رات کا پچھلا پہر ہے اور میں

loneliness

loneliness

رات کا پچھلا پہر ہے اور میں
جاگتا سوتا نگر ہے اور میں

میں کہ سنگ آسا ہوا ہوں دوستو!
کیسے جادو کا اثر ہے اور میں

حکم ہے جرعہ کشی کا دیکھئے
زہر لب پر قدح بھر ہے اور میں

زندگی صحرا سفر ہے جان لیں
سر پہ تپتی دوپہر ہے اور میں

پھول ، پودے اور بستی سوگئی
آرزو کا اِک شجر ہے اور میں

لوگ سارے بے سماعت ہوگئے
شور کرتا زخمِ سر ہے اور میں

آنکھ میں سب کی بسی ہے خفتگی
تشنہ ناظر ہنر ہے اور میں

ایسا لگتا ہے کہ میں صحرا میں ہوں
رات ہے جاوید گھر ہے اور میں

شاعر: جاوید ندیم