ایک اور خونِ رائیگاں

Blood

Blood

25دسمبر 2012 ایک ایسی صبح جس دن غیرت کے نا م پر آواز بلند کرنے والے ایک اور بھائی کو ہمارے وڈیراں خاندان کے ایک سپوت نے 9mm کی چار گولیاں برستے ہوئے موت کے گھات اتار دیا ۔ گویہ کوئی نئی بات نہیں وڈیراں کلچر کے followersایسی چھوٹی موٹی حرکتیں اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ “جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” والے اس ملک میں ایسے لوگوں کی لاٹھی کافی مضبوط ہوتی ہے اور انھیں یقینا زمینی خداہونے کا بھی دعویٰ ہوتا ہے تبھی وہ انتہائی ڈھٹائی سے جرم کر نے کے بعد بھی A.C روم میں آرام پذیر ہوتے ہیںاور victim کو ان کے خلاف FIR کٹوانے کے لیے ہزاروں فون کالز اور محتلف سفارشات ڈھونڈنی پڑتی ہیں اور اس کے بعد بھی اگر بات بنے تو بنے ورنہ FIR کا رجسٹر ان کے لیے کورے کا کورا ہی رہتاہے۔

کیسا ملک ہے یہ کہ جہاںکے لوگوں کے پاس اتنا تک اختیار نہیں کہ وہ کسی اثرو رسوخ کے بغیر First investigation reportتک درج کروا سکیں اور ہمارے حکمران بات کرتے ہیں نظام بدلنے کی۔ پہلے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق تو فراہم کئجیے باقی تو بعد کی بات ہے۔ ہمارے صدر آصف علی زرداری صاحب کا ملالہ ڈے پر پیغام تھا کہ “پاکستان کی بیٹی پر حملے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے ” جبکہ ایسے سینکڑوں حملے روز کراچی میں ہوتے ہیں اور کئی بے گناہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور اب شہزیب کے قتل کی مثال بھی سامنے ہیں تو اب کیوں آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھے ہیں ؟ کیوں ابھی تک قاتل گرفت سے باہر آزاد گھوم رہا ہے؟ کیا وڈیراں کلچر پر کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا؟ پولیس کی پہنچ صرف کمزور لو گوں کے گریبان تک ہی ہو تی ہے؟ کیا کسی وڈیرے کا بیٹا قتل ہوا ہوتا تو بھی قا تل یوں آزاد گھوم رہا ہوتا؟

Shahzeb Khan

Shahzeb Khan

سچائی تو یہ ہے کہ اب تک وہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔ تو گویا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے اثرورسوخ والے تو جو چاہیں کرتے پھریں۔ اور پھر شہزیب خان کا قتل تو بہت سے ایسے واقعات کی کڑیوں میں سے بس ایک کڑی ہے ورنہ ایسے بہت سے بے گناہ اور victimsہیں جو کبھی سامنے بھی نہیں آ پاتے اور نہ ہی ظلم کرنے والوں کے چہرے بے نقاب ہو پاتے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو سامنے آجاتے ہیں انھیں کس حد تک انصاف مہیہ کیا جاتا ہے؟ انھیں اپنے اس بنیادی حقوق کو حاصل کرنے کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں جیسا کہ شہزیب خان کے ورثاء اور عزیزاپنے اس بنیادی حق کو حاصل کرنے کے لیے 30دسمبر کو مارچ کریں گے جبکہ یہاں اگر کسی وڈیرے کا بیٹا قتل ہو ا ہوتا تو اس کے ورثاء کو یہ سب کرنے کی ہر گز ضرورت نہ پڑ تی بلکہ ممکن تھا کہ میڈیا اسے live coverage دیتااور پھر کئی ہفتو ں تک مجبور عوام کو قاتل کا چہرہ دیکھنا پڑتا۔ مگر وڈیرے کے بیٹے کے لیے یہ سب شاید نارمل سی بات تھی کیونکہ وہ اپنے خاندان کے اثررورسوخ سے آگاہ تھا اور ایسے میں امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ بھی اپنی اجارہ گری قائم رکھیں گے آج بھلا victim شہزیب خان اور اس کی بہن ہی سہی کل کوئی اور ہو گا۔ مگر انھیں زوال نھیں۔democracy کی باتیں کرنے والی وہ تمام پاڑٹیز اب کہا ں ہیں؟ وہ تمام این جیوز جو انسانی حقوق کے نام پر غیر ملکی اداروں سے فنڈز وصول کر تی ہیں؟ چیف جسٹس آف پاکستان کو این آر او ، دوہر ی شہریت رکھنے کا کیس،سی این جی کی قیمتوں کا کیس ،ارسلان افتخار کا کیس نظر آتا ہے مگر یہ نہیں؟؟

اور نہ ہی کسی کو کراچی میں شہید ہونے والے سینکڑوں لوگ نظر آتے ہیں جہاں PPکی اکثریت ہو نے کے باوجود بھی کو ئی reformsنہیں کروائے جا رہے جس کی وجہ سے روز کے روز کوئی نہ کوئی دل دھلا دینے والا واقعہ سامنے آجاتا ہے ۔ اگر ہما رے حکمران یہ سب ہینڈل نہیں کر سکتے تو وہ نااہل کیوں نہیں ہو جاتے ؟؟؟ آخر اتنے لوگوں کی جانوں کو رسک میں کیوں ڈالاہواہے؟؟؟؟

Justice

Justice

عام عوام کے لیے کیا اس ملک کوشہری ہونا ہی جرم ٹھہراہے ؟ اس آزاد ملک میں کیاواقع ہی ہم آزاد ہیں؟؟ کیا عام انسان کو انصاف کی فراہمی کی لیے آئندہ 65سال اور انتظار کرنا پڑے گا؟ کیا وڈیراکلچر کبھی ختم نہیں ہو گا؟ کیا ہر غیرت کے نا م پر آواز بلند کر نے والے کا گلا ایسے ہی گھونٹ دیا جائے گا؟ کیا پاکستان ہمیشہ “جس کی لاٹھی اس کی بھینس “والے قانون پر ہی عمل پیرارہے گا؟ کیا اس ملک کا عام شہری کبھی اتنا مضبوط ہو پائے گا کہ وہ بلا خوف و خطر ظلم کے خلاف آواز بلند کر سکے اسے reportکر سکے؟ کیا پاکستان میں صرف اپنے مفاد کی خاطر لڑنے والوں ،اور اپنی ایمانداری کا سودا کرنے والوں کا خاتمہ ہو پائے گا؟ کیا اس کرپٹ سسٹم سے عوام کی جان خلاس ہو سکے گی؟ کیا ہمارا معاشرہ کبھی امن کا معاشرہ بن سکے گا؟ کیا ہم کبھی انسانیت کے کا احترام کرنا سیکھ پائیں گے؟

میرے لکھنے کا مقصد صرف شہزیب خان کے قتل ہی کو ہائی لائٹ کرنا نہیں ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ یہ واقع بھی کل کو کو ئی اور شکل اختیار کر لے اہمیت تو اس بات کی ہے کہ ہر زیادتی کر نے والے کو سزا دی جائے ۔ قانون کی گرفت ہر انسان کے لیے یکساں مضبوط ہو اور انسانیت کو کچلنے والے ہر فر د کو کیفرِکردار تک پہنچایا جائے ۔ ہر انسان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اس کہ جان و مال کا تحفظ ، عزت کا تحفظ۔ ہر انسان کو اسی شان سے جینے کا حق حاصل ہو جتنا حق اثرو رسو خ رکھنے والوں کو حاصل ہے ۔ کسی کو یہ حق نہ ہو کہ وہ کسی بے گناہ کی جان لے سکے اور پھر سینا تان کے چلتا پھرے ۔

کراچی جیسے پرامن شہر کو آتش کدہ بنا نے کی جرات پھر کوئی نہ کر سکے۔ کسی کو کمزور سمجھ کر کو ئی طا قتور اس کی حق تلفی نہ کر سکے۔ کسی کلچر کو پاورفل ہونے کی وجہ سے سپورٹ نہ کیا جائے بلکہ ہر شہری کوبنیادی پاور زحاصل ہو ںکہ کو ئی دوسرا اس کے ساتھ زیادتی کر نے کا سوچ بھی نہ سکے۔ ہر فرد کو اس کے بنیادی حقوق بغیر کسی امتیاز کے حاصل ہوں۔اور آخرمیںمتذکرہ بالا تمام حقائق کی روشنی میں ایک آخری سوال کے ساتھ اجازت چاہوں گی کہ کیا شہزیب خان کا قتل بھی اس قوم کے لیے ایک اور خونِ رائیگاں ہے؟ یا پھراس بار قوم مصر کی طرح
ایک ریڑی والے کے خون کے بعد انقلاب لانے کے لیے تیار ہے ؟؟؟؟؟؟

Anaiza Chaudhary

Anaiza Chaudhary

عنوان : ایک اور خونِ رائیگاں
تحریر : عنائزہ چوہدری
anaiza512@gmail.com