متاع حیات یونہی رائیگاں جائے گی؟

Life

Life

تحریر:شاہ بانو میر

شعور نہ ہو تو انسان زندگی کو گزارتا نہی ضائع کرتا ہے ـ جو زندگی کی قدر و قیمت پا گئے وہ لمحہ لمحہ لعل و یاقوت سے قیمتی جان کے ایسے بسر کرتے ہیں کہ جب جسم نحیف ہو اور اعضاء لاغر تو انہیں ماضی کے دھندلکے کبھی پشیمان نہ کر سکیںـ البتہ خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے کبھی وقت کو گویا روک دیا جاتا ہے کہ جسے اللہ اپنے لیے چُن لے اس کی ہستی میں ایک تلاطم برپا ہوجاتا ہے ـ کھوج کا جستجو کا اپنے آپ کو جان لینے کا پہچان لینے کا کشمکش ایک طرف رجیم کی کھینچا تانی تو دوسری طرف رحیم کی ٹھنڈی پرسکون رحمانیت غور و فکر کی دعوت دیتی ہے

آپ تیز رفتار زندگی سے پرے ہٹ کر ُپرسکون زندگی سے اصل سے آشنا ہوتے ہیں تو سوچ میں ٹھہراؤ کے ساتھ سوچنے کی اہلیت پیدا ہوتی ہے ـ ایسے میں دو راستے ہوتے ہیںـ ایک تو یہ کہ آپ منفی اندازِ فکر رکھتے ہیں تو گمراہی کی دلدل میں کھو جاتے ہیں ـ اور اگر آپ کی روح اور سوچ پاکیزہ ہے ـ جس پے کسی شیطانیت کے نشان کندہ نہیں ـ تو آپ اس تنہائی کے وقت کو غوروخوض میں گزارتے ہیں ـ

دنیا کی گہما گہمی میں رب سے ٹوٹا ہوا رشتہ از سر نو استوار ہوتا ہے ـ زندگی کا مقصد اور وقت کی اہمیت پیش نظر ہوتی ہےـ لہٰذا وہ وقت آپکو اللہکا قرب عطا کر دیتا ہے ـ آپ کی اصلیت کو ظاہر کرنے کیلیۓ ـ عام انسان کہاں اس بات کی گہرائی کو پا سکتا ہے ـ کیونکہ عام انسان کے سامنے ہمیشہ کی طرح یہ دھوکے پے مبنی چکا چوندہے جس کا وہ عادی ہے اور اس میں وہ اپنی غیرت شعور آگہی سب ختم کر کے صرف جسم رہ جاتا ہے جو بھاگ رہا ہے اپنی ترقی اور اپنی کامیابی کے لئے یہ بے معبی بھاگ دوڑ بے ہنگم بے معنی بے مقصد بھاگ دوڑ اس کی اصلیت کو ختم کر دیتی ہے
اس کو وہ نظر کی خوبصورتی عطا ہی نہی کرتی جو ایک انسان کا حق ہےـ

انسان یعنی شعور عقل اور فہم کا حامل وجودـ یہ ہوتا ہے وہ خاص فضل اُس رب کا جو برملا کہتا ہے کہ جس چاہوں ہدایت دوں ورنہ تو میں نے جن اور انِس ایسے بھی پیدا کیے جو صرف آتشِ دوزخ کے لیے تیار کیے گئے (استغفراللہ ) میں بھی کچھ عرصہ قبل ایک جسم تھی بھاگتا دوڑتا سب کو پرے پھینکتا ہوا اپنی ذات کو سب پہلے دیکھنے کا خواہاں مگر پھر اللہ کا خاص کرم ہوا اور قرآن پاک کے پُراثر الفاظ تفسیر کے طور پے دل کو چھو گئے تو لگا دل کی بنجر زمیں میں کسی مقصد کے بیج کی آبیاری ہوگئی ـ میں شائد اُس نو مسلم کی طرح ہوں جس کو قرآن کا اسلام کا کچھ کچھ شعور کچھ مہینوں سے ملا ہے ـ آگہی ہمیشہ عذاب ہے

کیونکہ اگر آپ نےسچ میں شعور پا لیا تو آپ کی زندگی جس ہلے گلے میں گزر رہی تھی وہ آپ کو گھنٹوں رُلاتا ہے ـ ماضی پے نگاہ جاتی ہے تو سوائے رونق میلوں کے زندگی میں کچھ ملتا نہیں ـ اور اب جو سامنے دکھائئ دیتا ہے اسکی افادیت کس قدر ہے یہ بات خون کے آنسو رلاتی ہے ـ کہٌ گئے وقت کو کیسے واپس لا کر یہ نقصان پورا کریں؟ آج سے ابھی سے اپنا جائزہ لیں بد نصیبی یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ہر گناہ سے ہر کثافت سے عاری سمجھتے ہیں ـ دوسروں کے ناکردہ گناہ بھی ہمارے لئے وجہ مزاح ہیں ـ اور اپنے دانستہ کئے ہوئے گناہ پوشیدہ بہت ضرورت ہے مزاج میں تند خوئی کی بجائے ملائمت لانے کی ـ

Humans

Humans

ہر انسان پردیس میں افسردہ اور مسائل کا شکار ہے ـ ہم سب ظالم بن کر ایک دوسرے کیلیۓ زندگی کو مشکل کرتے ہیں ـ چھوٹی سوچ یہ ہے کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی ہے غلامانہ انداز میں صرف اثباتی انداز میں سر ہلاتے ہوئے تو وہ تو آپ کی محبت کا مستحق ہے ـ اور آپکی سوچوں میں موجود ہے اچھے الفاظ میں لیکن اگر وہ کہیں اور جاتا ہے تو وہ قابل مذمت ہے یہ وہ چھوٹی سوچ ہے جو پاؤں کی موچ کی طرح ہمیں ترقی کے آگہی کے شعور کے بلند درجات تک پہنچنے نہیں دیتاـ

آئیے پاکستان کیلیۓ اسلام کیلیۓ اپنی سوچوں کی طغیانی کو پرسکون کریں اور سب کو جینے کا حق دیں ہمیں اگر اللہ نے اچھا لکھنے کی صلاحیت دی ہے تو اچھا لکھیں سب کیلیۓ اچھا بول سکتے ہیں تو ذاتی حصار سے نکل کر اجتماعی سوچ کو مثبت انداز میں کامیاب کرنے کیلیۓ سب کا ساتھ دیں مل بیٹھیں سوچیں صرف ذات کی فلاح یا ناکامی پر نہیں پاکستان اور دین اسلام کی اجتماعی کامیابی کیلیۓ ذاتی ناکامیوں کو اختلافِ رائے کو پس پشت ڈالیں آئیے مل کر بنائیں ایک کامیاب پاکستان دین کو پہچان دیں خلفائے راشدین والی آئیے سوچ کو بڑا کریں اشتعال انگیزی سے نکل کر
تحمل تدبر سمجھدار بنیں

انشاءاللہ یہی ہے اپنا احتساب یعنی کہ متاعِ حیات کا بہترین کامیاب استعمال اور اگر آج کچھ نہ سوچا باشعور نہ ہوئے تو یہ متاعِ حیات یونہی رائیگاں چلی جائے گی فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر:شاہ بانو میر