دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں، پومپیو کا مطالبہ

Mike Pompeo - Benjamin Netanyahu

Mike Pompeo – Benjamin Netanyahu

اسرائیل (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران یروشلم میں مطالبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد اب دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر باقاعدہ تسلیم کریں۔

مائیک پومپیو نے آج پیر چوبیس اگست کے روز پہلے تو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک ملاقات کی اور پھر دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل اور خلیجی عرب ریاست متحدہ عرب امارات کے مابین طے پانے والے حالیہ معاہدے پر نیتن یاہو حکومت اور اسرائیلی عوام کو مبارک باد دی۔

مائیک پومپیو نے مطالبہ کیا کہ اب دیگر عرب ریاستوں کو بھی ایک یہودی ریاست کے طور پر اسرائیل کے وجود کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ”مجھے قوی امید ہے کہ مزید عرب اقوام بھی اس عمل میں شامل ہو جائیں گی۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے کہا، ”ان (عرب) ریاستوں کا اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر لینا ان کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع بھی ہو گا اور یوں مشرق وسطیٰ میں بہت سے نئے مواقع اور امکانات بھی پیدا ہوں گے۔‘‘

اسرائیل اور خلیجی عرب ریاست متحدہ عرب امارات نے اسی مہینے آپس میں ایک تاریخی معاہدے اور باقاعدہ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا تھا۔

اس کے لیے ثالثی امریکا نے کی تھی۔ اس اعلان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے پر اتقاف رائے نیتن یاہو حکومت کے اس وعدے کے بعد کیا تھا کہ مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مزید حصے اسرائیلی ریاست میں ضم نہیں کیے جائیں گے۔

اسرائیل کے ساتھ اب تک کل چار مسلم اکثریتی ممالک باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلا ترکی تھا۔ اس کے بعد عرب دنیا سے مصر اور اردن نے بھی اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کر لیے تھے۔

متحدہ عرب امارات اب مجموعی طور پر چوتھا مسلمان، تیسرا عرب اور خلیج کے خطے کا وہ پہلا عرب ملک ہے، جس نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے روابط کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

آج پیر کے روز یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد بین الاقوامی پابندی مستقل میں ختم ہو بھی گئی، تو بھی امریکا تہران کے خلاف اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی بھرپور عسکری مدد کرتا رہے گا۔