اطہر مقبول کے بیٹے کی ضد اور موجودہ ضلعی سیاسی نقشہ

Pakistan Election

Pakistan Election

پورے پاکستان کی طرح اس مرتبہ ضلع لیہ میں بھی آئندہ الیکشن خاصے ہنگامہ خیز اور دلچسپ ہوں گے کیونکہ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی بہت سے سیاسی فگرز پھرغریب عوام پر احسان جتلاتے ہوئے اپنی وفا داریاں تبدیل کر چکے ہیں کیونکہ مہر فضل حسین سُمرا مسلم لیگ نون سے چھلانگ لگا کر تحریک انصاف کی تیز گام پر سوار ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اُن کی اگلی منزل کیا ہے ، اُن کے سیاسی جانشین اُبھرتے ہوئے نوجوان مہر یاسر وسیم سُمرا کہتے ہیں کہ اب ہماری اُمیدوں کا مرکز صرف اور صرف تحریک انصاف ہی ہے کیونکہ اب اگر وہ سیاسی پلیٹ فارم تبدیل کرتے ہیں تو اُن کا سیاسی قد کاٹھ کم پڑ سکتا ہے اور اس وقت مہر فضل حسین سُمرا تحریک انصاف ضلع لیہ کے کارکنان اور عوام میں اپنے ورک کی بنیاد پر اچھے خاصے مقبول ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب پارٹی تبدیلی کے حوالے سے اُن کی فلاسفی سماعت کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہر فضل سُمرا ایک نظریاتی اور محب ِ وطن راہنماء کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔

ابن الوقت کی لغوی تعریف اُن پر صادر نہیں آتی ،کیونکہ ابن الوقت وہ ہوتے ہیں جو صرف اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کے لیے سوچتے رہتے ہیں کہ کس پارٹی میں رہ کر اپنی تجوری کی وسعت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے مہر فضل حسین سُمرا اس لحاظ سے کرپشن فری سیاستدان ہیں جو اُن کے نظریاتی پن کو ظاہر کرتی ہے ، یاد رہے ہم نہ تو کسی کے مخالف اور نہ ہی کسی کے حاشیہ بردار ، اُٹھائی گیر اور خوشہ چیں ، ہم دراصل اُس سوچ اور ذہنیت کے طرفدار ہو تے ہیں جو ملک و قوم کے لیے مخلصانہ جذبوں سے لیس ہو کر سوچتی ہے اور ہر اُس فکر اور نظریہ کی مخالفت کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں جو غلام ذہنیت کی پیداوار ہوتے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر خود بھی ناچتے ہیں اور قوم کو بھی نچانے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہیں ہم افراد کے نہیں بلکہ افراد کے ذہنوں میں پرورش پانے والی غلیظ اور تعفن زدہ سوچ کے مخالف ہیں کیو نکہ ہماری دینی تعلیمات ہمیں گناہ گار سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت کا درس دیتی ہیں۔

PML N

PML N

ایثار پیشہ وہ نہیں جو لفافہ ازم کا شکار ہو کر اپنی قلمی عصمت کو داغدار کریں اور اپنے الفاظ کو ایک طوائف کی طرح ”قلمی کوٹھے ” کی زینت بنائیں جینوئن اہلِ صحافت آئینے کی حیثیت سے گلی کی نکڑ اور چوک چوراہے پر جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ قوم کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے جس کا ہمارے حکمران بُرا منا جاتے ہیں ، غلام حیدر تھند قاف لیگ میں حبس ، گھٹن اور بلا کی گرمی برداشت نہ کرتے ہو ئے مسلم لیگ نون کی چھتری تلے پناہ لینے پر آمادہ ہیں اور پُر اُمید ہیں کہ شریف برادران ان کی تمام تر سابقہ غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے اُنہیں اپنے پروں کے نیچے چھُپا لیں گے مگر نوجوان قیادت عابد انوار علوی اپنے سا تھیوں کے ساتھ الیکشن میں تھند کے راستے میں ”سپیڈ بریکر ”کا کردار ضرور ادا کر سکتے ہیں۔

پیر آف جگی شریف کا مستقبل بھی خاصہ مخدوش نظر آرہا ہے کیونکہ انہوں نے بھی حلقہ کی غریب عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کے عرصہ میں دنیا کا کوئی صحت افزا ”ٹھنڈا ٹھار ”اور ”دِلبہار ” ملک نہیں چھوڑا جہاں انہوں نے اپنی حاضری نہ لگوائی ہو ، اور اعجاز اچلانہ کی پوزیشن بھی تھانہ سیاست اور انتقامی جذبے کی وجہ سے نہایت کمزور ہے اور اب اُن کے حلقہ 265سے تحریک انصاف کے ڈاکٹر اقبال دستی ، پیر سید فضل حسین گیلانی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں سیاسی ویژن ڈاکٹر اقبال دستی کا زیادہ معلوم ہوتا ہے اگر انہوں نے تحریک میں شامل چند ایک مفاد پرست ، ابن الوقت اور حاشیہ بردار قسم کے لوگوں کے مشورہ پر عمل نہ کیا اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی کاوشوں کو جاری رکھا تو امید کی جا سکتی ہے کہ حلقہ 265 میں تحریک انصاف کے فیورٹ امیدوار ہو سکتے ہیں اور اعجاز احمد اچلانہ کو چا روں شانے چِت گرا سکتے ہیں، اعجاز اچلانہ گزشتہ دنوں سولو FM 89 پر جنابِ محسن عدیل کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرما چکے ہیں کہ کوئی جھنگ سے آئے یا سرگودھا سے اُنہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اُن کا اشارہ پیر سید فضل شاہ گیلانی کی طرف تھا جن کا حلقہ265میں اچھا خاصہ ووٹ بینک موجود ہے اور یہ بات بھی ہم سب جانتے ہیں کہ جنہوں نے کھوسہ فیملی کی طفل تسلیوں کی بنیاد پرعرصہ ایک سال سے مسلسل اپنے آپ کوحلقہ 266کے کھمبوں ، چوک چوراہوں پر لٹکا رکھا ہے ہمارے زائچے کے مطابق اُن کا بھی دال دلیہ گلنے والا نہیں تھا اور وہ الیکشن کے دنوں میں بھی صرف کھمبوں پر ہی لٹکے نظر آئیں گے بلکہ اب تو بعض جگہوں پر”محبین ”نے اُنہیں اُلٹا بھی لٹکا رکھا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب تک اُلٹے لٹکے رہیں گے ؟گزشتہ دنوں لاہور میں میاں شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات کا حال تو قارئین جان چکے ہوں گے کہ کس طرح ”گڈے ”والے کی ”عزت افزائی ” ہوئی ،اس عزت افزائی میں پیر آف جگی شریف کا نمایاں کردار نظر آتا ہے اور یہ بات بھی سننے میں آرہی ہے کہ شریف برادران نے اس مرتبہ کھوسہ فیملی کو جھنڈی کرانے اور ہنجرا فیملی کو گلے لگانے کا فیصلہ کر رکھا ہے ، احمد علی اولکھ کے لاڈ پیار کی وجہ سے صاحبزادہ فیض الحسن پیر آف سواگ بھی کپتان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

Imran Khan

Imran Khan

پیر آف سواگ کے سیاسی پارٹنر اطہر مقبول کی ہمدردی اندر کھاتے بہر حال کپتان کے ساتھ ہے اور وہ تحریک انصاف کی قیادت سے کئی مرتبہ رابطہ بھی کر چکے ہیں اور تو اور اِن کا پانچ چھ سال کا بیٹا ضد کر رہا ہے کہ پاپا جی اس مرتبہ ورلڈ کپ کے ہیرو عمران خان کو ووٹ دینا ہے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ہیں باقی سب سیاستدان جھوٹ بولتے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ اطہر مقبول آنے والے دنوں میں کیا فیصلہ کرتے ہیں ، وہ جھوٹوں کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر حق گوئی کا پرچم تھامے اہلِ حق کا ، دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے پردھان منتری جو فیلڈ میں پھنے خان بننے میں کوشاں نظر آتے ہیں گھر میں آتے ہی ”جورو ” کی غلامی اور بچوں کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں ، آنے ولے وقتوں میں سردار بہادر خان سیہڑ بھی کسی نئی پارٹی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں ،کچھ کہا نہیں جا سکتا ، قاف لیگ موجودہ حکومت سے جان چھڑانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بہانے تلاش کر رہی ہے تاکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے اور ہمیشہ ایسے ہوتا آیا ہے کہ اقتدار کے شروع میں تو اتحادی خوب اقتدار کی پینگ میں بیٹھ کر مزے کے جھولے جھولتے رہتے ہیں۔

مگر جوں جوں الیکشن قریب آتے جاتے ہیں اتحادی حکومت سے دور ہوتے جاتے ہیں تاکہ الیکشن میں عوام کے سامنے اپنی صفائی پیش کر سکیں کہ ہم نے عوام کے حقوق کی خاطر اقتدار کو پائوں کی ٹھوکر سے اُڑا دیا ہے جیسا کہ میاں برادران اب کر رہے ہیں چار سال تک فرینڈ لی اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور اب چور مچائے شور والا کردار ۔۔۔۔۔۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے عوام با شعور ہو چکے ہیں اور لوٹے لُٹیروں کی اصلیت جانتے ہیں ،ہم بھی اپنے زائچے کے مطابق تیار کیے گئے حقائق اپنے قارئین کے سامنے لاتے رہیں گے۔

تحریر : نعمان قادر مصطفائی

Noman Qadir Mustafai

Noman Qadir Mustafai