منہ بولی جمہوریت کی تباہیاں

Imran Khan

Imran Khan

تحریر: عقیل احمد خان
ماڈل ٹائون میں کئی انسانی جانوں کو نگلنے اور بری طرح نقصان پہنچا نے کے بعد مختلف شہروں میں ہنگاموں، ہڑتالوں اور شہریوں کو آپس میں لڑوانے کے بعد حال ہی میں فیصل آباد سانحہ میں قیمتی جانوں کو ہڑپ کرنے کے بعد بالآخر جمہوریت کو ہوش آیاہے اور جمہوری مذاکرات کی باتیں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے دھاندلی کے الزامات پر 14 اگست کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف شروع کئے جانے والے مارچ ،دھرنوں کی تحریک کو 4ماہ ہونے کو ہیں۔

اس سے قبل ماہ جون میں طاہر القادری کی حمایت میں ماڈل ٹائون میں اکٹھے ہونے والے ہزاروں افراد پر اسی جمہوریت نے دھاوا بول کر کئی انسانی جانوں کو لہو میں نہلا کر خاک کی نذر کردیا تھااور پھر عمران خان کی تحریک میںخونی جمہوریت سے بدلہ لینے کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی عوامی تحریک نے بھی شمولیت اختیار کی اور طویل عرصہ تک اسلام آباد میں دھرنا دیکر دنیا میں احتجاج کاایک ریکارڈ قائم کیا مگراس جمہوریت کا کوئی بال بیکا نہ کرسکااور جمہوریت سانحہ ماڈل ٹائون کے واقعات کے بعد سے اپنے مخالفین کو ایک ڈرائونی صورت پیش کر کے اپنے 5 سال پورے کرنے کے چکر میں تھی مگر کیا ہوا یاد آیاکہ اس بار ‘ اس جمہوریت کو مدمقابل روایتی حریف کا سامنا نہیں بلکہ اس بار کروڑوں نوجوانوں میں مقبولیت رکھنے والے 62 سالہ جوان پٹھان کا سامنا ہے جس نے ایام کی سینچری میں قوم کوان دو پارٹیوں کی برسوں پرانی خود ساختہ جمہوریت سے بھرپور انداز میں آگاہ کردیاجن کی باریوں نے ملک کو آج تک ترقی نہیں کرنے دی۔

اسی غم وغصہ میں جمہوری فرشتوں کے جذبات کا پارہ اس قدر ہائی ہوگیا کہ انہوں نے کھلے الفاظ میں برے انجام کی دھمکیاں دینا شروع کردیں، اس طرح کے رویے سامنے آئے اورایسی زبان استعمال کی گئی کہ جس سے ایک عام فہم آدمی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ حضرات کیا چاہتے ہیں اور اس کانتیجہ کیا ہوگا بہرحال ہر شخص کومعلوم ہوا کہ بالآخر برا عام آدمی کا ہی ہوگا اور وہی ہوا سب نے دیکھا گھروں سے سودا سلف کی خریداری کیلئے نکلنے والے افراد سے جیلوں کو بھرا گیا، احتجاج کرنے والوں پر طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا لوگوں پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں، غنڈہ گرد عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ احتجاج کیلئے باہر نکلنے والے افراد کو سبق سکھائیں مگر کوئی ایک بھی ادارہ انسانی ہمدردی میں یا انسانیت کا وقار برقرار رکھنے کیلئے حرکت میں نہ آیا اورپھر جمہوری فرشتے مقدمات کے اندراج کے باوجود آزاد اور مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی ذاتی عدالتیں سجائے خود کو ہر گناہ سے پاک پیش کرتے اور مخالفین کو کھلے عام دھمکاتے نظر آئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

8 دسمبر2014ء کو فیصل آباد میں تحریک انصاف کو احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کے اعلان پر پہلے تو انہیں ماڈل ٹائون والا ڈرائونا چہرہ دکھا کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی انہیں لاٹھی گولی والی فورسز سے ڈرایا جاتا رہا مگر پھر8دسمبر کا دن آنے پرہزاروں کی تعداد میں سرکاری فورسز کے علاوہ پتھروں سے لیس غنڈہ گرد فورسزکوبھی چھٹی دی گئی اس بار سرکاری فورسز نے حکمت عملی کے تحت خود تو مظاہرین کیساتھ روایتی سلوک نہ کیا مگر ساری دنیا نے دیکھا کہ غنڈہ فورسز کو کنٹرول کرنے میں ان سرکاری فورسز نے سنجیدگی کا کوئی مظاہرہ نہ کیا اورہزاروں کی تعداد میں نفری کی موجودگی میں پیاری راج دلاری جمہوریت کی محبت میں دیوانے نے سیدھی گولیاں برسا کرکئی افراد کو زخمی کردیا اور ایک نوجوان حق نواز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی روز دم توڑ گیا(ایک طرف ہزاروں پولیس والے) اور آئین وقانون جن کی حکمرانی کی اس ملک میں جمہوری فرشتے راگ الاپتے نظر آتے ہیں نے اپنی ناکامی کی اسی وقت گواہی دے دی کہ جب ہزاروں قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں اسلحہ سے خون کی ہولی کھیلنے والے پیار سے فرار ہوگئے۔

واہ جمہوریت تیرے صدقے، یہ جمہوریت ہے یہ ریاست ہے ؟اور یہ ریاست کو چلانے والی باتیں ہیں۔؟ اور پھرشاباش ان کیلئے جنہوں نے ملزم کی فرار ی کے ذمہ داروں کی با زپرس نہیں کی اور ان کیلئے صد شاباش جنہوں نے ملزم کی گرفتاری کیلئے50لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے جناب یہ50لاکھ روپے خزانہ سرکار میں جمع رہنے دیں ان سے کسی ہسپتال میں ادویات پہنچا دی جائیں، کینسر جیسے مرض میں مبتلا کسی غریب مریض کا علاج کروادیا جائے ، کسی غریب بیوہ کو بچے بچیوں کی شادیوں چھت کے آسرے کیلئے دے دیئے جائیںیا کم ازکم دو چار سرکاری سکولوں میں جہاں غریبوں کے بچے زیر تعلیم ہیں فرینچر وغیرہ فراہم کردیا جائے لوگ آپ کو جاتے جاتے دعائیں دیں گے۔

Accused

Accused

باقی رہی ملزم کی بات تو آج کے جدید دور میں جبکہ ملزم کی ویڈیو ٹی وی چینلز کے ذریعہ بار بار نشر ہورہی ہے تو اس کی نشاندہی کرنے والے سینکڑوں ہزاروں مل جائیں گے بلکہ لوگ خود فون کر کے اداروں کو مطلع کرچکے ہوں گے کہ قاتل فلاں کا بیٹا، فلاں کا داماد ،فلاں کا دوست ،فلاں کا رشتے دار، فلاں کا ملازم وغیرہ وغیرہ ہے اور حصہ میں یہ 50 لاکھ کسی کے کام نہیں آئے گا ضرورت صرف جگرا بڑا کرنے کی ہے کہ جو ملزم کو گرفتار کرکے پولیس مقابلے جیسے اقدامات سے بچا کر زندہ دنیا کے سامنے پیش کرسکے اور اب حالیہ صورتحال ‘ جس میں ایک بار پھر مذاکرات کی باتیں کی جارہی ہیں اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو عمران خان صاحب کہہ کر پکارنے سے دنیا کو اپنی معصومیت اور سنجیدگی سے آگاہ کیا جارہا ہے دھاندلی کو بے قاعدگیوں کا نام دیا جانے لگا ہے کہ کل کلاں وہ متنازعہ تھیلے جو انکے دنیاوی اقتدار کی ضمانت بنے ہوئے ہیں کھلنے سے جو پول کھلے گا تو اسے کور کرنے کیلئے ان کو سسٹم کی خرابی کا نام دیکر ڈوبتی ہوئی کشتی کوسہارا دیا جاسکے۔یہ سب کچھ دیکر اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ یہ جمہوریت کی ہی مہربانیاں ہیں کہ اس ملک میں واضح طور پر آئین اور قوانین کی پامالیاں کی جارہی ہیں عام لوگوں کیلئے قانون کی شکل انتہائی خوفناک اور برسراقتدار اور جمہوری فرشتوں اور ان کے حواریوں کیلئے مہربان۔

کسی کو دھمکیاں دینے کے ایک عام سے مقدمہ میں یا 100 روپے کی مرغی چوری کے الزام میں کسی ایک شخص پر مقدمہ درج کردیا جائے توپورے کا پورا تھانہ ملزم کے گھر کے باہر اکٹھا ہوجاتا ہے اہلکاردیواریں پھلانگ کر گھروں میں داخل ہوتے،چادر چادیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے ملزمان کے گھر والوں کو انتہائی ہتک آمیز رویہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پولیس والوں کی اس طرح آمد اور سلوک سے کسی شریف خاندان کی عزت کا معمولی سے الزام میں جنازہ نکل جاتا ہے اورعمر بھر پولیس کا کسی کے گھر آنا ان کے نام پر دھبہ بن جاتا ہے۔ الزام درست ہونا نہ ہونا دور کی بات ہے تھانوں میں ملزمان کیساتھ پولیس کا حسن سلوک کچھ اس طرح ہوتا ہے ہتھکڑیوں میں جکڑے ملزم کو ماں بہن کی گندی گالی کیساتھ پکارا جاتا ہے، ملزموں کی شلوار یا نیفے میں اہلکاروں نے ہاتھ ڈال رکھا ہوتا ہے یا گریباں سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا جاتا مکے گھونسے مارے جاتے ہیں اور پھر تھانیدار صاحب تفتیش کے وقت ملزم کو پائوں میں بٹھا کر گندی گالیوں کیساتھ سلامی دیتے ہیں اور ہر بات پوچھنے سے قبل گندی گالی سے نوازتے ہیں پسند کا جواب نہ آنے پر پائوں میں بیٹھے ملزم کو آسانی سے ٹھڈا مار کر دور پھینک دیتے ہیں۔

کسی اﷲ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واسطے پر کان نہیں دھرا جاتا ہرکاروں کو طلب کیا جاتا ہے رولر پھیرے جاتے ہیں اور رسوں پر الٹا لٹکانے کے علاوہ غلیظ ترین انسانی سوز سلوک سے بھی گریز نہیں کیا جاتا کہیں شنوائی نہیں ہوتی جبکہ دوسری جانب کروڑوں،اربوں کی کرپشن میں ملوث، قومی فنڈز کا صفایا کردینے والے، اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے سرعام قتل کروانے والے اور درپردہ قتل کروانے والے بااثر ملزمان کہ جن کیخلاف مقدمات کے اندراج کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا کوئی معزز ادارہ نوٹس نہیں لیتا ۔ملزمان کو ادب کیساتھ پکارا جاتا ہے۔

مطلوب ملزمان کو سلام کیا جاتا ہے اور کبھی تفتیش کی ضرورت بھی پڑے تو ملزمان کی مرضی کیساتھ ان کی مرضی کے بیانات قلمبند ہوتے ہیں اور بلا گرفتاری شامل تفتیش کا قانون استعمال کرکے ملزمان کو ابتدائی تفتیش میں ہی بری الذمہ قراردیا جاتا ہے اور اس طرح یہ سسٹم ریاست میں بد نظمی، انتشار اور لاقانونیت کا موجب بنا ہوا ہے۔حکمرانوں کی منہ بولی جمہوریت نے حقیقت میں عام آدمی کو عدم تحفظ سے دوچار کردیا ہے اور یہ سسٹم اس وقت تک ٹھیک ہوتا نظر نہیں آرہا جب تک اس منہ بولی جمہوریت سے نجات حاصل نہیں ہوتی اداروں کو سیاست اور سیاسیوں کی اولادوں اور حواریوںسے پاک نہیں کیا جاتا۔ اﷲ تعالی ٰ پاکستان کا حامی وناصر ہو آمین، ثم آمین!۔

Aqeel Ahmed Lodhi

Aqeel Ahmed Lodhi

تحریر: عقیل احمد خان