ڈاکٹر ظفر مرزا کو تبدیل کرنا چاہیے!

Dr. Zafar Mirza

Dr. Zafar Mirza

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

پرانی ضرب المثل ہے کہ “Don’t change horses mid stream “معنی کہ ”ندی پار کررہے ہو تو وسط میں جاکر گھوڑوں کو نہ بدلو” ۔تاریخ میں ایسے اوقات آئے جب عین جنگ کے دوران فوج کی کمان بدلنے یا سپہ سالار کی سواری بدلنے سے جنگ ہار دی گئی۔ساموگڑھ کی لڑائی جو اورنگزیب اور دارشکوہ کے مابین ہوئی۔ پرنس دارشکوہ جس کی ذاتی کمان میں پچاس ہزار سوار حکم کے منتظر رہتے تھے اور شاہی فوج اس کے علاوہ تھی، دارا گھمسان کی جنگ کے وقت ہاتھی “ہودے”سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ یہی غلطی اس کی شکست کا باعث بنی۔1965ء کی جنگ میں پاک فوج جب چھمب جوڑیاں فتح کرتی ہوئی پیش قدمی کررہی تھی عین اس وقت فیلڈ مارشل ایوب خاں کے حکم پر جنرل اختر ملک کمانڈر 12 انفنٹری ڈویڑن کی جگہ جنرل یحییٰ خاں کو تعینات کردیا گیا۔ نتیجہ پاک فوج کی پیش قدمی رک گئی۔ فوجیوں کا مورال اثرانداز ہوا۔ بھارتی افواج جو اس محاذ سے دم دبا کر بھاگ رہی تھیں انہوں نے رک کر مورچے سنبھال لئے اور جوابی حملے شروع کردیئے۔ دفاعی تجزیہ نگار شجاع نواز اپنی کتاب swords Crossed میں لکھتا ہے ”پاک فوج جنرل اختر ملک کی کمان میں یکم ستمبر صبح 5 بجے حملہ آور ہوئی جبکہ پاک توپخانہ نے صبح 3.30 بجے دشمن پر بمباری شروع کردی۔ پاک فوج جس میں آرمرڈ اور انفنٹری کے دستے بھی تھے شیروں کی طرح دشمن پر لپکے اور بھارتی فوج جو اپنے ٹینکوں اور مشین گنوں کے ساتھ مورچہ بند تھی دشمن کی صفوں کو روندتی ہوئی جارہی تھی۔ دوسری صبح 9 بجے پاک فوج نے چھمب پر قبضہ کرلیا۔ بھارتی ایئرفورس نے غلطی سے اپنے ہی فوجیوں پر بمباری کردی اور پاک فضائیہ نے پاک فوج کو فل ایئرسپورٹ دی۔”

”اس موقع پر کشمیر محاذ پر کمان تبدیل کردی گئی۔ جنرل اختر ملک کی جگہ جنرل یحییٰ خاں کو بھیج دیا گیا۔ پاک فوج کی پیش قدمی رک گئی۔ بریگیڈیئر افتخار نے (جو 71ئ کی جنگ میں شہید ہوئے ) جنرل یحییٰ خاں کو پیغام بھیجا کہ ”ہمیں پیش قدمی کا حکم دیا جائے۔” یحییٰ خاں نے جواب دیا ”افتی جہاں ہو رک جائو اور مورچوں کی کھدائی کرائو” شجاع نواز لکھتے ہیں ”پاک حملہ رک جانے سے بھارتی افواج Regroup ہوگئیں۔ چھمب اور جوڑیاں کے اردگرد انہوں نے اپنے مورچے سنبھال لئے۔ پاک فوج کے حملے کا Momentum ٹوٹ گیا۔”مصنف لکھتا ہے ”اکھنور پل کا بچ جانا بھارتی جرنیلوں کا کارنامہ نہ تھا بلکہ پاک ہائی کمان کی فاش غلطی تھی کہ جو فوج منور توی کو پار کرگئی اس کے جنرل کو بدل دیا گیا یعنی 12 ڈویڑن کے کمانڈر اختر ملک کو جو کئی بار علاقہ کی ریکی کرچکا تھا اس کی جگہ یحییٰ خاں کو بھیج دیا۔”

پوری دُنیاآفت ناگہانی کروناء وائرس کی تباہ کاریوں کی وجہ اس وقت حالت جنگ میں ہے ۔ہزاروںافراد روزانہ پوری دنیا میں لقمہ اجل بن رہے ہیں،امریکہ ،اٹلی اور سپین میںلاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں اور دفنانے کے لیے لوگ میسر نہیں ہیں۔پوری دُنیا کے سائنس دان اس کروناء وائرس کے لیے ویکسین اور ادویات بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔تمام دُنیا کی عسکری و سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر اکھٹی ہوکر اپنے مشترکہ دُشمن کو شکست فاش دینے کے لیے مصروف عمل ہیں۔نہ کوئی حفاظتی لباس کی بات کر رہا ہے اور نہ ہی وینٹیلیٹرز کی کمی کا رونا رو رہا ہے بلکہ جو دستیاب وسائل ہیں انہی سے کام چلایا جا رہا ہے۔تادم تحریر دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 19 لاکھ 50 ہزار اور ہلاکتیں ایک لاکھ 17ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ امریکی ریاست نیویارک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ پچھلے 40 سالوں کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔دنیا بھر میں لاک ڈاؤن نے مختلف کاروباروں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق صرف امریکہ میں یومیہ ایک کروڑ 40 لاکھ لیٹر دودھ ضائع ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک میں کورونا کی وبا کی روک تھام کے سلسلے میں حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیرِ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی قابلیت اور کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔عدالت نے یہ آبزرویشن پیر کو سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے پیش نظر ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے موقع پر دی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے ظفر مرزا کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بارے میں آبزرویشن بھی دی لیکن بعدازاں لکھوائے جانے والے حکم میں اس بات کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔عدالتی ریمارکس کے بعد اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس موقع پر ظفر مرزا کو ان کے عہدے سے ہٹانا تباہ کن ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے اور وفاقی حکومت کو ہی اس کا فیصلہ کرنے دیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ہیں اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دیتے ہیں۔نیشنل ہیلتھ سروسز کی ویب سائٹ کے مطابق اس سے قبل وہ قاہرہ میں عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی دفتر کے ڈائریکٹر ہیلتھ سسٹمز ڈیویلپمنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی و مغربی افریقہ میں 22 ممالک کے لیے کام کرتے تھے۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ انھیں صحت کے شعبے میں کئی برسوں کا تجربہ ہے اور وہ ایران میں بھی عالمی ادارہ صحت کے نمائندے کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

ملک میں کروناء وائرس کی روک تھام اور تدارک کے لیے وفاقی حکومت ، خصوصا وزارت صحت نے ڈاکٹر ظفر مرزا کی سربراہی میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر ملک بھر کے ہسپتالوں ، لیبارٹریوں، اور طبعی آلات کی دستیابی کے حوالے سے دن رات محنت شاقہ کی بدولت جو خدمات سرانجام دی ہیں انہیں سراہا جانا ضروری ہے۔ کروناء وائرس جس طرح پوری دنیا میں پھیلا،ویسے حالات پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ حکومت نے لاک ڈائون سے اسی فیصد نتائج حاصل کیے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب ملک حالت جنگ میں ہے ایک محکمہ صحت کے سربراہ کو تبدیل کرنا یقینا قابل ستائش کام نہیں ہے۔

اس فعل سے انتظامی معاملات، صحت کے شعبے میں لائی جانے والی اصلاحات اور اپ گریڈیشن پر فرق آ سکتا ہے۔اگر ہم اپنے ملک میں کرونا کے پھیلائو کا دنیا کے ساتھ تقابل کریں تو نہ صرف ہمارے ہاں مریضوں کی تعداد کم ہے بلکہ شرح اموات کا تناسب بھی حیرت انگیز ہے۔ ہماری سیاسی قیادت اور اداروں کو یک جان ہو کر ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر مشترکہ دشمن سے لڑنا ہو گا۔ آپسی لڑائی ہمیشہ دشمن کوہی فائدہ دیتی ہے۔جس کاکام اُسی کوساجے کے مصداق حکومت کا کام حکومت کو ہی کرنے دیا جائے تو بہتر ہے۔ البتہ عدالت عظمی کووقتا فوقتانہ صرف عدالتی معاونین ڈاکٹروںکے پینل کے ذریعے سے صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے بلکہ راہنمائی کا فریضہ بھی انجام دینا چاہیے۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اس معاملے پر عدالت سے نظرثانی کا مطالبہ کرے کیونکہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا کام حکومت کا ہے عدالت کا نہیں۔اگر ظفر مرزا پر کوئی الزامات ہیں تو وہ اس وباء کے تدارک کے بعد بھی سننے جا سکتے ہیں۔

لاء اینڈجسٹس کمیشن کی مارچ 2018 کی دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان عدالتوں میں 18لاکھ 69ہزار 886کیسز زیر التوا ہیں۔سپریم کورٹ میں 38ہزار5سو 39کیسز زیر التوا ہیں۔جبکہ تمام ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز کی تعداد 2لاکھ 93ہزار 9سو 47 ہے۔لاہورر ہائی کورٹ میں ایک لاکھ37ہزار 5سو 42،سندھ ہائی کورٹ میں 93ہزار3سو35،پشاور ہائیکورٹ میں 30ہزار 7سو 64،بلوچستان ہائی کوررٹ6ہزار 30جبکہ اسلام ہائی کورٹ میں 16ہزار 2سو78کیسز فیصلوں کے منتظر ہیں۔یقینا چیف جسٹس ان مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے لیے بھی نہ صرف از خود نوٹس لیں گے بلکہ ان کے جلد فیصلوں کے لیے ضروری احکامات بھی جاری کرینگے۔

Shahzad Hussain Bhatti

Shahzad Hussain Bhatti

تحریر : شہزاد حسین بھٹی