوں کو گیس یا بجلی کی لوڈشیڈنگ ہونے سے فرق ضرور پڑتا ہے۔

 

ہمارے سیاستدان ،بیوروکریٹس ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ہماری عدلیہ سب مزے میں ہیں اور شان وشوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اگر اس وقت پاکستان کے موجودہ مسائل سے پریشان صرف عام عوام ہیں تو اس کے قصور وار بھی ہم خود ہی ہیںکیونکہ یہ تمام لوگ وہی تو ہیں جو پچھلی چھے دہائیوں سے شکلیں بدل بدل کر ہمارے جذبات سے کھیل رہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج تک ہم عوام ان بہروپیوں کے اصلی چہروں کو بے نقاب نہیں کرسکے کیونکہ ہم لوگ اندر سے کھوکھلے بے بس اور لاچار ہو چکے ہیں ہمارے دشمن ہماری سرحدوں میں گھس کر ہمارا قتل عام کر رہے ہیںہمارے اپر ڈرون پھینکے جا رہے ہیں ہماری موت کا سازو سامان ہماری ہی سرحدوں سے گزار کر ہمارے دشمنوں تک پہچایا جا رہاہے اور ہمارے حکمران پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیںکیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور نظر آتے ہیں۔ تمام سیاسی لیڈرز اور قوم کے خادم تو دن بدن امیر سے امیر تر اور عوام غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں پورے ملک میں کرپشن ،بد امنی ،لوٹ مار اور بیڈ گورننس کی انتہا ہوچکی ہے لیکن افسوس ہماری پوری قوم اندھی ، گونگی اور بہری بنی ہمیشہ کی طرح سب کچھ برداشت کیئے جارہی ہے ہماری خاموشی اور برداشت ہی ہمارے دشمنوں کی سب سے بڑی کامیابی اور جیت ہے۔ آج جہاں ہمیں پاکستا ن کے دشمنوں کو صفہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہمیں اپنی صفہوں میں ایک ہونے کی ضرورت ہے وہیں ایسے وہ تمام سیاسی لٹیرے جو ہمارے ووٹ سے ہی منتخب ہوکر ہمارے پیارے پاکستان کو لو ٹنا چاہتے ہیں ہمیںایسے تمام سیا سی ٹھگوں کو اپنا قیمتی ووٹ نہ دے کر منہ توڑ یہ جواب دینا ہوگا کہ پاکستانی قوم اندھی ،گونگی اور بہر ی نہیں بلکہ خود دار اور غیور قوم ہے۔
تحریر: کفایت حسین کھوکھر