23 مارچ سے 23 مارچ تک

Pakistan Day 23 March

Pakistan Day 23 March

تحریر : سعیداللہ سعید
اہل وطن آج ایک بار پھر 23 مارچ کو نہایت جوش و خروش سے منارہے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہم میں سے بہت ساروں کو اس کا دن کا پس منظر معلوم نہیں۔ ویسے غور کیا جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ 1940کے اس دن کو ہمارے اکابرین نے ممکنہ وطن کا پورا نقشہ کھینچ دیا تھا۔ ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا تھا کہ الگ وطن مسلمانان ہند کے لیے کیوں ضروری ہے۔ شائد بحیثیت قوم یہ ہماری نااہلی اور بے حسی کی انتہاء ہے کہ ہم زندگی کے کئی اہم شعبوں میں اس راستے پر چل ہی نہ سکے ، جس کا تعین تحریک آزادی کے مجاہدوں نے کردیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھی ہم نے قرارداد پاکستان کے مقاصد کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی ، وہ تمام ادوار پر ہم بجا طور پر فخر کرسکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جب بھی ہم نے ان عظیم مقاصد کو نظر انداز کیا کہ جس کے لیے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا گیا تھا، تو ہم ذلتوں کے اتاہ گہرائیوں میں گرتے ہی چلے گئے۔یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ آج ایک ایسے ملک میں کہ جس کا بنیاد ہی اسلام پر پڑا ، ایک ایسا ملک کہ جس نے اسلام کے نشرواشاعت کا مرکز بننا تھا۔ آج اس کے بیشتر باشندے اسلام کے بنیادی تعلیمات ہی سے بے خبر ہیں۔

قارئین کرام! بانی پاکستان محمد علی جناح کہ جس کی قیادت اور قوم سے بے لوث محبت کے ہم سب معترف ہے۔ اس نے تو 22مارچ 1940کومنٹو پارک (اقبال پارک)لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں اجلاس سے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھاکہ ہندو اور مسلمان صرف دو قومیں ہی نہیں بلکہ دو الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور ہندوئوں کہ نہ صرف مذاہب الگ، بلکہ ان کے رسم و رواج ، اور طرز معاشرت بھی الگ الگ ہیں۔ نہ تو یہ دونوں آپس میں اکھٹے کھانا کھا سکتے ہیں اور نا ہی آپس میں شادیا ںکرسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ خیالات و تصورات، طرز معاشرت،عبادات سمیت سب کچھ ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد ہے۔ ایک اہم بات جو قائد نے کہدیا تھا، وہ یہ کہ ان دو اقوام میں کسی ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن اور کسی ایک کی فتح دوسر کی شکست ہوتی ہیں۔

اب ہم قائد کے خطبے اور اپنے کردار کا جائزہ لے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس مقصد کو ہی بھلا دیا ہے، جس کی تکمیل کے لیے مسلم لیگی زعماء 22مارچ سے لے کر 24مارچ تک لاہور میں اکٹھے ہوئے تھے اور جہاں 23مارچ1940کو شیر بنگال مولوی ابو القاسم فضل الحق نے وہ تاریخی قرارداد پیش کی تھی ، جسے ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے ہیں۔میری اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ آج ہم میں سے کتنے مسلمان ایسے ہیں کہ جن کے رسم و رواج ہندئوں جیسی نہیں؟ آج اگر ہم اپنے گردو پیش کا جائزہ لیں تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہندوئوں کی نقالی کئے بغیر ہماری کوئی تقریب مکمل ہی نہیں ہوتی۔ بچے کی پیدائش سے لے کر ان کے چلنے پھرنے تک،منگنی سے لے کر شادی تک کتنے ہی ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ہم اسلامی تہذیب کی دھجیاں اڑاکر ہندووں کی تقلید نہیں کرتے۔ دوسری طرف آفسوسناک صورت حال یہ بھی ہے کہ ملک میں ہر طرف بے حیائی، زناکاری اور کرپشن کا دور دورا ہے۔اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں نیب جس بھی ادارے یا شخصیت کو ہاتھ لگا تھا۔ چوری اور بدعنوانی کے وہ داستانیںسامنے آتی ہیں کہ شیطان کا بھی سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ اس مملکت میں ہورہا ہے۔ جس کے قیام کے لیے لاکھوں لوگوں نے صرف اس وجہ سے قربانیاں دی تھیںکہ یہ ملک مثالی اسلامی مملکت بنے گی۔ درندگی میں ہم اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ معصوم بچیوں اور بچوں کو ہوس کا نشانہ بنا کر آسانی سے ان کو قتل بھی کردیتے ہیں۔

قائد کے اس وطن میں قانون کی عملداری کا صورتحال یہ ہے کہ ایک وردی پوش 444بے گناہ انسانوں کو بیہمانہ طریقے سے قتل کر ڈالے ۔ستم بالا ستم یہ کہ اس ”عظیم” قاتل کو ایک اہم سیاسی جماعت کے شریک چئیر مین بہادر بچے کا خطاب بھی دیں، لیکن نہ تو کوئی خطاب دینے والے سے کچھ پوچھ سکتے ہیں اور ناہی قاتل کا اب تک کسی نے کچھ بگاڑا ہے۔ ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت وطن عزیز ہر سمت سے خطرات میں گرا ہوا ہے۔ افغانستان کہ جس کے ساتھ ہمارا مضبوط مذہبی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں۔ وہ دوستی کی بجائے دشمنی پر اتر آیاہے۔ نہ صرف خود دشمنی پر اتر آیا ہے بلکہ ملکی ایجنسیوں کے مطابق دیگر پاکستان دشمن عناصر کا آماجگاہ بھی بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف ایران ہے کہ جو کبھی پاکستان کا ہمدرد تھا لیکن آج وہ بھی آستین کا سانپ بنا ہوا ہے۔

ہندوستان اور امریکہ کا تو ذکر ہی کیا۔ ٹرمپ اور مودی گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستان کو آج جتنا خطرہ لاحق ہے ماضی میں کبھی نہ تھا۔ اوپر سے بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے اہم عہدوں پر فائز لوگ ملکی سلامتی سے زیادہ ایک ایسی فیملی کی دفاع میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہیں جن کاقانونی طور پر ملکی سیاست میں اب کوئی کردار ہی نہیں۔ دوسری طرف سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب 23مارچ آتا ہے توماضی کو دیکھ کر جہاں خوشی محسوس ہوتی ہے، وہی حال کو دیکھ کر دل ڈوبنے لگتا ہے کہ ناجانے مستقبل میں وطن عزیز کا کیا بنے گا۔ آیئے اس اہم دن اللہ پاک رب العزت کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک صالح قیادت نصیب فرمائے اور وطن عزیز کودن دگنی رات چگنی ترقی عطاء فرمائے آمین۔

Saeed Ullah Saeed

Saeed Ullah Saeed

تحریر : سعیداللہ سعید
saeedullah191@yahoo.com
cell:0345 2948722