ظالم کو ظالم ہی لکھا جائے

Justice

Justice

چنتے یعنی تفکرات ہیں کہ اس حبس کے موسم میں جب سانس لینے کا نظام ہی مفلوج ہو چکا ہو تو کس طرح سامان زیست میسر ہو گا۔ جب عمل تنفس مقتدر حلقوں پر گراں گزرتا ہو تو ایسے میں انصاف کا حصول ممکنات میں شامل ہے ۔۔۔؟ جب فکر معاش کو مذہبی نقطہ نظر سے حرام تصور کیا جانے لگے تلاش معاش کو بھی کرائے کے مفتی خلاف دین قرار دینے لگ جایئں تو کیا انصاف میسر ہو گا ۔ سانس لینے کا عمل بلا معاوضہ فراہم ہو گا۔؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر غور خوض نہیں ہور ہا اور نہ ہی اس منطق کے سمجھنے کے لئے سنجیدہ افکا ر متحرک ہیں سنجیدہ فکر کے لئے مکمل اذہان کی ضرورت ہے جن کا اس قحط الرجال کے زمانے میں فقدان ہے ایسی سوچ کے حامل لوگ نایا ب ہیں ۔ ملنے کو نہیں نایاب ہیں ہم ۔ اس مقام پر اردو کے عا لمگیر شہرت رکھنے والے ادیب ڈاکٹر عباس برمانی کی شاعری سے اقتباس ہے۔
ڈکھڑ ے بھوگن ہنجھو ں پیون سر نہ چاون لب نہ چو لن
کینجھے صا بر شاکر ہن میڈی دھرتی دے واسی

شو دے اللہ را سی عادل عدل کر ے ( عدالتو ں میں انصاف ہو )۔ اقدار کا احترام ہو ۔ انصا ف رائج ہو ۔ حاکم مثالی حکومت کرے ۔ گواہ متقی ہو ں پرہیز گار ہو ں ۔ ہر فرد سماجی انصا ف پر یقین رکھتا ہو ۔کوئی بھی مسلک و فرقہ پر ست نہ ہو ۔ تفرقہ سا ز وفرقہ باز نہ ہو ۔ لوگ اپنے نظریات میں گہرائی و گیرائی رکھتے ہو ں ۔ خیا لات میں عالمگیریت ہو ۔احساس میں اخلاص ہو ۔سپنو ں میں بھی سچا ئی ہو ۔ کیونکہ یہی تو فتحیاب ہے نا قا بل تسخیر ہے ۔ازل تا ابد محبت فاتح رہی ہے اور فاتح رہے گی مگر درمیان میں ( فی زمانہ) دنیا پر منافقت ۔حسد۔

بغض اور عیاری کی بادشاہت قائم ہو چکی ہے ۔ جس کا دستور دھوکہ دہی ہے ۔ دھرتی کے وسائل بزور طاقت لوٹے جارہے ہیں۔عوام کو تیسرے درجے کی مخلوق قرار دیا جارہا۔ یہ تو بار برداری کے لئے استعمال ہو رہے ہیں ۔ان پر علم وتعلیم کے دروازے بند ہیں ۔ خوراک و دیگر مسائل پر گفتگو کی پابندی ہے ۔لیکن ہر ظلم عارضی ہے جو اپنے انجام سے ضرور دوچار ہوگا ۔ یقینا عدل قائم ہو گا ۔ جھوٹے اور جاہل ( جو بظاہر اپنے سچے ہونے کا دعو یٰ کرتے ہیں ) نامراد ٹھریں گے ۔ جاہل وہ ہیں جو اس اندھیرے میں ہیں۔ جو شعور سے محروم ہیں یا دانستا ً شعور حا صل کرنے سے کتراتے ہیں جن کی اصلا ح اس صو رت میں ممکن ہے کہ جب ظالم کو ظالم ہی لکھا جائے گا ۔ ایک سرایئکی شعر ۔ میں لکھنا ہا بہو ں کجھ پر میڈے ہن ہتھ قلم تھی گئے۔۔۔

میڈے وسبے دا راجہ میں تیکو ں مروا ن لکھنا ہاشمع جونیجو بہن ! انہیں غصہ انتہا ء پسندو ں اور ڈیڑھ انچی مسجد بنانے والو ں پر کیو ں آئے ۔۔۔ْ ؟یہ تو ان کی پراکسی وار میں ان کے معا ونین ہیں ۔ انہیں تو زعم ہے کہ یہ ان کے ذریعے اقوام عالم پر قابو پا لیں گے ۔۔۔۔شمع بہن ! ذرا شمع بینی کے ذریعے انہیں سمجھا یئے کہ اس حرکت سے یہ خود بدنام ہو کر رہ گئے ہیں ۔ا ب تو ان کے ادارے قلم کارو ں پر کاری وار کر رہے ہیں ۔کیا ان کا قانون اسی لیئے ہے کہ قلم کے مزدو رو ں کو انتہائی ستم کا نشانہ بنایا جائے ۔۔۔؟ یہ جو انداز ستم ہے ۔ ناپسند یدہ ہے ۔ کرائے کے قاتلو ں کو اس مشن کے لئے آگے لا یا جا رہا ہے ۔ یعنی بوزنہ کے ہاتھ میں استرا تھما دیا گیا ہے جو شرفاء کے ناک کاٹنے کے عمل میں مصروف ہے ۔ کیا رائے ہے شمع بہن ! اس خیا ل اور دلیل پر آپکی۔۔؟

اپنی بربادی پہ کتنے خوش تھے ہم لیکن فراز
دوست دشمن کا نکل آیا ہے اپنا آشیا ں

جب تک اپنا گھر دشمن کا دوست رہے گا ۔۔۔۔۔تب تک عدم تحفظ جیسی لاعلاج بیماری ( مرض) ہمارا مقدر رہے گی ۔ مقدر سو فیصدی یہ شئے نہیں کہ جو غائب سے نا زل ہو تی ہو ۔۔۔۔۔اس کے اسباب ہم خود بھی ہیں ۔۔۔جن کا سامنا ہمیں خود رہتا ہے ۔۔۔۔جس کو بنیاد بناتے ہوئے مقدر کو کوستے رہتے ہیں۔ ۔۔۔نا امیدی کو اسی لئے کفر کہا گیا۔۔۔۔!

پھر کہیں انسان کا چہرہ بنا
پہلے اس کو دیر تک سو چا گیا

Society

Society

یہ شعر معروف قلم کا ر سلمان رسول کی زبانی معلوم ہوا کہ لندن میں چکوال کے شاعر عاکف محمود کا ہے۔ جس مضمون میں یہ حوالا دیا گیا ہے وہ مضمون ایک معا صر میں 26مارچ 2014ء کو شا ئع ہوا۔حوالہ دینا میں نے ضروری سمجھا کہ کہیں غیر ادیب اور ادب دشمن لوگ جھوٹ کے پلندے لے کر سر بازار ڈگڈی نہ بجانہ شروع کر دیں ۔ خالق بھی اعلیٰ قسم کا کاری گر ہے۔جس نے حرکات ۔اعمال اور خصا ئل کی مناسبت سے کسی آدمی کو تشکیل کیا۔ اسی طرح کسی آدمی کی شکل و صو رت کے مطابق اس کے خصائل ترتیب دیئے ۔ اب دیکھیے مینڈکو ں کو جب تجسیم کیا گیا تو ٹرٹر کی خصلت ان میں ڈال دی گئی۔ بھلا مینڈک جو جو ہڑو ں میں مقیم ہوتے ہیں اپنی ٹر ٹر کے ذریعے معاشرے پر مثبت تاثر چھو ڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظو ں میں آوازسگا ں کم نہ کند رزق گدارا۔

ہاں باولا پن اگر معا شرے میں سرایت کرنے کی کوشش کی جارہی ہو تو اس کے لئے اعلیٰ سطحی انسداد باولا پن مہم ضروری ہے اور کچلا دے کر سگ گزیدہ کو ہلاک کر دینا چاہیے جو باولا ہوکر یہ جر ثومہ عام کر رہا ہے ۔ اور اس مہلک عمل کا ذمہ دار ہے ۔ سرکار کو بطور خا ص اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور متوجہ ہونے کی گزارش ہے ۔عاکف محمود کا یہ شعر ان کے اعلیٰ تخیل اور فکر کا عکاس اور ترجمان ہے ۔ اس بارے ان کا طویل تجربہ لگتا ہے ۔ شاید وہ علم چہرہ شنا سی کے ماہر ہیں اور عاکف محمود میرے ممدو ح کو جانتے ہیں اور اس کے ناپاک عزائم سے بخو بی آگاہ ہیں۔۔۔

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفا ن کیے ہوئے۔

سماج کیا ہے ۔۔۔؟ جہا ں باہم محبتیں رائج ہوں ۔ نفرتیں فنا پذیر ہو ں بلکہ وجود بھی نہ رکھتی ہو ں سماج کہلا تا ہے ۔ سماج کیا ہے ۔۔۔؟ جہا ں حصول رزق اور حصول زر کے لئے شرفاء کی پگڑیا ں اچھا لی اور اتاری جا رہی ہو ں۔۔۔۔۔جہا ں بوزنہ نما وں کے استرے اعلیٰ افکار کے حامل اور امن کا پیغام دینے والے حقیقت پسندو ں کو جھٹلانے کی رسم ادا کی جارہی ہو ۔۔۔۔! یہ سماج نہیں ہے ۔۔۔سماج تو وہ ہے جو اپنے فطری انقلاب کی طرف رواں ثقا فت رکھتا ہو۔جس سماج میں فاقہ مستی عام کی جارہی ہو ۔۔انصا ف معدوم ہو ۔انصا ف قحط زدہ ہو چلا ہو ۔ ظلم کا دور دورہ ہو ۔شعور عنقا ء ہو۔وسائل پر طاقت کا قبضہ ہو ۔کیا وہا ں حق و صداقت کا پیغام اور نفاذ امن کی سعی سہل ہے۔۔۔؟

جب کسی سماج یا معاشرے میں امن کے نفا ذ کی جہد یا محض خواہش کو عیب یا نیچ حرکت قرار دی جانے لگے اور عدم تشدد کے منطق کو کمزوری تصور کیا جاتا ہو ۔ انصا ف اور وسائل کی منصا فا نہ تقسیم کو ریاستی دستور سے عملی طور پر نکال دیا گیا ہو ۔۔۔۔تو کیا اس قبیح حرکت کے صلے میں پھول ملیں گے ۔ اس کیفیت کا نتیجہ اور انجام عا رف شفیق کی زبانی۔۔۔

.غریب شہر تو فاقو ں سے مر گیا عارف
امیر شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی

اخلا قی انحطاط اور نفسیاتی کرپشن نے معاشرے کو مرگ دوام کا شکار کر رکھا ہے ۔انارکی کی کیفیت سے نکلنا ناممکن ہو چکا ہے ۔ مگر اس صورت میں ممکن ہے کہ صراط مستقیم کی تلاش و جستجو میں سنجیدگی اختیار کی جائے ۔ مقصد و مطلب پر ستی سے احتراز کیا جائے ! دوسرو ں ( غیروں) کی جنگ کی بجائے اپنے اثاثے۔۔۔

Mansha Faridi

Mansha Faridi

تحریر :منشاء فریدی
03336493056