مسلح جدوجہد

TARIQ BUTT

TARIQ BUTT

سردار اختر مینگل نے آج کل اپنے چھ نکات کی وجہ سے پوری پاکستانی سیاست میں ایک کہرامی کیفیت پیدا کر رکھی ہے ۔مینگل خا ندان بلوچستان کا ایک بڑا ہی ہم خاندان ہے اوراس خاندان کو یہ اعزاز بھی حا صل ہے کہ سردار عطا اللہ مینگل کے بعد ان کے ہونہار فرزند سردار اختر مینگل بھی بلوچستان کی وزارتِ اعلی پر فائز رہ چکے ہیں جو کہ نسل در نسل اقتدار کا عندیہ دیتا ہے ۔سرداری نظام ایک تاریخی ورثہ ہے اور ہم نے اس تاریخی ورثہ کو آج بھی گلے لگا یا ہوا ہے۔

موجودہ جمہوری دور میں اس طرح کے مظاہر صرف سرداری نظام کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے معاشرے میں ہی دیکھے جا سکتے ہیں اور ہزار ہا دعو وں کے باوجود ہم نے ان غیر انسانی زنجیرں کو کاٹنے میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا ۔ذولفقار علی بھٹو نے ١٩٧٣ میں اس نظام کے خا تمے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ نظام پھر بھی جوں کا توں ہی قائم ہے۔ سردار عطا اللہ مینگل 1980 کے انتخا بات کے نتیجے میں وزیرِ اعلی بنے تھے لیکن بعد میں ان کی ملک دشمن سر گرمیوں او ر وفاق سے بغاوت کی وجہ سے ذولفقار علی بھٹو نے ان کی حکومت برخا ست کر کے فوجی ایکشن کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے کچھ بلوچ پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے اورملک کے خلاف ایک مسلح جدو جہد شروع کر دی تھی۔ 1977 میں فوجی شب خون کے بعد عطاللہ مینگل لندن میں جلا وطن ہو گئے تھے اور اپنی ملک دشمن سر گرمیوں میں تیزی پیدا کر لی تھی۔یہ 1980 کی بات ہے کہ سردار عطا اللہ مینگل نے اپنی جلا وطنی کے دوران انگلینڈ میں حفیظ پیرزادہ اور ممتاز بھٹو کے ساتھ مل کر ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی جس کی بنیاد کنفیڈریشن پر رکھی تھی۔اس میں چار علیحدہ علیحدہ آزاد ریاستوں کی بات کی گئی تھی جو ایک کنفیڈریشن کی صورت میں قائم ہو نی تھی۔ ہر ریاست کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جب چاہے اس کنفیڈریشن سے علیحدہ ہو جائے کیونکہ وہ آزاد ریاست ہو گی اور آز اد ریاست کیلئے کنفیڈریشن کا حصہ بنے رہنے کیلئے کو ئی دبائو نہیں ہو گا۔

یہ نظریہ در اصل چار علیحدہ، آزاد اور خود مختار ممالک کا نظریہ تھا جسے کنفیڈریشن کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت کے حا لات کا تقاضہ تھا کہ اپنی بات کو اس طرح سے پیش کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹو ٹے ۔ کنفیڈریشن کا یہ نظریہ روئے زمین پر کہیں بھی عملی شکل میں تو موجود نہیں ہے لیکن سردار عطا اللہ مینگل ذاتی انا کی تسکین، اسٹیبلشمنٹ سے نفرت اور پنجاب کو نیچا دکھانے کیلئے اسے پاکستان میں رو بہ عمل لا ناچاہتے تھے۔اس نظریے کی بنیاد چونکہ نفرت پر تھی لہذا برگ و بار لانے سے محروم رہا۔ ان کے اس نظریے کی کچھ حلقوں نے بڑی تشہیر بھی کی تھی لیکن اس نظریے کو کوئی پذیرائی نہ مل سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ عرصے کے بعد کنفیڈریشن کا یہ نظریہ اپنی موت آپ مر گیا اور عطا اللہ مینگل پاکستانی سیاست میں کوئی بھو نچالی کیفیت پیدا کرنے میں ناکام رہے۔اس زمانے میں عطا اللہ مینگل پاکستان کے بارے میں اتنے سحت لب و لہجہ کا ا ظہار نہیں کیا کرتے تھے جس طرح کا لب و لہجہ انھوں نے اب اختیار کر رکھا ہے ۔ در اصل کنفیڈریشن کے نظریے کی موت نے انھیں سخت مایوس کیا تھا اور اسی مایوسی نے انھیں اس راہ پر ڈال دیا تھا جس سے واپسی ان کیلئے ناممکن ہو چکی تھی ۔اب تو وہ کھلے عام پاکستان کو تسلیم نہ کرنے اور اسے توڑنے کی بات کرتے ہیں اور ہمارا میڈیا انھیں ایسا کہنے کا موقع فراہم کرتا ہے حالانکہ اس طرح کی سوچ پر تو آئین کو حرکت میں لایا جا نا چائیے اور جو شخص پاکستان کی اساس اور اس کے وجود پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کرتا ہو اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے عبرت ناک سزا دی جانی چائیے ۔ملکی بقا اور سلامتی کے خلاف اس طرح کی دریدہ دہنی نئے غداروں کو جنم دیتی ہے جو ملکی سالمیت پر گہرے وار کرتے ہیں اور ملک کی بقا کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔سردار عطا اللہ مینگل سے باز پرس نہیں کی گئی تواس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کئی سردار عطا اللہ مینگل پیدا ہو چکے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں اور جن کی نفرت انگیز سوچ کی وجہ سے بلوچستان لہو میں نہا رہا ہے۔

سردار عطا اللہ مینگل آج کل ایک آزاد اور خود مختار بلوچستان کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں اور اس کیلئے انھوں نے مسلح جدو جہد کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔حیر ان کن بات یہ ہے کہ باپ کی کنفیڈرل سوچ کے باوجود ان کے فرزندِ ارجمند سردار اختر مینگل بلوچستان کے وزیرِ اعلی بنائے گئے تھے جس کی وجہ سے کنفیڈریشن کے نعرے کا رہا سہا دم خم بھی ختم ہو گیاتھا کیونکہ اقتدار کے دنوں میں کنفیڈریشن کی نعرہ بازی بند ہو گئی تھی۔ جب اقتدار پہلی ترجیح بن جائے اور ہوسِ اقتداردل و دماغ پر قبضہ کر لے تو نظریات کے ساتھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے اور یہی کچھ کنفیڈریشن کے نعرے کے ساتھ بھی ہوا تھا۔سردار کو اقتدار سے غرض ہو تی ہے اور کنفیڈریشن کا نعرہ بھی سیاسی دبائو بڑھانے اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک حربہ تھا ۔ اس نعرے کے خا لقوں کو بھی علم تھا کہ پاکستانی قوم پاکستان کے اتحاد اور بقا کیلئے سب کچھ دائو پر لگا سکتی ہے لیکن انھوں نے پھر بھی کنفیڈریشن کا نعرہ لگایا محض اس وجہ سے کہ اقتدار حاصل کرنے کا ایک یہ بھی راستہ تھا اور اس راستے سے انھیں اقتدار ملا لیکن ہر بار عید نیست کہ حلوہ خورد کسے۔

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جس میں سدا ہی سرداروں اور نوابوں کی حکومت رہی ہے اور یہ سارے سردار اور نواب حکومت سے مالی مراعات وصول کرتے ہیںلیکن عوام کو کچھ نہیں بتاتے ۔جب سرداروں کا طبقہ اقتدار میں ہو تا ہے تو اسے نہ تو بلوچستان کے عوام کا درد ستاتا ہے اور نہ ہی ان کی بد حا لی ستاتی ہے اور نہ ہی ان کی محرومیاں یاد آتی ہیں بلکہ وہ اقتدار کے نشے میں مست رہتے ہیں اور اس نشے میں ہر چیز ہوا ہو جاتی ہے۔ایسا بگٹی، جمالی،جام،عمرا نی، رئیسانی ،مینگل،مری اور دوسرے خا ندانوں نے بھی کیا۔جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ اس میں سب کو اپنی رائے دینے کا اختیار حاصل ہو تا ہے لہذا جو جماعت بھی عوامی رائے پرپوری اترتی ہے اسے حکومت سازی کا اختیار حاصل ہو جا تا ہے۔اب ہر سردار کی دلی خوا ہش ہو تی ہے کہ بلوچستان کے سارے خزا نوںکا وارث اسے بنا دیا جائے اس بات سے قطع نظر کہ اس کی نام نہاد سیاسی جماعت کو عوامی حمائت حاصل ہے یہ کہ نہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے مارشل لائی دور میں بلوچستان کی ساری جماعتوں نے انتخا بات 2002 میں حصہ لیا تھا لیکن فروری2008 کے انتخابات میں با ئیکا ٹ کر کے اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی ما ر لی تھی ۔ میاں محمد نواز شریف کی ا یما پر انھوں نے ایسا کیا تھا لیکن میاں محمد نواز شریف نے خود انتخابات میں حصہ لے کر ان کے ساتھ عہد شکنی کی تھی۔ اگر بلوچستان کی اہم سیاسی جماعتیں انتخانات میں حصہ لیتیں تو پھر ملکی معاملات میں ان کی مضبو ط آواز ہو تی لیکن انھوں نے بائیکاٹ سے اپنی آواز کو خود ہی کمزور بنا لیا تھا ۔ اب نگر نگر ڈھنڈورا پیٹنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ مسلح جدو جہد کہیں پر بھی بار آور نہیں ہو سکتی۔ کشمیری پچھلے 64سالوں سے مسلح بغاوت پر اترے ہوئے ہیں لیکن ان کی کہیں پر بھی شنوائی نہیں ہو رہی ۔اگر وہ جمہوری راہ اپناتے تو شائد اب تک کشمیر آزاد ہو چکا ہو تا ۔کشمیر کا مقدمہ تو بڑا ہی واضح ہے کہ ایک آزاد مسلم ریاست پر بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کر کے اسے زبر دستی بھارت کا حصہ بنا لیا تھا جو تقسیمِ ہند کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی تھی ۔ بھارتی حکومت نے ہر اصول اور ضابطے کو پسِ پشت ڈال کر کشمیر پر قبضہ کر لیا کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا اور اسے شہ رگ کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنا تھا ۔ لاکھوں لوگوں کی جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود آزادی کشمیریوں سے کوسوں دور ہے کیونکہ انھوں نے جمہوری راہ کو چھوڑکر مسلح جدو جہد کی راہ کا انتخاب کرلیا حالانکہ جس طرح ان کی آزادی کو بالجبر سلب کیا گیا تھا ان کے پاس ایسا کرنے کا بڑا مضبوط جواز تھا لیکن پھر بھی مسلح جدو جہد مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتی ۔کشمیر کے تنازعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن بھارت پھر بھی کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

کشمیری جانیں لٹا رہے ہیں لیکن انکی قربانیاں رنگ نہیں لا رہیں کیو نکہ انھوں نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ موجودہ دنیا کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔یہ دور جمہوری اور شخصی آزادیوں کا دور ہے جس میں جمہوری قدریں فتح یاب ہو رہی ہیں ۔ کشمیری اگر انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس میں حصہ لے کر اسمبلیوں تک پہنچتے اور اپنا نکتہ نظر اسمبلی میں پیش کرتے تو ان کی آواز زیادہ موثر اور جاندار ہوتی اور دنیا اسے وزن دے کر کوئی حل تلاش کرتی۔بلوچستان کا معاملہ تو بالکل مختلف ہے یہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور اس نے بر رضا ئے رغبت دل کی کامل یکسوئی کے ساتھ آزادی کے فارمولے کے تحت پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی ۔پاکستان بلوچوں کے دل کی آواز تھا،بلوچوں کے دل کی آواز ہے اور بلوچوں کے دل کی آواز ر ہیگا اور اس آو از کو کوئی مسلح جد و جہد نہ کچل سکتی ہے نہ دبا سکتی ہے۔

Balochistan

Balochistan

پاکستان سے محبت بلوچوں کے لہو میں رچی بسی ہے اور پھر بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے جسطرح اپنے لہو سے پاکستان کے دفاع کیلئے اپنی شجاعتوں کے چراغ روشن کئے ہیں وہ ہر پاکستانی کیلئے باثِ فخر ہیں لہذا کچھ گروپوں کی جانب سے مسلح جدو جہد سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ بلوچ عوام دل و جان سے پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔کشمیریوں کے دل کی آواز بھی پاکستان تھا لیکن کشمیری راجہ نے کشمیریوں کی خواہشوں کے برعکس ایک سازش کے تحت کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کردیا جس کی شہ پا کر بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا جو آج تک جاری ہے۔ جہادی تنظیموں نے جس طرح سے کشمیر کی فضا کو مبارزاتی،مخاصماتی اور اسلحے کی زبان عطا کر رکھی ہے اس سے کشمیر کی آزا دی کوسوں دور چلی گئی ہے اور بھارت کو پرو پیگنڈے کا موقع میسر آگیا ہے ۔ کشمیریوں کو انتخابی سیاست پر لبیک کہتے ہوئے آزادی کی جنگ جاری رکھنی ہو گی جیسے برِ صغیر پاک وہند میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے جاری رکھی تھی۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی بائیکاٹ اور ہڑتالوں کا سہارا لے کر ووٹ کی قوت سے دستبرداری اختیار کی تھی ۔ انھوں نے انگریزوں سے جمہوری انداز میں جنگ لڑی تھی اور 1945 کے انتخابات میں ایک علیحدہ وطن کے نام پر ووٹ حاصل کر کے مخالفین کو شکستِ فاش سے دوچار کیا تھا ۔کیا کشمیری اس انداز کو اپنا کر اپنی فتح کی راہ ہموار نہیں کر سکتے۔

تحریر : طارق حسین بٹ( چیرمین پیپلز ادبی فورم یو اے ای)