بیجنگ اولمپک مقابلوں کا شاندار افتتاح

Beijing Olympics

Beijing Olympics

چین (اصل میڈیا ڈیسک) بیجنگ سرمائی اولمپک مقابلوں کی رنگا رنگ اور ہوشربا افتتاحی تقریب سے خطاب میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے سربراہ تھوماس باخ نے کہا کہ ‘امن کو موقع دینا چاہیے‘۔

ی صدر شی جن پنگ نے جمعے کے دن بیجنگ اولمپک مقابلوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے اس ایونٹ کے ذریعے بیجنگ حکومت عالمی سطح پر محبتیں باٹنے کے قابل ہوئی ہے۔ اس موقع پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے سربراہ تھوماس باخ نے کہا کہ چوبیسویں ونٹر اولمپک مقابلے دنیا میں امن، محبت اور دوستی کا پیغام عام کریں گے۔

افتتاحی تقریب کے موقع پر تمام شرکا نے ماسک پہن رکھا تھا۔ کووڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے ان کھیلوں کے دوران سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں جبکہ بالخصوص کھلاڑیوں کے لیے انتہائی محفوظ بائیو سکیور ماحول کا بندوبست کیا گیا ہے۔
مغربی ممالک کا سفارتی بائیکاٹ

چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک نے ان کھیلوں کا سفارتی بائیکاٹ کیا تاہم روسی صدر ولادیمیرپوٹن، سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ متعدد ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت نے شرکت کی۔

بیجنگ کے نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں کھیلوں میں شرکت کرنے والے اکانوے ممالک کے کھلاڑیوں نے خصوصی پریڈ میں حصہ بھی لیا، جن میں پانچ رکنی پاکستانی دستہ بھی شامل تھا۔ مجموی طور پر تقریبا تیس ہزار ایتھلٹس ان مقابلوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس موقع پر انٹرٹینمنٹ کے مختلف ایونٹس کا اہتمام بھی کیا گیا۔

بیس فروری تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں 109 طلائی تمغوں کے لیے زبردست مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ چین تیار ہے اور دنیا کے لیے شاندار مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گا،جن سے وہ بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

چین ایسا واحد شہر بن گیا ہے، جہاں سرمائی اور گرمائی اولپمک مقابلوں کا اہتمام ہوا ہے۔ چودہ برس قبل سن دو ہزار آٹھ میں بیجنگ میں گرمائی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

اس مرتبہ کووڈ انیس کی عالمی وبا اور مغربی ممالک کی طرف سے سفارتی بائیکاٹ کی وجہ سے ان کھیلوں کی رونق ماند پڑ جانے کا خدشہ بھی ہے۔ یوکرائن اور روس کے مابین جاری بحران میں چین کی طرف سے روسی مؤقف کی تائید بھی مغربی ممالک کی برہمی کا باعث بنا ہے۔

قبل ازیں چین میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کی وجہ سے امریکا کی سربراہی میں زیادہ تر مغربی ممالک نے ان کھیلوں کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس لیے افتتاحی و اختتامی تقریب میں ان ممالک کا کوئی سفارتی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ جرمن چانسلر اولاف شولس نے بھی کہا تھا کہ وہ بیجنگ نہیں جائیں گے۔ تاہم ان ممالک نے اپنے اپنے ایتھلیٹس ان مقابلوں میں شرکت کے روانہ کیے ہیں۔
عمران خان کی کوششیں

ان کھیلوں کے حاشیے پر روسی اور چینی صدور کی ملاقات میں سیاسی موضوعات زیر بحث رہے۔ اسی طرح دیگر ممالک کے رہنما بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ آئے ہیں، وہ اس دوران چین کے ساتھ تجارتی و باہمی تعلقات کی استواری کے حوالے سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

اسی طرح پاکستانی وزیراعظم بھی ایک وفد کی شکل میں بیجنگ اولپمک مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے چین پہنچے۔ ان کی ہمراہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دوسرے وزراء اسد عمر اور فواد چوہدری بھی ہیں۔

عمران خان چین کے اس چار روزہ دورے کے دوران چینی صدر و وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ متعدد تجارتی وفود سے ملاقاتیں کریں گے، جس کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانا اور ملکی ترقی کے لیے اہم منصوبہ جات کو حتمی شکل دینا ہو گا۔