یوم القدس

bait ul muqdas

bait ul muqdas

بیت المقد س کاتصور بچپن سے میرے لیے ایک خا ص کشش کا با عث رہا ہے بیت المقدس جو تا ریخی اعتبا ر سے انبیاء کرام اور پیغمبروں کی سر زمین کہلا تی ہے جو ساری دنیا کے مسلما نوں کی اولین قبلہ گا ہ رہی ہے مسجد اقصٰی کی رو حانیت اور اس کے دامن میں بنی بیت الصخرہ ایک خو بصورت سنہرے گنبد اور اسلا می فن تعمیر کا اعلیٰ شاہکار مسجد ہے ہر مسلمان کی طرح میں نے بھی اس آرزو کو دل میں جگہ دی کہ کبھی نہ کبھی اسکی زیا رت ضرور ہو گی ایک نہ ایک دن اسلا می مرکز کے روشن ستاروں میں سے ایک ستارہ ضرور بنے گا ا س میںپنج وقتہ اذانیں اور نماز کا رو ح پرور نظارہ بھی ہو گا لیکن آج جب انٹر نیٹ پر اس مسجد کی شکستہ دیو اریں اور جگہ جگہ کھدائی کی ہو ئی حالت دیکھتی ہو ں تو بے حد دکھ ہو تا ہے خا ص کر اس با ت پر کہ دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں مسلما نوں کے ہو تے ہو ئے اس مسجد کی یہ حالت ہم سب کے لیے با عث شر مندگی و ندامت اور لمحہ فکریہ ہے۔

اس کی جتنی مذ مت کی جا ئے کم ہے اقوام متحدہ کے چارٹر آف انسانی حقو ق میں بھی تما م انسانوں کو اپنی عبا دت گا ہو ں میں عبادت کی کھلی آزادی ہے یہ وہ حق ہے جسے کسی طور پر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن فلسطین کی سر زمین پر مسلمانوں کے حقوق کی پا مالی کی جنگ شروع ہو ئے ایک صدی سے زیا دہ عرصہ ہو گیا ہے۔
فلسطین کا شہر جو یہو دیوں ، عیسا ئیوں اور مسلما نوں تینوں کے لیے مقدس سر زمین کی حیثیت رکھتا ہے جس میں حضرت سلیما نْ ُ کی تعمیر کر دہ معبد ہیںجو بنی اسرا ئیل کے نبیوں کا قبلہ سمجھا جا تا ہے یہی شہر حضرت عیسیٰ علیہٰ سلا م کی جا ئے ولا دت ہے اور انھوں نے اپنی تبلیغ کا مر کز بھی اسی شہر کو بنا ئے رکھا ہم مسلما نو ںکا عقیدہ ہے کہ چٹان سے نیچے معراج کی رات ہما رے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم حضرت جبرا ئیل امین کے ہمراہ براق پر سوار ہو کر آسمان پر گئے جہا ں اللہ سبحان وتعا لیٰ نے انھیں نماز کا تحفہ عنا یت فرما یا مسلما نوں نے قبلہ کی تبد یلی سے پہلے تک اسی طرف رخ کر کے نما ز یں ادا کی۔

2ھجری 624 ء ھجری تک یہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہا بیت المقدس جسے القدس بھی کہتے ہیںسب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ سلام اور ان کے بھتیجے حضرت لو ط علیہ سلا م نے عراق سے ہجرت کر نے کے بعد یہاں بیت المقدس کی تعمیر کی حضرت یعقوب علیہ سلا م نے وحی الہیٰ کے حکم سے مسجد بیت المقدس ( مسجد اقصیٰ ) کی بنیاد ڈالی جب نبی کر یم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم معراج کو جا تے ہو ئے بیت الصخرہ پر پہنچے تو وہا ں نہ کو ئی مسجد تھی نہ کو ئی ہیکل تھا اس لیے قرآن مجید میں اس جگہ کو مسجد اقصیٰ کہا گیا ۔17ھجری 630ء میں عہد فا روقی رضی اللہ تعالیٰ عنھو میں بیت المقدس پرمسلما نوں کا قبضہ ہوا تو اس علا قے کو صا ف کیا گیا وہا ں ایک چٹان نظر آئی اس چٹا ن کے ساتھ ایک مسجد بنا ئی گئی جو مسجدا قصیٰ کہلا ئی خلیفہ عبدالما ک بن مروان کے عہد میں685 ء میں691 ء کے درمیا ں کثیر سر ما ئے سے چٹان کے اوپر صخرہ معراج پر قبلہ الصخرہ تعمیر کیا گیا ۔

sultan

sultan

جو اس وقت کے فن تعمیر کا اعلیٰ نمو نہ تھی یہ ہشت پہلو عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خو بصور ت ترین عما رتوں میں شمار کی جا تی ہے ۔ 1099ء پہلی صلیبی جنگوں کے مو قع پر یو رپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایک لاکھ کے قریب مسلما نوں کو شہید کیا 1187ء میں سلطا ن صلا ح الدین ایو بی نے بیت المقدس کو دوبا رہ عیسا ئیوں کے قبضے سے چھڑا لیا ۔پہلی جنگ عظیم د سمبر 1917ء میں جنرل اسمبلی نے دھا ندلی سے کا م لے کر فلسطین عربوں اور یہو دیوں میں تقسیم کر دیا اس کے نتیجے میں 78 فی صد علا قے پر اسرائیل قابض ہو گیا تیسری عرب اسرا ئیل جنگ جون 1967میں اسر ئیلیوں نے بقیہ فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا یہ امریکہ اور بر طا نیہ ہی تھے جنھوں نے پہلی جنگ عظیم سے پہلے اسرا ئیلیوں کو فلسطین میں بسا نے کی کوشش میں پیش پیش رہے اور فلسطینی عوا م کو ان کی زمین سے بے دخل کر نے میں ہر طر یقہ کی تعا ون اور مد د اسر ائیل کو دیتے رہے ، آج بر طا نیہ کی اسی شہ کی بنا ء پر فلسطینی مسلما ن اپنے ہی وطن میں مہا جرین کی زند گی گز ارنے پر مجبو رہیں ۔

1948ء میں فلسطینی سر زمین پر اسرا ئیل نے اپنی ریا ست بنا نے کا اعلا ن کیاتو امر یکہ اور بر طا نیہ نے بھر پو رتعا ون کیا بر طا نیہ کے اسی تعا ون کی وجہ سے اسے ” اسر ئیل کا خنجر ” کے خطا ب سے بھی نو ازا گیا بر طا نیہ میں قا ئم ہونے وا لی ہر حکو مت نے فلسطین ،اسرا ئیل مسئلہ کو حل کر نے کا دعو یٰ بڑے زورشورسے کیے، مگر عملی ا قدما ت پر عمل کبھی نہیں کیا گیا ۔اسرا ئیل کی ہرظا لما نہ کا روا ئی کو نظر اندا زکر نے کی پا لیسی نے اسے اس قدر دلیر بنا دیاہے کہ اسکا جب جی چا ہتا ہے نہتے فلسطینیوںپر بکتر بند ٹینکوں اور گن شپ ہیلی کا پٹروں سے گولیوں کی بو چھا ڑ کر دیتا ہیں ہم آئے دن ان کی بر بریت کامنہ بو لتا ثبو ت فلسطینی شہید بچوں ،نو جوانوں اور روتی التجا کرتی ما و ںکی صو رت میں میڈیا پر دیکھتے ہیں مگرانسا نی حقو ق کی بین الا قوامی تنظیمو ں کے کا نوں میں جو ں تک نہیں رینگتی مسلما نوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں مسلما نوں کو نمازپڑھنے کی اجا زت نہیں اسر ائیلی مغر بی قو مو ں سے اپنی ہر جا ئز ونا جا ئز با ت منو انے پر قادر ہیں ۔

جب تک پوری امت مسلمہ اسرا ئیل کے خلاف متحد ہو کر فلسطینی مسلما نوں کا ساتھ نہیں دیتی اس وقت تک اسر ائیل کے ظلم کم ہو نے والے نہیں پوری دنیا میں میں القدس منا نے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب تک ہم خود متحد نہ ہوں گے انسانی حقوق کے علم بر دار مغربی ممالک کواسرا ئیلی سر پرستی کے خلا ف آواز بلند کرنے کے لیے کیسے اقدامات پر اکسا سکتے ہیں ترکی جو اسلا می ممالک میں وا حد ملک ہے جس نے اسرا ئیل کو تسلیم کیا لیکن کچھ عر صے قبل ترکی کے امدادی ساما ن پر ہو نے والے حملہ کے بعد اس کی طرف سے فلسطینی مسلما نوں پر ہو نے والے مظالم کے خلاف شدت آئی ہے اسرائیل نے معا ہدہ کیمپ ڈیوڈ اور معا ہدہ اوسلو کے تحت مذاکرات میں آزاد فلسطینی ریا ست کے حق کو تسلیم کیا تھا وہ اس سے اب منکر ہے۔

Britain and America

Britain and America

دیگر ممالک کے شرکا ء میں بر طا نیہ اور امریکہ شامل تھے جنھوں نے اس معاہدے کی رضا مندی دی تھی لیکن یہ ممالک بھی آج خاموشی اختیار کئے ہو ئے ہیں اس وقت عالم اسلا م اہم سنگین مسئلوں سے دوچار ہے جن میں پہلا القدس کی آزادی،برما کے لا کھوں مسلما نوں کی در بدری وکسمپرسی اور مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے قبلہ اول کی آزادی صلب ہو ئے مدت ہو ئی فلسطین نے آزدی کے لیے ایک طویل جنگ لڑی آج ان کا اپنا وجود لہو لہو ہے نقل مکا نی کیے کئی عشرے گذر گئے وہ کیمپوںمیں زندگی گز ارنے پر مجبور ہیں آج پوری امت مسلمہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کر تے ہو ئے قبلہ اول کو ان کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے متحد ہو کر نتیجہ خیز اقداما ت کرنے ہوں گے تما م عالم اسلام کے مسلما نوں کو اسرائیل کی غاصبا نہ قبضے سے رہا ئی دلا نے کے لیے سو چنا ہوگاکچھ کرنا ہو گا ۔َََ تحریر: عینی نیا زی