بے معرکہ دنیا میں کوئی قوم نہیں ابھرتی

Pakistan

Pakistan

یہ فطرت کا اٹل قانون ھے چشم فلک نے بڑے بڑے انقلاب دیکھے  قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں تاریخ کے صفحہ قرطاس پر بکھری ھوئی ہیں کبھی سمیری،بابل و  نینوا عروج پہ تھے ان کے فخر کا تاج مصریوں نے  چھینا اور تہذیب کو نئی رفعتوں سے ہمکنار کیا۔مصریوں کے غرور کو یونانیوں نے توڑا۔ایران میں آریائوں کا قافلہ فتح سے ہمکنار ہوا  ہی تھاکہ چٹانوں سے ایک  نوجوان  سکندراعظم اٹھا اور مغربی ایشیا سے لے کر مصر اور ہندوستان کو روندتا چلا گیا۔اسی طرح منگولوں،رومیوں،عیسائیوں اور مغلوں نے اپنی آزادی کی شمعیں روشن کیں۔

جب کوئی قوم طاقت و ہمت اور بے پناہ جذبیسے آگے بڑھتی ہے تو نئے مرحلے  اور منزلیں طے کرتی ہے۔آزادی ایک لازوال نعمت جس سے کسی کو کو بھی انکار  نہیں غلامی تو آخر غلامی ہے ذہنی ہو یا سماجی یااقتصادی غلامی کا طوق گلے  میں ایک  عذاب کی ماند محسوس ھوتا ھے۔

پاکستان 14  اگست کو دنیا کے نقشے پر ابھرا اور اس آزادی کی جو قیمت  قوم نے ادا  کی وہ مشرقی پنجاب سے ھجرت کر کے  آنے والوں سے پوچھیں یا ان سے پوچھیں جنہوں نے  لہولہان قافلوں کا استقبال کیا۔انگریزوں کی پولیس کے تشددسے کئی ایک دماغی اور بعض جسمانی طور پر مفلوج ہو گئے،بعض کی بینائی آنسو گیس نے ختم کر دی  الغرض جہا د آزادی کے مجاہدوں اور شہیدوں کی قربانیوں کو چند لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ھم زندہ  ہیں لہذا ھمیں اس آزادی کا تحفظ کر نا  ھو گامگر افسوس ھم بہت ناشکری قوم ہیں ملک کے پیچیدہ ترین حالات نے ہماری آزادی کے لئے خطرہ پیدا کر دیا ہے ۔اقتدار پرستی کی لعنت ہمیں آدھے ملک سے یوں بھی محروم کر چکی ہے ایک وہ قیادت جس نے بکھری ہوئی عوام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا  اور ایک یہ قیادت جس نے جمع شدہ عوام کو بکھیر کے  رکھ دیا۔

Pakistan Elections

Pakistan Elections

ُُُٰمیرے ایک کالم نگار دوست نے پچھلے دنوں ایک معلوماتی کالم تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا۔ڈپریشن اوراس سے بچائو میں نے وہ پڑھاتو بارہا میرے ذھن میں آیا کہ ا س کی سب سے بڑی  وجہ  یہ کہ ھم اپنا  اس دنیا میں آنے کا مقصد اور اپنا نصب العین فراموش کر چکے  ہیں۔ھم محض اپنے نفس کے غلام اور کٹھ پتلی بن کر رہ  گئے ہیں۔سوچ کا  محور محض اپنی ذات ہے نہ کہ ملک اور قوم پاکستان ایک ایسی عمارت کی ماند ھے جس میں شامل اینٹوں میں بے شمار زندگیوں، عصمتوں اور عزتوں کے نذرانے ہیں،پاکستان اسلاف کی بیشمار قربانیوں کا  ثمر ہے،مگر ہم اس پھل کو کھانے کے اہل نہیں رہے  ہم اپنے نصب العین کھو دیا ہمارے دل اند ھے ہو گئے اور اب ہم انگاروں کو لعل بدخشاں سے تعبیر کر رہے ہیں  بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔تذکرہ کرنا چاھتی تھی حالات کا اب جب کہ الیکشن سر پہ ہیں تو ہر کوئی  عوام اور ملک کے واری صدقے ہو رہا ہے۔بلند و بانگ دعوئوں کے دلفریب نظاروں کی جھلک دکھا کے ایک بار پھرخالی پیٹ اور ننگے پائوں کو آبلہ پائی کے سفر کے لئے تیار کیا جا رہا  ہے۔

آزمائے ہوئے،ہارے ہوئے۔پٹے ہوئے ،نقابوں میں لپٹے ہوئے چہرے۔ماسک سجائے،سب میدان میں اتر آئے ہیں ۔یہ سب عوام  کی جانب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں  کہ ہر کوئی اس دکھی اور زخمی عوام  سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مگر میں ایک  کھری اور  سچی بات کہوں  تو عوام کو اب جاگ جانا  چاہیے۔ مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔جھوٹے وعدوں کے بہلائوں سے نکل  آنا چاہیے۔اپنی تقدیر اپنے ہاتھ کرنی چاہیے۔تب ممکن ہے کوئی راہ نجات نکل آئے۔

SOCIAL SECURITY HOSPITAL

SOCIAL SECURITY HOSPITAL

ہمارا نجات دہندہ وہی ہو سکتا ہے جو خود ھم  جیسا ہو جس نے بھوک  افلاس  کا مزہ چکھا ہو  اور وہ جانتا ہو کہ اگر اس کے دور اقتدار میں ایک جانور بھی بھوکا سویا تو روز حشر اس کے سر پہ بار ہوگا، جو اگر بیمار ہو تو اپنے ملک کے سرکاری اسپتال میں لائن میں لگ کے چیک کروائے نہ کے  لندن بھاگا جائے۔جسے خوف خدا بھی ہو اورخوف خلق بھی۔جو قرآن پاک کو محض حلف لینے کا زریعہ نہ بنائے بلکہ گواہ بنائے اور دل میں خوف رکھے۔سب کو برابری کے حقوق دے کسی کی حق تلفی نہ کرے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  ہے۔

تحریر : ڈاکٹر فوزیہ عفت