شامی حکومت شہریوں کا قتل عام کرکے جرائم کی مرتکب ہورہی ہے

AmnestyInt

AmnestyInt

شام: (جیو ڈیسک) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شام میں سرکاری فورسز شہروں اور دیہاؤں میں منظم حملوں کی صورت میں شہریوں کا قتل عام کر کے انسانیت کیخلاف جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اپنی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا کہ ملک کے شمال مغرب کے علاقوں میں ایسے بیس سے زائد مقامات کے بارے میں شواہد موصول ہوئے ہیں، جہاں شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ ایک گروپ نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل سے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکوٹر مقرر کیا جائے تاکہ خونریزی کے واقعات کے بارے میں حقائق منظر عام پر آسکیں۔

ستر صفحات پر مشتمل ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس تفصیلی رپورٹ میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پندرہ ماہ سے جاری مظاہرے کے دوران ہونیوالی خونریزی ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے مترادف قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل اور مئی کے دوران تیئس شہروں اور دیہاتوں سے متاثرہ لوگوں کے علاوہ ان دو سو افراد سے بھی بات چیت کی جن کے رشتہ دار بھی حکومت مخالف مظاہروں میں قتل کر دیئے گئے اور ان کے گھروں کو بھی منہدم کر دیا گیا۔