ضلع چکوال شاہراہ ترقی پر

Chakwal

Chakwal

تحریر : محمد فاروق خان

کوہستانِ نمک اسلام آباد سے تقریباً 165 کلو میٹر جبکہ لاہور سے 245 کلو میٹر پر کوہ ہمالیہ کی جنوبی سمت پر محیط ہے۔ کوہستانِ نمک وادیِ سون اور دریائے جہلم کے درمیان دو پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ پہاڑیوں کا یہ سلسلہ تقریباً 160 میل لمبا اوسطً دس میل چوڑا اورتین ہزار فٹ اونچا ہے۔ سطح سمندر سے اس علاقے کی اوسط بلندی 2200 فٹ کے لگ بھگ ہے۔

نمک کا سلسلہ قوس (کمان) کی شکل میں دریائے جہلم کے شمال میں باغانوالہ سے شروع ہوتا ہے اور نشیب میں جنوب مغرب کی طرف سے ہوتا ہوا جب شمال مغرب کی طرف مڑتا ہے تو میانوالی ضلع میں کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ پر ختم ہوتا ہے۔ٹلہ جوگیاں اور سکیسر اس کی نمایاں چوٹیاں جبکہ کھبیکی،اوچھالی، کلرکہار،جھالر اور نمل اس کی نمایاں جھیلیں ہیں۔ان میں سے تین کوبین ا لاقوامی حیثیت حاصل ہے اور انہیںRamsarکنونشن کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ان جھیلوں میںانواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں اور رنگ برنگ پرندوں کے مسکن پائے جاتے ہیں۔ کوہستانِ نمک اور وادیِ سون کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے۔

پنجاب حکومت نے ضلع چکوال کو جھیلوں کا ضلع قرار دیتے ہوئے یہاں کے20 مختلف مقامات کے لیئے فنڈز سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیئے گئے ہیں۔جن کو ترقی دیکر سالٹ رینج اور ضلع چکوال میں سیاحت کو فرغ دیا جائے گا۔ان منصوبوں میں سویک لیک،ڈھوک ٹاہلیاں لیک،کوٹ راجہ لیک،بن امیر خاتون لیک،سکی لیک، کھائی لیک،لکھوال لیک،چہل ابدال،قلعہ ملوٹ کے قریب ٹرٹل راک،مکھیال قلعہ،ملوٹ قلعہ،کسک قلعہ،وٹلی سٹون گارڈن،ملکانہ قلعہ،ڈلوال کے کنویں،کٹاس راج،دوالمیال، بابا فرید چلہ گاہ اورسنبل جھیل شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے سیکرٹری جنگلات کیپٹن(ر) محمد آ صف نے ڈپٹی کمشنر چکوال کیپٹن(ر) عبدالستار رعیسانی کے ہمراہ چکوال کا دورہ کیا اور ڈی ایف او چکوال،اسسٹنٹ کمشنر کلر کہار اور سب ڈویژنل آفیسر کلر کہار کے ساتھ میٹنگ کی ۔سمبلی جنگل کاکل رقبہ13007ایکٹر ہے جوکہ41 ٹکڑہ جات پر مشتمل ہے۔گورنمٹ اف پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس پر جلد کام شروع کردیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر چکوال نے اس موقع پرسیکرٹری جنگلات کو بتایا کہ چکوال کے جنگلات کی حفاظت احسن طریقے سے کی جا رہی ہے۔خاص طو ر پر ٹین بلین ٹری کے تحت شجر کاری کا کام ڈی ایف او چکوال کے زیر نگرانی کرایا گیا ہے۔خاص طور پربوچھال،تلہ گنگ،دلہہ،ڈسٹرکٹ کمپلیکس اور چوا چوک پر دستیاب نرسریوںپر پودہ جات دستیاب ہیں۔سیکرٹری جنگلات کو بتایا گیا کہ ا ڑہ اور ہریڑہ میں نیچرل ریزرو بنا یا گیا ہے۔چینجی نیشنل پارک روڈ کی رینویشن کی جارہی ہے۔سیکرٹری جنگلات جلدآڑہ،ہریڑہ نیچر ریزرو اور چینجی نیشنل پارک کا دورہ بھی کریں گے۔

پنجاب حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف ماحولیات کی حفاظت یقینی ہوگی بلکہ درختوں کا گھنا پن بھی بہتر ہوگا۔جنگلی حیات کے تحفظ کے لیئے کسی بھی قسم کے شکار پر پابندی ہوگی۔ضلع چکوال میں50 سے زیادہ ایسے مقامات موجود ہیں جن کی آثاریاتی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے۔60 سے زیادہ مقامات ایسے ہیں جو ایک ہزار سال سے لیکر ایک کر وڑ بیس لاکھ سال پرانے ہیں۔دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں فاسلز کہیں سے نہیں ملے جتنے ضلع چکوال سے ملے ہیں۔کچھ محققین نے ضلع چکوال کو آثار قدیمہ کی جنت کہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب کابینہ نے13700 ایکڑ اراضی پر سالٹ رینج نیشنل پارک کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ ضلع چکوال اپنے محل وقوع کی اہمیت کے پیشِ نظرنہ صرف قومی سطح پرنمایاں ہے بلکہ عالمی منظر نامے میں بھی ضلع چکوال اپنی شناخت قائم کرنے جا رہا ہے۔

M.Farooq Khan

M.Farooq Khan

تحریر : محمد فاروق خان