وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جاری

gilani

gilani

اسلام آباد: (جیو ڈیسک) سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جاری ہے۔ وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ آج وزیراعظم کی جانب سے جمع کرائے گئے ان کے تحریری بیان پر بحث کی جائے گی۔

اس سے قبل وزیراعظم نے جمع کرائے گئے بیان میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا اور صدر کے خلاف سوئس مقدمات کھولے جانے سے متعلق خط کو آئین سے انحراف قرار دیا ۔ مقدمے کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بینچ کریگا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر وزیراعظم کے دستخط کے ساتھ سپریم کورٹ میں چوبیس صفحات پر مشتمل ایک تحریری بیان جمع کرایا گیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے ایک جج پر وزیراعظم نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، وزیراعظم کا موقف ہے کہ ایک جج نے ان کے خلاف سخت فیصلہ دیا تھا۔وزیر اعظم نے موقف اپنایا ججز بھی انسان ہوتے ہیں، ان کا ذہن بھی پہلے سے متاثر ہو تو عدالتی کارروائی اور فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا سخت فیصلہ دینے والے جج کو اس بینچ کا حصہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر وزیراعظم کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ صدر کے خلاف خط نہ لکھنے کا فیصلہ آئین کے مطابق کیا۔ سوئس حکام کو خط لکھنا ضروری نہیں، انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کا معاملہ کی طرح یہ معاملہ بھی پارلیمنٹ بھیجا گیا تھاتاکہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے کے ملک کے صدر کے خلاف خط لکھنا ہے یا نہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ صدر کو سول مقدمات میں پوری دنیا میں استثنی حاصل ہے، منتخب صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے نہیں بھیج سکتے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت سے کچھ نہیں چھپایا، سوئس حکام سے متعلق وزارت قانون کی سمری پر عمل درآمد کیا۔