ایچ ای سی کو 19 ارب کا خسارہ

HEC

HEC

دو ہزار بارہ ملک میں اعلی تعلیم کے شعبے کیلئے بد ترین سال رہا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن انیس ارب روپے کے خسارے میں چلا گیا ۔آئندہ برس کیلئے بھی ترقیاتی منصوبے رک گئے۔

آپ یہ جان کر شاید مایوسی ہو کہ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے صرف آٹھ فیصد نوجوانوں کو ہی اعلی تعلیم تک رسائی حاصل ہے۔ بنگلہ دیشن میں یہ شرح تین گنا زیادہ یعنی پچیس فیصد جبکہ بھارت میں دوگنا زیادہ ہے۔ پاکستان میں یہ شرح انتہائی کم ہو بھی کیوں نہ جب اعلی تعلیم ترجیح ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو سال دو ہزار آٹھ نو کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں سولہ ارب چالیس کروڑ روپے جاری کیئے گئے۔

ہر سال ان فنڈز میں کمی واقع ہوتی گئی۔ دو ہزار گیارہ بارہ کے دوران یہ فنڈز سکڑ کر صرف نو اعشاریہ چھہتر ارب روپے رہ گئے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران اعلان کے باوجود نو ارب روپے جاری نہ ہونے اور نئے مالی سال کے دوران فنڈز میں کٹوتی کے باعث ہائر ایجوکیشن کمیشن اس وقت انیس ارب روپے کے خسارے میں ہے۔ فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث اعلی تعلیمی سکالر شپ پروگرام اور ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہوئے۔

جب وائس چانسلرز اور ایچ ای سی حکام مالی مشکلات کا شکوہ کرنے وزیر خزانہ کے پاس گئے تو انکا یہ کہنا تھا کہ اگر رقم کا سوال نہ ہوتا بات چیت اچھی ہوتی۔ دوسری جانب حکومت نے ایچ ای سی کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی جس کے بعد اعلی تعلیمی کمیشن اور حکومت کے درمیان تقرریوں کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا اور ایچ ای سی کے سرکاری امور عملا رک کر رہ گئے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو وزیر اعظم کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔