جمہوری خادمو! آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو

Democracy

Democracy

تحریر: عقیل احمد خان لودھی

جمہوریت کا نام لیکر موجیں کرنے والوں کوجمہوری اقدار، جمہوری آداب کا کچھ بھی علم نہیں۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی واقعی ہی جمہوریت ہے۔بیرونی دنیا کے حقیقی جمہوری لیڈر یہ بات جانتے ہیں کہ جمہوریت رواداری اور امن ومحبت کی پاسدار ہے، جمہوریت برداشت اور کڑوے ترین حقائق کو برداشت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ مگر ہمارے ہاں جمہوریت کے سر پر مزے لینے والے چند سو خاندان (اولادوں سمیت) اٹھارہ کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو صبح شام جمہوریت کا مقدس درس دیتے نظر آتے ہیں مگر انہی لیڈروں اور ان کے جمہوریت کے حقائق جان کرعام آدمی بھی یہ سمجھتا جارہا ہے کہ اصل جمہوریت ان جمہوری خادموں کے قریب سے بھی ہو کرنہیں گزری۔ ان خادموں کی خدمت اورجمہوریت پسندی کاان دنوں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے

جہاں جاتے ہیں ایک نعرہ لگتا ہے توخود کو پاکستان کی صف اول کی جمہوری جماعت سمجھنے والوں کے اراکین تڑپ اٹھتے ہیں۔ مصیبتو ں کے مارے لوگ کہتے ہیں کہ آپ جائیںبس! خدمت کا شغل بہت ہو چکا۔مگر عوامی خادم ہیں کہ بضد ہیں اس بات پر کہ وہ ضرور خدمت کریں گے کسی کو اس خدمت کی ضرورت ہو یا نہ ہواور اگر کوئی اس خدمت سے عاجز ہے اور وہ ان خادموں کیخلاف نعرے لگائے گا تو اسے خادم نہیں چھوڑیں گے۔ چند روز قبل وزیرآباد میں عوامی خادم آئے تو سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد منتظر تھی کی عوامی خادموں سے تھوڑی خدمت کرواہی لی جائے کہ یہ متاثرین عوامی خادموں کی میڈیا پر ہونے والی تشہیر سے مرعوب ہو کر آئے تھے

مگر انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ میڈیا پر ہونے والی خدمت اور حقیقی معاملات ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں، وہ نہیں جانتے تھے کہ مشہور زمانہ عوامی خدمت کا نرالا ہی انداز ہے ۔جمہوری خادم ہیلی کاپٹروں سے اترے بیسیوں گاڑیوں اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی فوج کے حصار میںمقامی شادی ہال کی عمارت میں داخل ہوگئے جہاں موجودہ جمہوری سٹائل کے مطابق ان خادموں سے خدمت کروانے والی سیاسی، سفارش شدہ جمہور پہلے سے موجود تھی۔ سبھی انتظامیہ اور مقامی خادموں،سیاسی چمچوں کی اجازت سے آنے والے لوگ تھے،حقیقی متاثرین بھی سفارشوں سے اندر پہنچے تھے۔ سپریم خادم اور خادم اعلیٰ آئے اور یہاں موجوو لوگوں کے ذہنوں سے اپنی خدمات کے بارے میں پائے جانے والے شکوک وشبہات کو دور کرنے کیلئے بہت سے دلائل دیئے۔

قربانی کے ایک بکرے سے بھی کم قیمت پر زندہ باد زندہ باد کی دہائی دینے کیلئے قائل کرتے نظر آئے ۔ اندر سے پچیس ہزار لیکر آنے والوں نے بھی باہر آکر زندہ باد کی اس قیمت کو نامنظو رنامنظور کہہ کر خادموں کی خدمت کو رد کردیاتو اسی اثناء میں عوامی خادم واپسی کیلئے باہر نکلے تو وہاں موجود مختلف علاقوں کے سیلاب متاثرہ خاندانوں اوردیگر مسائل کے حل کی امید لئے آئی جمہور نے خادموں کی شان بے نیازی سے خائف ہو کر اسی ایک نعرے کو دہرایا جس نے اس جمہوریت کے ان دنوں کانوں سے ہاتھ لگوادیئے ہیں۔ ذاتی حالات اور نام نہاد ملکی ترقی کا ماتم کرتے لوگوں نے ” گو نواز گو” کا نعرہ لگایا ضلع گوجرانوالہ کے خادم توفیق بٹ اور مقامی خوشامدیوں، چمچوں ، کڑچھوںنے ان افراد کا پیچھا کر کے انہیں اپنے جمہوری پیار کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آئندہ کسی نے ہماری پیاری راج دلاری جمہوریت کو آئینہ دکھایا تو اس کی جوتوں سے پٹائی ہوگی۔ واقعہ کے میڈیا میں نشر ہونے کے بعد جمہوری خاندان میدان عمل میں آگیا اور پھر جمہوری سپریم خادم کی بیٹی نے کہا کہ ابھی یہ ایک ٹریلر تھا جو وزیرآباد میں جمہوری شیروں نے کردکھایا ہے

انہوں نے جمہور کو اپنی مخالف پارٹی سے منسوب کرتے ہوئے مزید خطرات سے بھی انتباہ کیا اور کہا کہ اس کے آگے اور بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد یہ نعرہ رکا نہیںبلکہ ہر شہر، ہرگلی، ہر محلہ میں ہر بچے، بڑھے اور بوڑھے کی زبان پر گونجتا دکھائی دیتا ہے اس پر جمہوریت کے علمبردار ناراض اور غصے میں نظر آتے ہیںبلکہ اب تو وہ کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں جس کا واضح مطلب خونی تصادم ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے جانشین ان فراد کیساتھ سختی سے نمٹیں گے جنہوں نے یہ نعرہ لگایا۔ گویا یہ نعرہ اس وقت پاکستانی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

Democracy

Democracy

خادموں، ان کے چیلوں کے بیانات اور رویے ملک میں موجود جمہوریت کی جو تصویر بیرونی دنیا کو اس نعرے کے بدلہ میں پیش کررہے ہیں وہ چالیس سالوں میں جمہوریت سے تنگ اس ملک کی جمہوراپنی تمام تر کوششوں کے باوجود نہیں کرسکی۔اس جمہوریت سے تنگ کروڑوں افراد کو اس کیلئے محنت نہیں کرنا پڑرہی ان کی آواز نقار میں اس طوطی کی آواز بنی ہوئی تھی جو کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ ان معزز ناخواندہ عوامی خادموں کو کوئی جمہوریت کا پہلا سبق پڑھانے کا آغاز کرتے ہوئے جمہوریت کی الف ب اس درس سے شروع کرے کہ جمہوریت عدم تشدد اور دوسروں کی رائے کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔

جمہو رکی آواز کو سمجھنے اور اس پر ان کی اصولی حمایت کا نام جمہوریت ہے نا کہ لوگوں کی رائے کو کچلنے اور ان کے حقوق کے استحصال کا ۔۔۔ ایسے حالات میں جبکہ جمہورکو پاکستانی جمہوریت کے اصل بھید کا پتہ چل گیا ہے تو عوامی خادموں کو چاہیئے کہ وہ خدمت کے نام پر لوٹ مار ،اقربا پروری کے دھندہ کو بند کرتے ہوئے بیرونی ملکوں میں رکھی اپنے دولت کو واپس لے آئیں اور اپنے اعمال درست کر کے قوم سے معافی کے حقدار بنیں اور ملک وقوم کی ترقی کیلئے حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کریں۔

عوامی خادم، ان کے کارندے، خوشامدی جمہور کو ڈرا دھمکا کر یا آپس میں لڑوا مروا کر نام نہاد جمہوریت کے مزید مزے نہیں لوٹ سکتے ۔ پرانے،شاہی ٹھاٹھ باٹھ، احتساب سے بے خوفی کا سلسلہ اب زیادہ دیر تک چلتا نظر نہیں آرہا۔ ملک کا محکوم ، مظلوم اور پسا ہوا طبقہ سمجھتا جارہا ہے کہ برسوں پرانی اس خادمی کا اصل رنگ کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ آواز خلق کو واقعی نقارہ خدا سمجھ لیا جائے وقت گزر گیا تو شاید پھر تمہاری داستاں بھی نہ ہو داستانوں میں۔

Aqeel Ahmed Khan

Aqeel Ahmed Khan

تحریر: عقیل احمد خان لودھی
(0334-4499404)