۔۔۔ دہرا معیار ۔۔۔

Tariq

Tariq

پاکستانی عدلیہ کی داستان بھی انتہائی دلچسپ اور عجیب و غریب ہے کیونکہ اس کے دامن پر مہم جوئوں کو آئینی جواز عطا کرنے کے فیصلوں کے اتنے بڑے بڑے داغ ہیں جس نے اس ادارے کی توقیر اور عزت و وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سچ یہی ہے کہ عدلیہ پاکستان میں فوجی مہم جوئی کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ اسے سندِ جواز بھی عطا کرتی رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ کرنا اور اقتدار پر ناجائز قبضہ جمانا ایک معمول کی کاروائی بن کر رہ گئی ہے۔ فوجی جنتا کا جب جی چاہا اس نے ما رشل لاء لگا کر سیاست دانوں کی کھٹیا کھڑی کر دی۔جسٹس منیر کا وہ تاریخی فیصلہ جس نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے شب خون کی تو ثیق کر کے ا سے سندِ جواز عطا کی تھی پوری پاکستانی سیاست کو آلو دہ کر گیا اور شب خونوں کا ایک ایسا سلسلہ چل نکلا جس نے پاکستان میں جمہوریت کو کبھی بھی پنپنے نہیں دیا۔ شب خون نہ بھی ہو تو اس کا خوف سیاست دانوں کو چین سے سونے نہیں دیتا ۔ ایک انجانے خوف سے ان کا دل دھڑکتا رہتا ہے کیونکہ شب خونوں نے بڑی بھیانک روائتوں کو قائم کیا ہے لہذا سیاست دانوں کا خوف زدہ ہونا سمجھ میں آ سکتا ہے۔ سیاست دانوں کی باہمی لڑائیاں تو ہر جمہوری ملک میں ہوتی ہیں اور ہونی بھی چائیں کیونکہ اقتدار کے لئے لڑا ئی ایک فطری عمل ہے اور سیاست اپنے وسیع تر مفہوم میں جمہوری انداز میں اقتدار کے حصول کی جدو جہد ہو تی ہے ۔ ایسی لڑا ئیاں ہم بھارت جیسے ملک میں بھی اکثرو بیشتر دیکھتے رہتے ہیں لیکن نہ تو وہاں پر کو ئی شب خون مارتا ہے اور نہ ہی کسی سیاست دان کا عدالتی قتل کیا جاتا ہے بلکہ معاملات جمہوری انداز میں آگے بڑھتے رہتے ہیں جو آخرِ کار اتفاقِ رائے پر منتج ہو تے ہیں اور یوں وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنا سفر جاری و سار ی رکھتی ہے۔
١٩٧٣ کے آئین کے خا لق ذولفقا ر علی بھٹو کے ذہن میں ان شب خو نوں کی ایک خو فناک تاریخ بھی تھی اور فوجی جنتا کے اقتدار پر قبضہ کی بے لگام خوا شیں بھی تھیں جس کئے پیشِ نظر انھوں نے ١٩٧٣ کے آئین میں دفعہ چھ کا خصوصی اندراج کیا تا کہ اس دفعہ کی موجو دگی کے خوف سے فوجی جنتا شب خون کی مہم جوئی سے رک جائے اور جمہوری نظام اپنی جڑیں مضبوط کرسکے لیکن ایسا بوجوہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ فوجی جنتا کی اقتدار پر قبضے کی حدود فرا موش خواہشوں کے آگے بندھ باندھنا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔دلچسپ بات یہ ہے کی ذولفقا علی بھٹو کی اپنی حکومت نہ صرف جنرل ضیا الحق کے شب خون کا نشانہ بنی بلکہ جنرل ضیا الحق نے ذولفقا علی بھٹو کو سزائے موت دے کر اپنے راستے سے بھی ہٹا دیا اور یوں گیارہ سالوں تک بلا شرکتِ غیر ے پاکستان پر حکومت کرتا رہا اور اپنے مخالفین کو چن چن کر اذیتیں اور سزائیں دیتا رہا۔سپریم کورٹ نے جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کو جائز بھی ٹھہرایا اور ذولفقا ر علی بھٹو کی پھانسی کا کارنامہ بھی سر انجام دیا اور پھر جنرل ضیا الحق کے ساتھ مل کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔جیلیں ،کوڑے، پھانسیاں اور مارشل لائی سزائیں روز مرہ کا معمول تھیں اور پاکستانی عدلیہ نے جی بھر کر پی پی پی کے ساتھ اپنا حساب بے باک کیا ۔ فوجی جنتا تو بے رحم تھی لیکن عدلیہ نے جس سنگد لی کا مظاہرہ کیا وہ بھی کچھ کم نہیں تھا۔دنیا کی ساری برائیاں پی پی پی کے جیالوں میں تھیں اور دنیا کی ساری پارسائی جنرل ضیا الحق کے حا شیہ برداروں میں تھیں۔ پی پی پی کے جیالے برائی کی علامت تھے اور جنرل ضیا الحق کے حواری پارسائی اور  نیک نامی کا علم تھامے ہوئے تھے ۔ قابلِ نفرین تھے جیالے لہذا ایسے لوگوں کو سزا دینا بھی ضروری ہوتا ہے اور جیالوں کو جی بھر کر سزائیں دی گئیں تا کہ معاشرہ ان کے وجود سے پاک ہو جائے لیکن یہ جیالے نجا نے کس مٹی سے بنے ہو ئے تھے کہ سزائیں سہتے جا تے تھے اور اپنے قائد کے نام کے نعرے بلند کر کے اس سے اپنی وفائوں کی تاریخ بھی رقم کرتے جاتے تھے ۔پاکستانی تاریخ میں ایسی محبت نہ کسی نے دیکھی نہ کسی نے سنی ، یہ محبت اپنے رنگ میں بالکل یکتا ہے اور تاریخ کا ایسا درخشاں باب ہے جس پر پوری قوم ہمیشہ فخر کرتی رہیگی۔ جرات و بہادری کے کارنامے ہر دور میں ہر طبقے سے اپنا خراج وصول کرتے ہیں۔ ابتدا میں کسی خاص گروہ کی بہادری اور دلیری ا پنے مخصوص گروہ کے ساتھ منسلک رہتی ہے لیکن وقت کا پہیہ آنے والے زمانوں میں اسے پوری قوم اور پوری انسانیت کا اثاثہ بنا دیتا ہے۔ ذولفقا علی بھٹو اور جیا لوں کی مارشل لائوں کے خلاف عظیم جمہوری جدوجہد اب پوری پاکستانی قوم کا فخر بن چکی ہے۔ بھگت سنگھ کی بہا دری اور جی داری اب کسی خاص قوم، زبان، مذہب اور قبیلے تک محدود نہیں بلکہ وہ بر ِ ِ صغیر پا ک و ہند کی آزادی کا ایک ایسا ا ستعارہ ہے جس کا نام سارے فخر و ناز سے لیتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
١٩٧٣ کے آئین میں دفعہ چھ کا خصوصی اندراج عدلیہ سے اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ شب خون مارنے والے جرنیلوں کے شب خون کو غیر آئینی قرار دے کر انھیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نے کا حکم صادر فرمائے لیکن عدلیہ اپنی اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے ہمیشہ قاصر رہی ہے۔دفعہ چھ کی موجودگی میں فوجی مہم جوئی آئین شکنی ہے اور اس کی سزا موت ہے لیکن پاکستانی عدلیہ نے کبھی بھی فوجی جنتا پر  دفعہ چھ کا اطلاق نہیں کیا۔ جس فوجی جرنیل نے حکومت پر غیر آئینی قبضہ کیا عدلیہ نے اسی کے ہاتھو ں پر بیعت کر کے حلف بھی اٹھا لیا اور اس کے سا تھ محوِ سفر بھی ہو گئے۔ایسے پی سی او ججز کی فہرست بہت طویل ہے جو آئین کی حفاظت کرنے کی بجا ئے طالع آزمائوں کے ہمنوا بن گئے تھے اور انھیںآئینی شیلڈ عطا کی تھی لیکن پھر بھی پارسا ٹھہرے۔ افتخار محمد چوہدری اور خلیل رمدے اس کارواں کے وہ بڑے نام ہیں جھنوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر آئینِ پاکستان سے بغاوت کی تھی ۔سوال یہ ہے کہ جب عدلیہ آئین سے غداری کی مرتکب ہو جائے تو اس کا احتساب کیسے کیا جائے۔ مقافاتِ عمل کا قانون دنیا کی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے ہر ذی روح کی مڈھ بھیڑ ہو تی ہے۔ اپنے اپنے کرموں کا پھل اور اپنے اعمال کا حساب اسی مقا فاتِ عمل کا شاخسانہ ہے جس کی بدولت دنیامیں جوابدہی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو پھر اس کی سزا بھی ضروری ہے اور پاکستان میں تو عدلیہ نے کھلے عام آئین شکنی کا ارتکاب کیا ہے تو پھر عدلیہ کو کٹہرے میں کھڑا کون کرے گا؟عدلیہ کے معنی اگر یہ ہیں کہ قانون و انصاف اور آئین کو پسِ پشت ڈال کر من پسند فیصلے کئے جائیں تو پھر جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا ہے وہ سب جائز ٹھہرے گا لیکن اگر انصاف کے معنی جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے تو پھر اس بات کا تعین کر نا ضروری ہے کہ یہ کلمہ حق کیوں بلند نہ کیا گیا؟آئین سے انحراف اور اپنے فرض سے روگردانی کیوں کی گئی ؟ اس کا حساب ضروری ہے اور اس قانون کا اطلاق ہر ایک پر بلا امتیاز ہونا چائیے تاکہ کوئی اس قانون سے ماورا نہ ہو سکے۔ اندھیر نگری چوپٹ راجہ کے فلسفہ کو خیر باد کہہ کر اصول و ضوابط کو مشعلِ راہ بنانا ہو گا تا کہ معاشرہ سیدھی ڈگر پر چل سکے ۔ سیاستدانوں کو ہر وقت سرِ دار کھینچ دینا تو انصاف نہیں ہے ۔ وہ تو ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگتے رہتے ہیں لیکن عدلیہ کے کچھ ایسے منصف جنھوں نے جان بوجھ کر ائین سے انحراف کر کے طالع آزمائوں کا ساتھ دیا ان سے حساب کون لے گا۔
عجیب اتفاق ہے کہ آئین کی دفعہ چھ کی حفاطت نہ کرنے والے، اس سے آنکھیں بند کرنے والے اور اس سے در گزر کرنے والے منصف آج جمہوری حکومت کے خا تمے کیلئے آئین کی دفعہ ٢٤٨ کے خلاف صف آرا ہو گئے ہیں جسکی حفاظت کیلئے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی ڈٹے ہوئے ہیں۔آئین کی دفعہ چھ کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آئین کی اس دفعہ کو توڑنے والے غا صب اور غدار ہیں لیکن کیا ہم نے انھیں غاصب قرار دے کر سزا کا حقدار ٹھہرایا تھا ۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ایسا کرنے والوں کے پاس فوجی قوت اور بندوقیں تھیں لہذا انکا کچھ نہیں بگا ڑا جا سکتاتھا ۔ اگر فوجی قوت سے ہی ڈرنا ہے تو پھر انصاف کی مسند پر بیٹھنا کارِ چہ دارد ۔آئین کی دفعہ ٢٤٨ صدرِ پاکستان کو فوجداری مقدمات میں استثی عطا کرتی ہے اور اس استثنا کا عَلم وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اٹھا یا ہوا ہے لیکن  باعثِ حیرت ہے کہ عدلہہ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اس عَلم کو پھینک دینے کا حکم صادر فرما رہی ہے ۔آئین کی حفا ظت وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی آئینی ذمہ داری ہے اور نھیں اس ذمہ داری سے ہر حال میں عہدہ برائء ہو نا ہے۔سوال حکومت کی رخصتی یا جیل جانے کا نہیں ہے سوال آئین کی بالا دستی کا ہے اور اس بالادستی کو ہر حال میں بالا دست رکھنا ہو گا کیونکہ آئینِ پاکستان وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اسی بالا دستی کا تقاضہ کر رہا ہے۔ دفعہ چھ کو توڑا جائے تو آئینی اور اگر دفعہ ٢٤٨ کا پاس کیا جائے تو توہینِ عدالت۔ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کاا ستدلال یہ ہے کہ آئین میں واضح درج ہے کہ صدر کو دفعہ ٢٤٨ کے تحت استثنی حاصل ہے اوروہ اسی دفعہ کی پیروی کر رہے ہیں لہذا توہینِ عدالت کا سوال کہاں اٹھتا ہے۔دفعہ چھ کو توڑنے والے آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے والے اور اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے والے آئینی حکمرن ٹھہرائے جا سکتے ہیں تو پھر دفعہ ٢٤٨ کا تحفظ کرنے والے توہینِ عدالت کے مجرم کیسے بن سکتے ہیں؟ لیکن یہ سب کچھ ان عدالتوں میں ہوتا ہے جھنیں ہم آزاد عدلیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )