حج سفر نامہ 2012 (ویانا کی ڈائری)

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

ویانا آسٹریا سے مبارک نورالدین حج گروپ میں تقریباً 350 کے قریب عازمین حج مرد و خواتین نے حج کی سعادت حاصل کی اسی گروپ میں چیچنیا ، بوسنیا ، ترکی ، مصری پاکستانی شامل تھے۔ اس گروپ میں 15 قریب پاکستانی جن میں رانا ریاست علی اُن کی اھلیہ ، چودھری اورنگزیب اور اُن کی اھلیہ ، غلام اظھر اور اُن کی اھلیہ ، یو این او سے حامد اور اُنکی اھلیہ ، فیمیلیز سے عزیز اور اُن کی اھلیہ ، الحاج محمد اکرم باجوہ ، محمد زبیر کیانی ،محمد ناصری اور پراچہ صاحب اعجاز فیلمیلز اور ملک احمد حسن شامل ہیں۔ 350 عازمین حج کا گروپ مختلف گروپوں اور ائیر لائن کے زریعے جدہ پھنچے تھے۔

ھمارا گروپ 3 اکتوبر سپھر ساڑھے تین بجے اگپٹ ائیر لائن کے زریعے براستہ مصر قاھرہ سعودی عرب جدہ پھنچے تھے۔ اس سے پھلے عازمین حج کی روانگی سے قبل ویانا میں مختلف تقریبات اُن کے اعزاز میں منعقد ہوئی تھی۔ ایک بات کسی سے ڈھکی چھپی نھیں کہ انسان اور شیطان کی لڑائی شروع سے ہی چلی آ رہی ہے۔ شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ خدا گھر حاضری کیلئے جا رہے ہیں میں اپنا کردار ادا کروں شیطان مختلف لوگوں کو ورغلاتا ہے اور کھتا ہے کہ وہ فلاں آدمی آپ کے متعلق اچھا نھیں سوچتا۔ پوری دنیا سے عازمین حج کا گروپ جب حج سفر کیلئے روانہ ہونے لگا تو شیطان کی جان پر بنی تھی کیونکہ شیطان نے تو ھمیں ورغلا کر ھمارے گناہوں کے رجسٹرڈ بھر رکھے تھے اب شیطان کو نظر آ رھا تھا کہ خدا اور اُس کے رسول کے ھاں حاضری دیں گے تو جب یہ حج کے تمام رکن پورے کر لیں گے بلکہ آخری تین روز شیطان کو کنکریاں ماریں گے تو میں نے جو کمائی کی تھی خدا نے تو تمام عازمین حج کے گناہ نیکیوں میں بدل دیے اور تمام حجاج کرام کو ایسا کر دیا جیسا وہ آج ہی پیدا ہوا ہے۔

اُس دن شیطان اپنے سر میں دھول ڈال کر اپنا برا حال کر لیتا ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ جو عازمین حجاج ہوتے ہیں وہ خدا کے دعوت نامہ پر خدا کے مھمان ہوتے ہیں اور جس کے ساتھ خدا ہو تو پھر شیطان کی ایک بھی نھیں چلتی۔ عازمین حج جب حج کے سفر پر نکلتا ہے تو شیطان مختلف طریقوں مثلاً فلائٹ لیٹ ، بس کا انتظار کرنا ، پانی نہ ملنا ، ہوٹل کا دور ہونا وغیرہ وغیرہ مگر خدا کا مھمان کا حقدار وہی ہو گا جو صبر کرے گا اور شکر الحمد اللہ کھے گا اور شیطان کو مات دے گا اور صبر کرے گا۔ ھمارا گروپ رات ڈھائی بجے جدہ پھنچا تو امیگریشن کلچر کے بعد نماز فجر ائیرپورٹ پر ادا کی اور بسوں کے زریعے ھمیں جدہ دے مکہ ھلٹن ہوٹل میں جو سفر ایک گھنٹہ کا تھا کئی گھنٹوں کے بعد عمل ہوا۔ ھمارے پاسپورٹ حج منسٹری نے جدہ ہی میں ھم سے لے لیے۔ ھمارا گروپ صبح 9 بجے کے قریب مکہ شریف فائیو سٹار ھلٹن ہوٹل میں پھنچا تو صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد ھم عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے چلے گئے۔

ھمارا گروپ تقریباً پانچ دن مکہ شریف میں قیام پزیر رہا اس دوران میرا بھائی الحاج محمد اشرف باجوہ روزانہ کا معمول تھا ایک دن میرے بھائی نے تمام پاکستانیوں کی دعوت بھی کی جو مدتوں یاد رہے گی۔ ھمارے گروپ کا ارکان روزانہ کبھی زیارت اور کبھی روزانہ دو دو عمرہ کی سعادت بھی حاصل کرتے اور حرم شریف میں عبادت کیلئے زیادہ تر وقت گزارتے۔ مکہ شریف میں 5 روزہ قیام کے بعد آخر وہ وقت قریب آ رھا تھا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی چاھت قربت ھمیں بے چین کر رہی تھی ھمارا قافلہ 16 اکتوبر کو رات ایک بجے کے قریب مدینہ شریف پھنچا تو ھم نے فوراً فوراً اپنا اپنا سامان ہوٹل میں رکھا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قدموں میں حاضری دینے کیلئے حاضر ہوئے نماز فجر ادا کرنے کے بعد حاضری دی اور دل کی جو حسرت تھی پوری کرتے ہوئے صرف ایک ہی الفاظ زبان سے نکلتے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اسلام و علیکم۔

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

ھمارا قافلہ مدینہ شریف میں تقریباً چھ دن قیام پزیر رہا 21 اکتوبر بروز اتوار بعد نماز ظھر ھمارے قافلہ کی واپسی تھے ھمارا قافلہ چھ بسوں کا قافلہ پر مشتمل تھا مگر خوش قسمتی کھیں یا بد قسمتی کھیں میں مگر اپنی خوش قسمتی کھوں گا میری واپسی ایک دن لیٹ ہو گئی 21 اکتوبر کو چار بسوں میں میرا نام نھیں تھا بد قسمتی اسلیے تھی کہ میرا پیارا جواں سال چھوٹا بھائی الحاج محمد اشرف باجوہ اُسی وقت مکہ شریف میں دل کی دھڑکن بند ہونے سے وفات پا چکے تھے تو مجھے میرے بھتیجے نے فون پر اطلاع دی کہ ابو انتقال کر چکے ہیں پھر میرا پاسپورٹ حج منسٹری کے پاس تھا۔ میرا گروپ مکہ شریف کیلئے روانہ ہو گیا میں اکیلا اُس کمرہ میں رہ گیا مگہ وہ رات میرے ہئے بھت بھاری تھی مجھے ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قدموں میں بیٹھنے کی اور مھلت مل گئی تھی وہ 21 اکتوبر والی رات میں نے مسجد نبوی میں قدمین شریف میں گزاری ۔

ریاض الجنتہ اور مسجد نبوی میں عبادت کی بھائی کی مغفرت کیلئے دعا کرتا اور بھائی کی باتوں کو یاد کر کے روتا۔پھر جنت البقی قبرستان میں گیا فاتحہ خوانی کی اور پھر مسجد نبوی آیا تو ایک کونہ میں بیٹھا بھائی کی یاد آرہی تھی اُسی وقت میری آنکھ لگ گئی تقریباً چار گھنٹہ وھاں سویا تھا ایسا لگ رھا تھا جیسے کافی دنوں سے سویا ہوا ہوں اتنا سکون ملا شائد اب اُس کی خواھش ہی کر سکوں اُسی وقت میری ملاقات حضرت سلطان باھو کے گدی نشین صاحبزادہ فیض الحسن سلطان صاحب سے ہو گئی۔ انھوں نے ویانا آنے کا وعدہ کیا ۔ 22 اکتوبر کو میری مدینہ شریف سے مکہ شریف واپسی ہوئی جو تقریباً 12 گھنٹوں پر سفر مشتمل تھا۔ رات 2 بجے بھتہ قریش مکہ شریف ھمارا دو بسوں کا قافلہ پھنچا اور ھمیں کوچوں پر بیٹھا کر حرم شریف لایا گیا تو ھمیں حرم شریف سے تین کلو میٹر دور اُتارا گیا ھمارے گروپ نے نماز فجر کے بعد بڑا عمرہ ادا کر کے ایک عظیم سعادت حاصل کی ۔

اُسی روز میرے بھائی کی نماز جنازہ حرم شریف 23 اکتوبر بعد از نماز مغرب حرم شریف میں امام کعبہ نے پڑھائی۔ اسی دن میں اور میرا ماموں اور بھتیجا محمد عثمان باجوہ میرے ہوٹل بھتہ قریش آئے تو مجھے اور اورنگ زیب اور زیبر کیانی کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ھم وسم باجوہ کے گھر گئے اوعر وھاں کافی لوگ آئے ہوئے تھے افسوس کیلئے پھر ھم سب ھسپتال گئے جھاں بھائی کی میت رکھی ہوئی تھی ھم نے وھاں پر بھائی الحاج محمد اشرف مرحوم کو غسل دیا گیا پھر میت کو ایمبولینس کے زریعے حرم شریف لایا گیا حرم شریف کے باھر میری فیلمیلز کے لوگ ھمارا انتظار کر رہے تھے۔ حج کی موجودگی کی اطلاع تھیں جب بھائی کی جنازہ حرم شریف کی طرف لایا جا رہا گا تو لوگوں کے سر ہی نظر آرہے تھے اور بھائی کی میت ایسے آگے بڑھ رہی تھی جیسے تیرتی ہوئی جا رہی ہے ھم چند لمحوں میں حرم شریف کے اندر جنازہ والی جگہ پر پھنچ گئے نماز مغرب کے بعد امام کعبہ سے تین نماز جنازہ اجتماعی پڑھائی۔

نماز جنازپ کے بعد میت حاجیوں کے ٹھاٹھیں مارتا سمندر کی طرح سروں کے اوپر سے ہوتا ہوا گاڑی تک میت لے گئے پھر ھم سب ایمبولینس میں سوار ہو کر جنت المالا قبرستان کے دوسرے حصہ میں گئے اور بھائی کو اپنے ھاتھوں سے لحد میں اتارا بھائی کو دفن کرنے کے بعد اجتماعی دعا کی اور بھائی کو خدا حافظ کہہ کر واپس گھر آئے تو پھر لوگ اظھار افسوس کیلئے جمع تھے۔ نماز عصر ، نماز مغرب ، نماز عشاء ، اور 25 اکتوبر کو نماز فجر ادا کی تو پھر تمام عازمین حج میدان عرفات میں حج کی عظیم سعادت حاصل کرنے کیلئے روانہ ہوئے۔ پھر میدان عرفات میں ھم سب عازمین حج نے نماز ظھر اور نماز عصر ایک ساتھ ادا کی اس سے پھلے حج کا خطبہ سعودی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ عالم نے دیا۔

میدان عرفات میں اجتماعی دعاؤں کے بعد دوسرے گروپوں کی طرح ھمارا گروپ بسوں کے زریعے مزلفہ کے لئے روانہ ہوا ھم جب مزلفہ پھنچے تو تمام عازمین کی طرح ھمارے گروپ نے بھی اجتماعی باجماعت نماز مغرب اور عشاء اکٹھی باری باری ادا کی۔ رات مزلفہ میں گزارنے اور شیطان کیلئے کنکریاں جمع کیں۔ صبح نماز فجر کے بعد تمام حاجی اپنے کیمپوں یعنی مناء کی طرف پیدل چل دیئے۔ اپنا اپنا سامان کیمپوں میں رکھا پھر شیطان کی مرمت کرنے یعنی کنکریاں مارنے گروپوں کی صورت میں روانہ ہوئے پھلے دن چھوٹے شیطان کو 7 کنکریاں مارنے کے بعد اب ھم کو حکومت سعودی کی جانب سے جو قربانی سنت ابراہیم کا وقت دیا گیا تھا وہ تقریباً دس بجے صبح کا تھا۔ اُس کے بعد ھم نے بال کٹوائے یعنی ٹنڈ کرائی پھر غسل کیا اور احرام اتارا اور دوسرے کپڑے پھنے اور پھر ھم طواف زیارہ کیلئے تیاری کرنے لگے اور ھم سب گروپوں کی صورت میں طواف زیارہ کیا دو نقل مقام ابراہیم پر شکرانے کے ادا کیے پھر صفاء مروا کیا شکرانہ کے نفل ادا کیے اسی طرح حج بیت اللہ کے تمام رکن مکمل ہونے کے بعد بقایا دو دن دوسرے تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں اور ھم سب کا حج بیت اللہ کی عظیم سعادت حاصل کرنے کا مقصد پورا ہوا اور آخر میں تمام عازمین حج نے طواف الوداع کیا اپنے اپنے گناہوں کی معافی مانگی گڑ گڑا کر روئے اور خدا کے گھر میں زبان پر ایک ہی پات تھی یااللہ ھم سب کو اپنے گھر میں دوبارہ بلانا یہ ھماری حاضری آخری نہ ہو ھمارئے گناہ معاف کرنا۔

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

Hajj Group Hajj Safar Nama Vienna Ki Diary

اسی طرح ھمارا گروپ 29 اکتوبر نماز عصر کے بعد پھتہ قریش سے جدہ ائیرپورٹ کیلئے روانہ ہوا اور ھمارا گروپ کا پاکستانی کمیونٹی کی خواتین و مرد نے بڑا شاندار استقبال کیا اور پھولوں کے ھار پھنائے۔ اسی طرح ھمارا حج کا سفر یادگار لمحوں کے بعد احتتام پزیر ہوا۔ میری تمام قارئین سے التماس ہے کہ اسی سال جن لوگوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہے خدا اُن کے حج قبول کرنے کی ضرور دعا کریں اور ھماری دعا ہے کہ خدا آپ کو بھی جلد اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے آمین اور میری آپ سب سے ایک اور درخواست ہے کہ میرا بڑا پیارا خدمت گار بھائی الحاج محمد اشرف باجوہ مرحوم جو ویانا اور پاکستان سے حاجی حج یا عمرہ کیلئے جاتے اُن کی خدمت میں ھمیشہ پیش رھتا آپ سب اُس کی مغفرت کیلئے دعا کریں یاد رہے کہ میرا چھوٹا بھائی الحاج محمد اشرف باجوہ مرھوم بابائے صحافت محمد بشیر ناصر کا بھانجا تھا اور مرحوم نے پانچ بجے جس میں تین لڑکے دو لڑکیاں اور ایک بیوہ سوگوار میں چھوڑی ہے دعا کرنا باجوہ فیملیز کو بھت بڑا صدمہ برداشت کرنے کی خدا ھمت عطا فرمائے۔

پاقی میری دعا ہے جو اس حج سفر نامہ کو شائع کرے یا وقت نکال کر لکھے اور پڑھے اور دوسروں کو بتائے خدا اس کو بھی اپنے گھر میں جلد سے جلد زیارت کیلئے بلائے آمین۔ باقی میں ان حضرات کا بھی بھت ممنون ہوں جو مجھے اور دوسرے حاجیوں کو ویانا ائیرپورٹ چھوڑنے گئے پھر واپسی پر ھمیں ویانا ائیرپورٹ سے لینے گئے خصوصا مسجد البلال کے صدر الحاج محمد اکرم بٹ ،فاروق چودھری ، محسن بلوچ ، ریاض بلوچ ، رانا ادریس ، الحاج محمد مسعود ،منھاج القرآن آسٹریا خطیب علامہ ملک مدثر اعوان، امیر حفیظ اللہ قادری ، صدر خواجہ حاجی محمد نسیم ، محمد نعیم رضا، ملک محمد شفیح اعوان ، امیر حفیظ اللہ قادری ، خواجہ حاجی محمد نسیم ، محمد نعیم رضا ، علامہ ملک مدثر اعوان ، بابائے صحافت محمد بشیر ناصر ، علی عمر باجوہ ، عمیر امین ، حاجی چودھری محمد آصف وڑائچ ، لالہ محمد رمضان ، شیخ محبوب عالم ، حاجی قاسم علی ، محمد مصبین ، حاجی فاروق اکبر ، حاجی آفاق اکبر و دیگر بھت سے پاکستانی کمیونٹی کا تھہ دل سے مشکور ہوں اور ھم سب حاجی ان سب کیلئے دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو بھی اپنے گھر میں دعوت دے اور وہ بھی اپنا ایک اھم فریضہ ادا کر سکیں ۔ دعاں کا طلبگار الحاج محمد اکرم باجوہ ، حاجیوں کے اعزاز میں تقریبات ویانا میں جاری ہیں۔

 

تحریر : محمد اکرم باجوہ