ایک اور دسمبر

December

December

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

دسمبر کا آغاز پورے ہفتے کی بھرپور تھکاوٹ صبح چھٹی کا دن نرم و گداز آرام دہ بستر میں طویل بھر پور پر سکون نیند لے کر اٹھا تو جسم شاندار دن گزارنے کے لیے بلکل تیار تھا پر دہ سرکا کر باہر دیکھا تو دسمبر کا سورج حرارت آمیز زیست آمیز سنہری شعاعیں بانٹتا نظر آیا نیلے آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھتے ہی رگ و پے دھوپ کا تقاضہ کرنے لگے میری بہترین تفریح فطرت اور اُس کے فطری مناظر کے ساتھ وقت گزارنا ہوتی ہے دسمبر کا پہلا ہفتہ آسمان بادلوں سے صاف سورج سرور آمیز شعاعیں زمین پر پھیلاتا ہوا میں نے چند گھنٹے فطرت کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا اورواش روم میں گھس گیا واش روم جانے سے پہلے بھر پور ناشتے کا کہتا گیا نہانے کے بعد دھوپ میں پڑی چارپائی پر دھوپ کی تمازت کا لطف اٹھانے لگا اِسی دوران ادرک ہرا دھنیا پودینہ ہر ی مرچوں میں مکس مولی کے کڑک کرسپی دیسی گھی کے پراٹھوں کی آمد شروع ہو گئی اب مولی والے پراٹھوں کو خالص دہی اچار کے ساتھ معدے کو سر شاری اور توانائی کے دریا بہانے لگا۔

دسمبر کی سرور آمیز دھوپ اور دیسی گھی کے پراٹھوں کو تازے مکھن دہی اچار کے ساتھ کھانا ہر نوالا بہشت کی یاد دلانے لگا آج کا دن یوم بد پرہیزی تھا اور میں آج سارے ریکارڈ توڑنے پر آمادہ تھا ہر نوالے سے دیسی خالص گندم دیسی گھی مکھن دہی اچار ہرا دھنیا ہری مرچوں کا خاص احساس کہ مدہوشی سی طاری تھی میں شراب نوشوں کی قسمت کو کوس رہا تھا کہ وہ نشے کے لیے حرام چیز سے اپنے معدے جگر کا ستیا ناس کر تے ہیں کاش ایسی خالص غذا سے نشہ حاصل کریں میری رگوں میں پراٹھوں کی توانائی اور مکھن دیسی گھی نشیلے احساس کے ساتھ دوڑنے لگی خوب ناشتہ کرنے کے بعد خالص گڑ والی لسی کے بعد الائچی گڑ والی دودھ پتی دار چینی ڈال کر حلق سے اتارنے لگا خوب جی بھر کر ناشتہ کر لیا تو احساس جاگا کہ تم عمر کے جس حصے میں ہو اتنی خالص غذا ئیں اب تمہارے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں لہذا بہتری اِسی میں ہے کہ قریبی پارک میں جا کر چکنائی کو زائل کر نے کی کو شش کی جائے۔

اب میں جو گر پہن کر اکیلا قریبی پارک کی طرف جانے لگا میں فطرت کے ساتھ جب بھی وقت گزارتا ہوں تو اکیلا رہنا پسند کر تا ہوں تاکہ فطرت اور میرے درمیان کوئی حائل نہ ہو اور میں فطرت کے مناظر کے ساتھ بھرپور وقت گزار سکوں میں جیسے ہی لاہور شہر کے وسیع و عریض سبزے سے لبالب بھرے ہوئے پارک کے مین دروازے سے اندر داخل ہوا تو پارک کا وسیع و عریض دامن قدرتی مناظر دیوقامت درختوں پھولوں کی لاتعداد قطاروں کے ساتھ بانہیں کھولے کھڑا تھا میں واکنگ ٹریک پر طویل واک کے لیے چڑھ گیا آج میرا ارادہ دس کلومیٹر واک کا تھا قدرتی مناظر اور دیو قامت صدا بہار درختوں کے درمیان موڑ کا ٹتا ہوا ٹریک خوابوں کی دنیامیں لے جاتا ہے میں آہستہ قدموں کے بعد پھر تیز قدموں کے ساتھ ٹریک پر چلتا چلا گیا چاروں طرف دسمبر کی دھوپ پھیلی ہو ئی میرا صحت مند جسم پوری توانائی سے ٹریک پر رواں دواں تھا دسمبر کی دھوپ میں عجیب سی اداسی کا عنصر شامل ہو تا ہے انسان ماضی حال میں ڈوبتا تیرتا ہے فطرت کے مناظر اور دسمبر کی دھوپ کو ذکر الٰہی کے ساتھ میں خوب انجوائے کر رہا تھا۔

تقریباً سات کلومیٹر واک کے بعد میں نے بریک کا سوچھا تو میری قدم اُس میدان کی طرف اٹھنے لگے جدھر سینکڑوں کی تعدا میں ہرن چھوڑ دئیے گئے ہیں میں وہاں جا کر بیٹھ گیا میرے سامنے بہت بڑی تعداد میں ہرن ادھر اُدھر قلانچیں مارتے پھر رہے تھے ہرنوں کی پھرتی چشتی معصومیت بھاگ دوڑ میں نیم دراز ہو کر دھوپ کے ساتھ ہرنوں کو انجوائے کر نے لگا لسی دہی مکھن پراٹھوں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا نشیلا سا احساس اعصاب پر غنودگی سی طاری کر نے لگا دسمبر کی سنہری دھوپ اس کی تمازت جسم آرام دہ زون میں داخل ہو اتو خمار ہ نیند میں ڈھلنے لگا میں نے جسم کو ڈھیلا چھوڑ ا اور دسمبر کی دھوپ کو انجوائے کر نے لگا پتہ نہیں کتنی دیر مراقباتی سرور آمیز کیفیت میں رہا کہ اچانک نوجوانوں کا گروپ چور مچاتا میرے سر پر آدھمکا وہ مل کر دوستی پیار میں اپنے ہی دوست کو دبوچ کر تنگ کر رہے تھے۔

اُن کے شور سے میں بیدار ہو گیا جوانوں کو دیکھنے لگا جو جوانی کے نشے میں اپنی جوانی کو انجوائے کر رہے تھے جوانوں کی مستیاں دیکھ کر میں بھی ماضی کی چلمن میں جھانکنے لگا جہاں پر میرے کالج کے دوست تھے اور میرا جوانی کا وقت جب کالج کے دنوں میں ہم دسمبر کے پہلے اتوارکا انتظار کر تے تھے اُس اتوار کو بہت دوست میرے ٹیوب ویل اور زمینوں پر میری دعوت پر آکر دو دن گزارتے کیا دن تھے ہم رات بھی وہی قیام کر تے پہلے دن پرندوں کا شکار رات کو خرگوش کا شکار اگلے دن ہیڈ بلوکی پر مچھلی کا شکار پھر اِس شکار کی دعوت سرخاب مرغابیوں کا یخنی پلائو کھوئے والی کھیر گجریلا بادلوں والی رات کو پرندوں کا باربی کیو مچھلی بھون کر کھانے گا جر اور گنوں کا خالص رس شکر قندی راکھ میں بھون کر کھانا رات کو لکڑیاں جلا کر اُس الاو کے گرد گرم چادروں چار خانوں والے کھیسوں میں بیٹھ کر ساری رات گپیں ہانکنا جوانی کے دن مستقبل کے سہانے خوابوں کا تذکرہ دل و دماغ میں بسنے والی پری چہروں کا تذکرہ یاروں کی چھیڑ چھاڑ منگنیوں شادیوں کے تذکرے ایک دوسرے کے حساس نازک حصوں کو چھیڑنا تنگ کرنا مذاق بڑھتے بڑھتے جسمانی حرکات میں داخل ہو جانا موقع ملنے پر دوڑ کر مقابلے تاش کی بازیاں ناکام کشتی پہلوانی کے مقابلے دسمبر کی دھوپ میں گھنٹوں مچھلی کے شکار کے لیے کنڈیاں ڈال کر انتظار کر تا مچھلی پکڑی جانے پر شور و غل نعرے چیخ و پکار اڑتے پرندوں کو نشانہ لگنے پر نعرے طوفان برپا ہو جاتا اِس طرح دسمبر یادگار ہو جاتا ہے۔

دسمبر ہے ہی ایسا دلربا سا حساس دل کوچھوتا ہے چھیڑتا ہے آپ کسی پارک میں چلے جائیں دیوقامت درخت دور تک پھیلی پھولوں کی کیاریاں پت جھڑ کے بعد سڑکوں پر دور تک پھیلے ہوئے خشک پتے خا موشی سناٹا سنہری دھوپ بچپن جوانی کی یادیں دسمبر کی راتوں کا سناٹا نرم و گداز آرام دہ بستر رضائی کی تپش پسندیدہ کتاب اور چاروں طرف اڑتی رنگ برنگی تتلیاں دسمبر آپ کے باطن کے نہاں خانوں تک سرایت کر جاتا ہے عجیب سی اداسی آپ کے دل و دماغ پر حاوی ہو جاتی ہے دسمبر کے آتے ہی سال کے خاتمے کا احساس پچھلے دسمبر کی یادیں دسمبر دیہات کے ساتھ شہری علاقوں کے مکینوں کو بھی اپنی سحر انگیز لپیٹ میں لے لیا ہے دسمبر کا دل گداز احساس جب شاعروں پر اترتا ہے تو وہ یوں لکھتے ہیں۔

چاند بھی تنہا رات بھی تنہا اور تنہا میر ی ذات ہے
پھر ٹوٹ کے وہ یاد عجیب دسمبر کی یہ رات ہے
ہلکی ہلکی سی سرد ہوا ہلکا ہلکا سا درد ِ دل
انداز اچھا ہے اے دسمبر تیرے آنے کا
سرد ہوا ئیں کیا چلی میرے شہر میں
ہر طرف یادوں کا دسمبر بکھر گیا
چاندنی رات تھی سرد ہوا سے کھڑکی بجتی تھی
ان ہاتھوں میں ہاتھ تھے میرے اور دسمبر تھا
دسمبر میں کہا تھا ناں کہ واپس لوٹ آئو گے
ابھی تک تم نہیں لوٹے دسمبر لوٹ آیا ہے

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org
فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org