دیکھتے خود کو کبھی بھیڑ میں کھوکر تم بھی

Memories

Memories

دیکھتے خود کو کبھی بھیڑ میں کھوکر تم بھی
لوگ ہوکر نہیں ہوتے وہاں ہوکر تم بھی

میری خواہش تھی کبھی پاس تمہارے رکتا
اپنے پیروں میں لئے پھرتے ہو چکر تم بھی

اِن درختوں کے تلے پہلے بھی لوگ آئے تھے
نام لکھ جاو، میر دوست! یاں پر تم بھی

دِل مرا صبح کو بازار کا حصہ ہوگا
ذہن کو لے کے نکل جاو،گے دفتر تم بھی

رات رانی سی مہکتی ہوئی یادیں میری
سوچ لو مجھ کو تو ہوجاو، معطر تم بھی

لوگ ہوتے ہی اذاں اپنے سفر پر نکلے
جاگ بھی جاو، سمیٹو ذرا بستہ تم بھی

میں نے رو رو کے کیا اپنے لہو کو پانی
آگ میں اپنی ہی جلتے رہے نشتر تم بھی

شاعر: جاوید ندیم