افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن سکتا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ

Afghanistan

Afghanistan

افغانستان (اصل میڈیا ڈیسک) اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق القاعدہ کے طالبان کے ساتھ روابط افغانستان کو شدت پسندوں کی آماج گاہ بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران افغانستان میں دہشت گردوں کو ایسی آزادی حاصل نہ تھی جیسی کہ اب۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جو ظاہر کریں کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ نہیں فراہم کر رہے بلکہ اس کے برعکس دہشت گرد افغانستان میں پہلے سے”زیادہ آزاد”ہیں۔
طالبان اور القاعدہ کے مابین قربت پریشانی کا باعث ، ماہرین

اقوام متحدہ کے وہ ماہرین جو القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ پر عائد پابندیوں کا جائزہ لینے کے ذمہ دار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پندرہ اگست کو طالبان کا اقتدار میں آنا اور بیس سال بعد بہت جلد بازی میں امریکا اور نیٹو کا وہاں سے انخلاء گزشتہ سال کے انتہائی اہم واقعات ہیں۔

طالبان ماضی میں سن 1996 سے سن 2001 تک افغانستان پر حکومت کر چکے ہیں۔ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی سب سے بڑی وجہ افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیاں اور طالبان کی جانب سے اس تنظیم کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینا تھی۔ اسامہ بن لادن کو نائن الیون حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

فروری سن 2020 کو کیے جانے والے ایک معاہدے میں امریکا کے افغانستان سے انخلاء کے ضابطے طے کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت طالبان کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے۔
القاعدہ کی خاموشی

ماہرین نے نوٹ کیا کہ القاعدہ نے طالبان کی فتح پر مبارکباد کا بیان جاری کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے اس تنظیم نے خاموشی سی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر طالبان کی بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ملک نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے یہ رپورٹ کیا ہے کہ امین محمد الحق صام خان جو اسامہ بن لادن کی سکیورٹی کے ذمہ دار تھے، گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں اپنے گھر واپس لوٹے تھے۔ اس کے علاوہ بن لادن کے بیٹے عبداللہ نے طالبان سے بات چیت کرنے کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں افغانستان کا دورہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے منسلک شدت پسند افریقہ جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر، جہاں کبھی داعش کا قبضہ تھا اور جسے یہ تنظیم اپنی خلافت بھی کہا کرتی تھی، ان علاقوں میں داعش اب بھی متحرک ہے۔ قریب پانچ سال قبل داعش یا اسلامک اسٹیٹ کہلائی جانے والی اس تنظیم کو امریکا کی سربراہی میں اتحادی افواج نے شکست دے دی تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ افریقہ میں کافی متحرک ہیں۔ ان تنظیموں نے وہاں کی کمزور حکومتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے افریقہ میں ان ہشت گرد تنظیموں سے منسلک جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اسلامک اسٹیٹ افغانستان میں محدود علاقوں میں موجود ہے لیکن یہ تنظیم بہت پیچیدہ حملے کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بعد اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ کر چار ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان اسلامک اسٹیٹ کو اپنا سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق انڈونیشیا اور فلپائن ایسے دو ممالک ہیں، جنہوں نے القاعدہ اور داعش کے خلاف کارروائیوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔