۔۔۔ آگ بگولہ ۔۔۔

Tariq

Tariq

انیس جنوری ٢٠١٢ پاکستانی سیاست میں ایک ایسے دن کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا جس دن پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی توہینِ عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہو ئے اور عدلیہ کے احترام کی ایک نئی تاریخ رقم کر ڈالی ۔ان کا خود گاڑی چلا کر عدالت جانا اس بات کا غماض تھا کہ انھیں پروٹو کول نہیں عدالت کی تکریم زیادہ عزیز ہے انھوں نے عدالت کے رو برو جس خاکساری اور انکسا ری کا مظاہرہ کیا ہے اس نے پا کستان کے منتخب وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی عزت و توقیر میں بے پناہ اضافہ بھی کیا اور ججز کو ایک نیا احساسِ تفاخر بھی عطا کیا۔ ١٩٩٧ میں بھی توہینِ عدالت کے ایک ایسے ہی مقدمے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی عدالت کے روبرو پیش ہو نے کا حکم صادر ہوا تھا لیکن ان دونوں حاضریوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ میاں محمد نواز شریف نے اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تھا وہ کبھی بھی فرا موش نہیں کیا جا سکتا۔مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے سپریم کورٹ کے احترام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی تھیں جبکہ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے رویے سے سپریم کورٹ کو نیا وقار عطا کیا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کا سپریم کورٹ پر حملے کا کارنامہ پاکستان کی پیشانی پر ایک ایسا بد نما داغ ہے جسے کسی بھی صورت میں مٹا یا نہیں جا سکتا۔ مسلم لیگ (ن) لاکھ تو جیہات پیش کرے لیکن اس کے پاس حملے کا کوئی جواز اور توجیہ نہیں ہے۔اس حملے میں سجاد علی شاہ کو چیمبر میں چھپ کر اپنی جان بچانی پڑی تھی اور سارا عدالتی نظام تہس نہس ہو کر رہ گیا تھا۔یہ انانیت کا ایسا مظا ہرہ تھا جس میں چیف جسٹس کی زندگی کو ختم کر دینے کا تہیہ کر لیا گیا تھا ۔ بعد میں ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت سجاد علی شاہ کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں سے بغاوت کروا کر سجاد علی شاہ کو ان کے عہدے سے بر طرف کروایا گیا تھا تا کہ وہ میاں محمد نواز شریف کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں اپنا فیصلہ نہ سنا سکیں کیونکہ میاں محمد نواز شریف میں اس فیصلے کو سننے اور برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ میاں محمد نواز شریف پر جب کبھی بھی ایسا وقت آتا ہے وہ اسی طرح کا ہی رویہ اپناتے ہیں، بریف کیسوں کا سہاا لیتے ہیں اور خریدو فروخت کا بازار سجاتے ہیں ۔ سجاد علی شاہ کے خلاف عدالتی بغا وت میں بھی یہی انداز اپنایا گیا تھا جس میں کئی پارسا چہرے بھی شامل تھے اور اس کارِ خیر کو سر انجام دینے کے صلے میں انہی پارسائوں میں سے ایک انتہائی پارسا شخصیت کو صدارت کے منصب سے بھی نوازا گیا تھا۔
باعثِ حیرت ہے کہ سپریم کورٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے اور اس کے وقار کو خاک میں ملانے والے آج اس کے وقار کے محافظ بنے ہو ئے ہیں اور وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا دینے کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ پر حملہ کر کے انھوں نے خود عدالت کی تضحیک بھی کی تھی اور اس کی عظمتوں کے محل کو زمین بوس کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا یا تھا۔ کتنا ہی اچھا ہو تا کہ وہ سب سے پہلے اپنے کرتوتوں کی سزا پانے کیلئے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے اور اپنے آپ کو پاک و صاف کر واتے ۔میاں برادران نے گھنائونا جرم کیا تھا لہذا ضروری تھا کہ ا نھیں اس جرم کی سزا بھی دی جا تی لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا جو کہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔جرم کی سزا بھگتے کے بعد انسان کے اندر ایک با مشرف شخصیت کا ظہور ہوتا ہے جو موانعاتِ زمانہ کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے لہذا جرم کی سزا پر عملدراری ضروری تھا تا کہ میاں  برادران کی شخصیتوں میں وسعت کا احساس جلو افروز ہو جاتا ۔ میاں برادران اپنے جر موں کی سزا بھگتنے کے بعد   وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے جرم میں سزا دینے کا مطالبہ کرتے تو اس میں وزن ہو تا اور عوام ان کے مطالبے پر کان بھی دھرتے لیکن انھیں تو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آ رہا جبکہ دوسروں کے آنکھ کے تنکے کی تشہیر کر رہے ہیں ۔   وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توہینِ عدالت کا ارتکاب نہیں کیا کیونکہ عدالت نے جس شخصیت کے بارے میں وزیرِ اعظم کو سوئیس عدالتوں کو خط لکھنے کا حکم دیا ہے وہ تو پاکستان کا صدر ہے اور آئین کی کلا ز ٢٤٨ بڑے واضح انداز میں صدرِ پاکستان کے استثنا ء کا اعلان کر رہی ہے لہذا صدرِ پاکستان کے خلاف سوئیس عدالتوں کو کوئی خط نہیں لکھا جا سکتا۔ فرض کریں کہ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی آئین کے اس آرٹیکل کو نظر انداز کرتے ہوئے سوئس حکام کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے کیونکہ آئین بڑے واضح انداز میں صدر کو استثناء کا حق دے رہا ہے۔ صدرِ پاکستان کے استثنا ء کی بات اگر وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلا نی کر رہے ہیں تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ نیب نے صدر کے خلاف قائم کردہ کئی مقدمات (گولڈ کیس) میں پہلے ہی صدرِ پاکستان کے استثناء کو تسلیم کر کے ان کے خلاف مقدمات کی شنوائی کو معطل کر دیا ہوا ہے لہذا صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئیس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا کیونکہ خط لکھنا آئین و قانون کی خلاف ورزی  ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ کچھ حلقوں کی پی پی پی کے ساتھ ازلی دشمنی ہے لہذا اس جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں دیکھنا ان سے برداشت نہیں ہو تا ۔ہم ان مخا لفین سے یہ نہیں کہتے کہ وہ پی پی پی سے محبت کی پینگیں برھائیں اور اس کے ساتھ رومانوی تعلقات کا آغاز کریں لیکن کم از کم عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا تو سیکھیں۔ پی پی پی کی جما عت کوئی آسمان سے تو نہیں ٹپکی بلکہ عوام نے اس جماعت کو اپنے ووٹوں سے منتخب کر کے حقِ حکمرانی عطا کیا ہے لہذا پانچ سال تک حکومت کرنا اس کا آئینی حق ہے۔ پی پی پی کا اندازِ حکمرانی کیسا ہے اور اس نے اپنے دورِ حکومت میں کون سے اہم کارنامے سر انجام دئے ہیں یہ اس وقت مو ضوعِ بحث نہیں ہے بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ جماعت انتخابات جیت کر آئی ہے لہذا ایک خاص مدت تک حکمرانی کرنا اس کا آئینی اور قانونی حق ہے جسے حیلے بہا نوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔پی پی پی کے خلاف وقفے وقفے سے نئے نئے ایشوز اٹھا ئے جاتے ہیں جس میں اسے دفاعی پوزیشن پر کھیلنے کیلئے مجبور کر دیا جاتا ہے تا کہ یہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز نہ کر سکے۔توہینِ عدالت اور میمو گیٹ سکینڈل اسی طرح کے شا خسانے ہیں جن کا واحد مقصد پی پی پی کو الجھانا اور اس کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ اتنے دبائو اور سازشوں کے باوجود وہ جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ تنِ تنہا سازشوں کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن جمہوریت کی شمع کو کسی بھی حالت میں بجھنے نہیں دے رہا جمہوریت کی شمع ذولفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی امانت ہے جو آصف علی زرداری کے مضبوط ہا تھوں میں تھمائی گئی ہے لہذا اس کی حفاظت کرنا اور جمہوریت کی جنگ لڑنا آصف علی زرداری کے فرا ئضِ منصبی میں شامل ہے جسے وہ بڑی بے جگری سے لڑ رہا ہے مجھے یقینِ کامل ہے کہ جمہوریت کی جنگ اس سے بہتر کوئی دوسرا نہیں لڑ سکتا کیونکہ جمہوریت کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں اسی نے دی ہیں لہذا اس جنگ کو لڑنا اور جمہوری کی حفاظت کرنا اس کا فرضِ اولین ہے۔
پاکستان کے مایہ ناز وکیل بیر سٹر چوہدری اعتزاز احسن ایک انتہا ئی قابلِ احترام شخصیت ہیں اور پورے پاکستان میں انھیں ایک خاص قدرو منزلت اور احترام حاصل ہے۔انھوں نے یہ قدر و منزلت جمہوریت کی جنگ میں اپنی ثابت قدمی اور کردار کی بلندی سے حاصل کی ہے۔جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف اس نے وکلاء تحریک کی جس جی داری سے قیادت کی تھی اس نے اسے مقبولیت کی نئی رفعتیں عطا کی ہیں ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مقدمے کوچوہدری اعتزاز احسن نے جس حکمت ودانش سے لڑا تھا اس نے چوہدری اعتزاز احسن کی شخصیت کو ایک نیا روپ عطا کیاہے ۔اسے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور وکلاء تحریک کو چھوڑ دینے کیلئے وزارتِ عظمی کی پیکش بھی کی گئی لیکن اس نے قانون اور انصاف کی بالادستی کے سامنے اس پر کشش آفر کو ٹھکرا کر اصول پسندی کا ایک ایسا بے مثل نمونہ پیش کیا ہے جس تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اصول پسندی اور جراتمندی کیلئے خونِ دل دینا پڑتا ہے تب کہیں جا کر انصاف کا سورج طلوع ہو تا ہے اور وکلا ء تحریک کو چوہدری اعتزاز احسن نے ا پنے لہو سے سینچا تھا تب کہیں جا کر یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو ئی تھی ۔ ایک فوجی ڈکیٹر کو للکارنا کوئی معمولی بات نہیں تھی اور کوئی دل والا شخص ہی ایسا جرات مند فیصلہ کر سکتا تھا۔آج اسی چوہدری اعتزاز احسن نے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر لگائے گئے تو ہینِ عدالت کے مقدمے پر سپریم کورٹ میں پیش ہو نے کا فیصلہ کیا تو مخالفین کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے ہیں کیونکہ انھیں یقین ہو چلا ہے کہ اب انکی قائم کردہ لنکا تو ہینِ عدالت کیس میںچوہدری اعتزاز احسن کے دلائل کے سامنے ڈھے جائیگی اور انکے سارے خواب چکنا چور ہو جائینگے ۔ اسکا ایک نمونہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سپریم کورٹ کے احاطے میں چوہدری اعتزاز احسن کی پریس کانفرنس میں انکے مخالف وکلاء اپنے آپے سے باہر ہو رہے تھے اور انکے خلاف نعرہ زنی کر رہے تھے۔ چوہدری اعتزاز احسن کا پی پی پی سے زندگی بھر کا تعلق ہے لہذا اس جماعت کی حمائت میں کھڑا ہو نا اور اسکا دفاع کرنا انکی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ وکیل کے پاس دلیل کا ہتھیار ہو تا ہے جسکی مدد سے وہ اپنے موقف کی سچائی کو پیش کرتا ہے لہذا کسی بھی وکیل کو سچائی کے اظہار سے روکنا سچائی کا خون کرنے کے مترادف ہے ۔ سپریم کورٹ کے احاطے میں چند وکلا ء کی نعرہ بازی اور ہلڑ بازی سچائی کے اظہار کو روکنے کی ایک بھونڈی کوشش تھی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )