اَب ایران کی بھی سُن لوبھئی…!! اورچھوڑو امریکاکو

ahmadinejad

ahmadinejad

ہوگئی جی… بہت ہوگئی ہے… اَب تو امریکیوں کی جی حضوری کرنے والے ہمارے حکمرانوں کو ایران کی بھی سُن لینی چاہئے جس کے صدر احمدی نژاد نے ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے اپنے انٹرویومیں بڑے پُرتباک انداز سے پاکستانی حکمرانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ” اگر پاکستانی حکمران امریکی دباؤ میں نہ آئیں تو اِن کے ملک میں موجود تمام بحرانوں کا حل ہمارے پاس ہے اور اِس کے علاوہ اُنہوں نے کہاہے کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتاہوں کہ پاکستان کو گیس کی فراہمی کے منصوبے پر ہماری طرف سے کام تقریباََ مکمل ہوچکاہے جبکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اِس پر کام اَب بھی جاری ہے جس کی وجہ بتاتے ہوئے احمدی نژاد نے کہاہے کہ پاکستان میں گیس وصولی جیسے اہم معاملے میں سست روی کی سوفیصد وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان میں امریکاروڑے اٹکانے کی پوری کوشش کررہاہے اور اِسی کے ساتھ ہی ساتھ ایرانی صدر نے یہ بھی کہاہے کہ مجھے یقین ہے کہ جس روز پاکستان اور افغانستان نے خطے سے وابستہ امریکی مفادات کو جان لیااورا مریکا سے دوستی کا ہاتھ کھینچ لیاتو پاکستان، ایران اور افغانستان مل کر خطے میں ایسامثالی امن و استحکام پیداکرسکتے ہیںجس کی تلاش میں اِس خطے کے امن پسند باشندے برسوں سے تھے ”اِس پر ہم یہ کہیں گے کہ ایرانی صدر احمدی نژاد کی اِس دلکش پیشکش کے بعد کیا ہمارے حکمران اِس کا کوئی مثبت جواب دے پائیں گے….؟جس سے امریکا پر یہ تاثر پڑے کہ پاکستان اور ایران کا ایک مضبوط اسلامی بلاک قائم ہورہاہے جس کے بعد خطے میں امریکی مفادات کا ملیامیٹ ہوجائے گا اورکیاہمارے حکمران اِس جانب سنجیدگی سے اقدامات کرتے ہوئے امریکا سے مزید رابطہ رکھنے یا توڑنے کا فیصلہ کرپائیں گے …؟؟یا ایرانی پیشکش کو امریکی دباؤ میں ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دیں گے….؟؟ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں امریکیوں کی صحبت میں رہتے ہوئے نصف صدی سے بھی زائد کا عرصہ گزرچکاہے مگر اَب تک اِس کی جوتی سرپراُٹھائے پھرنے سے ہمیںایک رتی کا بھی فائدہ نہیں ہواہے اورایسے میں تواِس سے اچھائی کی اُمیدرکھناخود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگایعنی ملک کی موجودہ کسمپرسی کودیکھتے ہوئے ہمیں اَب امریکا سے متعلق یہ ضرور سوچناہوگاکہ یہ ہمارے ہے وہ بے فائدہ ثمر ہے جس نے اپنے مفادات کا تو ہم سے بھرپورفائدہ اٹھایامگراِس نے  ہمارے مفادات کا کبھی کوئی خیال نہیں کیا اُلٹا جب اِسے کہیں سے بھی کوئی موقع ملا اِس نے آستین میں چھپے ہوئے سانپ کی طرح اپنے پھن سے ہمیں ڈساہی ہے اور ہم ایک دو بار نہیں بلکہ متعدد مرتبہ اِس کے زہرآلود ڈسے کو برداشت کرگئے اگر اتناکچھ براکرنے والے امریکا سے اَب بھی ہم نے اِس سے خود  کونہ چھڑایاتو پھرہم آئندہ بھی اِس کے اِس فعل سے خود کو نہ بچاپائیں گے …؟؟ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہم میں اپنی حالات زار کو سنبھالنے کی پوری صلاحیت موجود ہے مگر اِس کے باوجود بھی ہم ہمیشہ اِس سے مدد اور تعاون کے طلب گار رہے ہیں اور ہم نے اِس کی مکروہ صحبت میں رہنایا خود کو اِس کے دامن سے چمٹائے رکھنے ہی میں اپنی عاقبت جانی ہے پتہ نہیں ہم نصف صدی سے ایساکیوں کررہے ہیں..؟اور کس کے لئے کررہے ہیں اِس کے بارے میں یا تو سب کوسب کچھ معلوم ہے …یا کوئی کچھ نہیں جانتاہے …یا سب کچھ جان کر بھی انجان بنابیٹھاہے کہ زبان کھولی تو کہیں امریکایا امریکی آقا ناراض نہ ہوجائیں…؟ بہرحال !اَب ہمیں امریکاسے جان چھڑانی ہوگی اور اِس کی مکروہ صحبت سے فوراََنکلناہوگا اِس سے پہلے کہ ہم اِس کے اشارے پر چلتے چلتے اِس جیسے ظالم اور انسانوں کے قاتل بن جائیں جیساآج یہ بن چکاہے۔ حضرت علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ” نااہلوں کی صحبت اہل کو نااہل بنادیتی ہے اور اگر وہ شعلہ ہے تو گھاس پھوس بن کر رہ جاتاہے”اِس میں حکمت ہے سمجھنے والوں کے لئے اور جو اِس کو جان کر رد کرے تو پھر اپنا انجام بھی یہ خُوب جانتاہے اِسی طرح گزرے زمانوں سے اہلِ فکرودانش کا خیال یہ ہے کہ بُروں کی صحبت اچھوں سے بدگمان کر دیتی ہے اِسی لئے تو کہاجاتاہے کہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیارکروآپ کے افعال میں بھی اِن کے افعال کا رنگ خودبخودپیداہوجائے گایہ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہاں ہمیں احسان مند ہوناچاہئے اپنے اُن اہلِ داناکا جنہوں نے بنی نوع انسان کو سمجھانے کے لئے اِس کی مثال کچھ یوں دی ہے کہ ” آم باغ میں ایک آم کے درخت کی شاخ کے ساتھ نیم کی شاخ لگ گئی اور بالکل متصل ہوگئی اِس کا انجام یہ ہواکہ اِس آم کے تما م پھل جوکبھی باغ میں اپنی مثال آپ ہواکرتے تھے یہ سب کے نیم کی تلخی سے تلخ اور کڑوے ہونے لگے یعنی مختصر یہ کہ صحبت کا اثریہ ہواکہ سارے باغ میں اپنی میٹھاس اور خوبصورتی کے حوالے سے جانا ، جانے والاآم کا درخت نیم کے درخت کی ایک یا چندشاخوں کی وجہ سے اپنا بنایاوقار گھوبیٹھااور اپنے اُوپرایک ایسادھبہ لگابیٹھاجس کی وجہ سے اِس کی ساکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مجروح ہوگئی یعنی یہ کہ اگر اپنی بے شمار خصوصیات کے حوالوں سے یہ بے مثال آم کا درخت نیم کی شاخ یا کئی شاخوں سے لّگانہ کھاتاتو یہ اپنی خصوصیات سے کبھی بھی محروم نہ ہوتا مگر چوں کہ اِس نے نیم کی شاخ سے خود کو نتّھی کئے رکھایعنی(جوڑے) رکھاتو اِس کا انجام بھی ویساہی ہوگیا’ ‘ اور اِسی طرح ایک جرمن کہاوت ہے کہ” جب کوئی کبوتر یا مینا کوّوں سے تعلق جوڑلیتی ہے تو اِس کے پنکھ (پَر)سفیدرہتے ہیں لیکن اِس کا دل سیادہ ہوتاجاتاہے اور ایک کہاوت یہ بھی بڑی مشہورہے کہ”ہوشمندوں کے ساتھ رہوگے توہوشمند بن جاؤگے”اور آخر میں ہم اِن تمام اقوال اور کہاوتوں کے بعد اپنے حکمرانوں ، سیاستدانوں ، اپوزیشن رہنماؤ ، عسکری قیادت اور عوام سے بس اتنا ہی کہہ کر اجازت چاہیں گے کہ اَب وقت آگیاہے کہ ہمیں امریکا سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرناپڑے تو ہم کرگزریں چاہئے اِس کے لئے ہمیںجتنی بڑی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے بس ایک بار ہی تو ایساہوگاپھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکاجیسے اُس ظالم و جابر اور فاسق وفجور دوست نما اپنے اصل دُشمن سے نجات مل جائے گی جس نے ہمیںدوست بن کر کسی دشمن سے بھی زیادہ نقصان پہنچایاہے اور آئندہ بھی ہمیں نقصانات پہنچانے کا عزم کررکھاہے ایسے میں ہمیں امریکاکو چھوڑکر ایران کی سُن لینی چاہئے۔محمداعظم عظیم اعظم

azamazimazam@gmail.com