کرپشن کی سزا ترقی؟۔۔۔۔ واہ رے نیا پاکستان

Corruption

Corruption

تحریر : سید احمد علی رضا

یہ 31 جولائی 2018ء کا دن تھا۔پنجاب کونسل آف دی آرٹ لاہور کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمن رائے گوجرانوالہ آرٹس کونسل کے ہال کے تعمیراتی کاموں اور دفتری صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے گوجرانوالہ آئیں۔دوران جائزہ شدید بے ضابطگیاں پائیں تو انہوں نے دیگر احکامات کیساتھ آرٹس کونسل کے افسران کو اپنا قبلہ درست کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں،لیکن اگلے ہی روز یعنی یکم اگست کو گوجرانوالہ آرٹس کونسل کے پروگرام افسر ڈاکٹر حلیم کو اینٹی کرپشن حکام نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں شہری سے5ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ جس کے بعدڈاکٹر حلیم کو سیکرٹری اطلاعات وثقافت نے فوری طور پر معطل کردیا۔ لیکن رشوت وصولی کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والا یہ افسر اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے نہ صرف رہا ہوگیا بلکہ خلاف قانون بحال بھی ہوگیا۔دوسری طرف ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف دی آرٹس لاہور نے شہری کی درخواست اور سیکرٹری اطلاعات و ثقافت کے حکم پر ڈاکٹر حلیم کیخلاف کرپشن،بے ضابطگیوں،اختیارات سے تجاوز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت چلنے والی انکوائری میں جرم ثابت ہونے پرڈاکٹر حلیم کاگوجرانوالہ سے لاہور تبادلہ کردیا۔اگرچہ یہ اچھا اقدام تھا لیکن یہاں بھی ڈاکٹر حلیم اپنے اثرو رسوخ اور” ترلے منتوں” کی وجہ سے بچ گیا۔ اس کے خلاف نہ توپیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکی اور نہ ہی اس سے ڈرامہ سکروٹنی فیسوں وپروگرامز کے انعقاد کے سلسلہ میں لوٹی گئی سرکاری رقم کی ریکوری کی گئی۔

ہاں اس دوران ڈاکٹر حلیم نے اپنے گوجرانوالہ میں تبادلے کی متعدد بارکوششیں کیں لیکن موصوف کی حقائق پر مبنی خراب شہرت کی وجہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹرثمن رائے نے اسکی کوششیں کامیاب نہ ہونے دیں۔میڈم ثمن رائے کا تبادلہ ہوا تو ڈاکٹر حلیم کا دل پھر سے کرپشن کرنے کیلئے بے تاب ہوگیا اور گوجرانوالہ میں تبادلے کی کوششیں شروع کردیں ۔اب کی بار اسکی کوششیں اس وقت کامیاب ہوگئیں جب سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب کواندھیرے میں رکھ کر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل لاہور نے ڈاکٹر حلیم خاں کی ترقی کی سفارش کی۔صورتحال یہ ہے کہ اب موصوف کی نہ صرف ترقی ہوگئی ہے بلکہ اسکے خلاف جاری انکوائریوں کو سرد خانے میں ڈال کر گوجرانوالہ تبادلہ کردیا گیا ہے۔
قارئین۔۔۔

کرپٹ افسران کی مانیٹرنگ اور ان کیخلاف کارروائی کا پنجاب حکومت کا طریقہ کار سمجھ سے بالا تر ہے۔کہا یہ جاتا ہے کہ حکومت سرکاری اداروں سے کرپشن کے مکمل خاتمہ پر یقین رکھتی ہے۔شہری کرپشن کی نشاندہی کریں،کرپٹ افسران وملازمین کو سرکاری دفاتر سے نکال دیا جائے گا۔لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔اہم سیٹوں پر تعینات ہی اس افسر کو کیا جاتا ہے جوسرعام کرپشن کرتا ہے۔تصدیق شدہ کرپٹ افراد کو ہی دفاتر میں اہم ذمہ داری دی جارہی ہیں۔جس کو کرپشن کی وجہ سے معطل کیا جاتا ہے وہی چند روز بعد اسی سیٹ پرنہ صرف تعینات ہوجاتا ہے بلکہ ویسے ہی کرپشن کرنے لگتا ہے۔اب ڈاکٹر حلیم کو ہی لے لیجئے۔موصوف نے اپنے سابقہ دور میں کونسا غیر قانونی کام ہے جو نہیں کیا۔کیا اس نے تھیٹرز مالکان سے سنسر ریہرسل پاس کرنے،دوران ڈرامہ نمائش فنکاروں کو بلاوجہ تبدیل کرنے،غیر منظور شدہ گانوں کی اجازت دینے،فحاشی کرنے والی فنکارائوں کی سرپرستی کرنے کے ہزاروں روپے ہفتہ واربطور”نذرانے” نہیں لئے؟۔کیا ڈرامہ سکرپٹ سکروٹنی فیسوں میں لاکھوں کا غبن نہیں کیا؟،کیا سکرپٹ سکروٹنی کی سرکاری فیسوں کے ساتھ غیر سرکاری فیسیں وصول نہیں کی جاتی تھیں؟ کیا گوجرانوالہ آرٹس کونسل کے زیر انتظام ہونے والے پروگراموں کو سپانسر کروانے کیساتھ بل سرکاری کھاتے سے بھی وصول نہیں کیا جاتا تھا؟ کیا موصوف نے” ڈونیشن”حاصل کرنے کیلئے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ڈویژن بھر میں غیر قانونی طور پرکلچرل ایمبیسڈر(ثقافتی سفیر)مقرر نہیں کئے تھے؟۔

کیا موصوف کا نمائندہ تھیٹرز سے”نذرانہ”کی ریکوری نہیں کرتا تھا؟۔ہوتی تھی جناب ریکوری ہوتی تھی اور بغیر کسی خوف کے ہوتی تھی،ڈرامہ سکرپٹ سکروٹنی کی سرکاری فیسوں میں سے ماہانہ فی تھیٹر20ہزار روپے اپنی جیب میں ڈالے جاتے تھے۔10ہزار روپے فی تھیٹر سکرپٹ سکروٹنی کیلئے بطور غیر سرکاری فیس(رشوت) وصول کئے جاتے تھے۔منظور شدہ سنسر ریہرسل سے ہٹ کر فنکار کے پرفارم کرنے اور غیر منظور شدہ گانے کے 5ہزار روپے تھیٹر مالک آرٹس کونسل کو ہی دیتا تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ غیر قانونی طور پر” ثقافتی سفیر” بھی بنائے گئے تھے اور وہ گوجرانوالہ آرٹس کونسل کے پروگراموں کو سپانسر کرواکر ”پارٹی”سے لاکھوں روپے بھی وصول کرتے تھے اور پھر انہیں پروگراموں کے اخراجات کے بل سرکاری اکائونٹ سے بھی ادا ہوتے تھے۔

رشوت لیتے ہوئے مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے اور پنجاب کونسل آف دی آرٹس لاہور کی انکوائری میں جرم ثابت ہونے پر ڈاکٹر حلیم کیخلاف محکمہ کیا کرسکا؟کیا کوئی رقم وصول کی؟ کیا پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوئی؟ نہیں ۔۔صرف تبادلہ ہوا،یا پھر اسکو ترقی دے کر دوبارہ اسی جگہ بھیج دیا کہ جائو اور اپنا کام جاری رکھو۔انکوائری میں کرپشن ثابت ہونے پر بطور سزاتبدیل ہوکرڈاکٹر حلیم نے اکتوبر2018ء سے مارچ2020ء کا عرصہ لاہور میں کیسے گزارا ؟ یہ تو وہی بتا سکتا ہے۔ لیکن ایک بات کنفرم ہے کہ اس نے اس دوران کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب کی واضع ہدایات کے باجود ڈاکٹر حلیم نے تبادلے کے فوری بعد ہی پھر سے پر پرزے نکالنے شروع کردیئے ہیں اور اپنے اختیارات دکھانے کیلئے اس نے فنکاروںوتھیٹرز مالکان کو یقین دہانیاں کروانا شروع کردی ہیں کہ تھیٹرز میں کام کرنے کے سلسلہ میں آپ لوگوں کو حسب سابق مکمل آزادی ہوگی۔میرے ہوتے ہوئے ضلعی انتظامیہ بھی آپ لوگوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کریگی۔
قارئین۔۔۔

یہ ہے ہمارے ہاں کرپشن کی سزا۔چندروزہ معطلی،چندہ ماہ تبادلہ اور پھر ترقی کیساتھ اسی جگہ دوبارہ تعیناتی۔ یہ بات یقینی ہے کہ اب کی بار ڈاکٹر حلیم مکمل پلاننگ کیساتھ آیا ہے کہ باقی رہ جانے والی ”نوکری” میںوہ ”کھڑکی توڑ”کارکردگی دکھائے گا۔یقینی بات ہے کہ اب تھیٹرز میں بے ہودہ ”مجروں” اورفحاشی کی خبریں تقریبا روزانہ ہی میڈیا میںپڑھنے کو ملیں گی،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں بھی ہونگی۔قابل رحم تو ہونگے تھیٹر مالکان یا گوجرانوالہ کے عوام۔جنہیں ”نذرانہ” وصولی،لاقانونیت اور فحاشی کے سیلاب کی نذر کردیا جائیگا۔

Syed Ahmad Ali Raza

Syed Ahmad Ali Raza

تحریر : سید احمد علی رضا