ڈھول کا پول

Sikandar Hayat

Sikandar Hayat

ابھی ہم جشن آزادی کی خوشیاں منانے میں مصروف تھے کہ 15 اگست جمعرات کی شام کو صرف 2 بندقوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیکیورٹی کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی اور صرف ایک مسلح شخص نے ڈھول کا پول کھول دیا ہوا کچھ یوں کہ حافظ آباد کے رہائشی سکندر حیات نامی شخص نے اسلحہ کے زور پر اور شریعت کے نفاذ کا مطالبہ لے کر اسلام آباد کے تجارتی مرکز بلیو ایریا کے قریب ڈیرہ لگایا تو علاقے میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی شریعت کے نفاذ کے مطالبے میں سکندر حیات اکیلا نہیں تھا بلکہ اْس کی بیوی کنول بھی اْس کے ساتھ تھی پانچ سے زائد گھنٹے تک ملزم سکندر اْس کی بیوی اور پولیس حکام کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے جس کے دوران متعدد بار ایسے مواقع بھی آئے جب ملزم اپنی بیوی بچوں سے کافی فاصلے پر پایا گیا لیکن پولیس نے اسے پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سکندر اور اس کے بیوی بچے مسلسل کئی گھنٹوں تک کار میں بیٹھے ر ہنے کے بعد چہل قدمی کی غرض سے کافی دیر تک ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔

اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی زمرد خان نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکندر کے قریب جانے کی کوشش کی زمرد خان نے سکندر کو یقین دلایا تھا کہ وہ غیر مسلح ہیں اور اس کے بچوں سے ہاتھ ملا کر واپس چلے جائیں گے۔ لیکن، زمرد خان نے بچوں سے ہاتھ ملانے کے فوری بعد آگے بڑھ کر سکندر کو دبوچنے کی کوشش کی۔ غیر متوقع حملے پر سکندر لڑکھڑا گیا پولیس نے موقع غنیمت جان کر اس کے پیروں پر فائرنگ کردی۔ سکندر کے دو گولیاں لگیں۔ بعدازاں، پولیس نے اسے پوری طرح اپنے قابو میں کرلیا۔ سکندر کو 1990ء میں دبئی سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ لیکن، نو ماہ پہلے وہ دوسرے پاسپورٹ پر دوبارہ دبئی چلا گیا تھا۔ اس نے 45 سال کی ایک عرب خاتون سے شادی کی تھی۔ کنول اس کی دوسری بیوی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے ایم فل کیا ہے۔

Police

Police

سکندر دبئی کے علاقے الخوانیج میں مقیم تھا، جبکہ گزشتہ سال اس نے دبئی ہی کے ایک اور علاقے قصیص میں بھی رہائش اختیار کی تھی۔ وہ دبئی میں مچھلی بھی بیچتا رہا ہے۔ سکندر نے واردات سے قبل اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے شناختی کارڈ کی کاپی کے عوض گاڑی کرائے پر لی تھی۔ سکندر نے پانچ گھنٹوں تک اسلحہ کے زور پر علاقے کو یرغمال بنائے رکھا وہ ہتھیار پھینکنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس نے کئی مطالبات لکھ کر پولیس کو دیئے تھے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مسلح شخص وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہو کر پوری انتظامی مشینری کو مفلوج کر سکتا ہے تو اگر کبھی کالعدم تنظیموں کے مسلح گروہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا تو کیا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اْنہیں قابو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا پھر انہیں کسی نہتے جانباز کا انتظار ہوگا اگست کے شروع میں پاکستان کے خفیہ اداروں نے خبردار کیا تھا کہ شدت پسندوں نے پاکستانی بحریہ، ائر فورس کے ہیڈ کوراٹرز اور پارلیمنٹ ہاؤس پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

اس کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے فوجی خفیہ ادارے نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر جس کا نام ولید بن طالب بتایا جاتا ہے کی ایک گفتگو ریکارڈ کی ہے جس میں وہ دوسرے کمانڈر سے کہہ رہے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل جیل کے واقعہ کے بعد اْن کے مقاصد کچھ حد تک حاصل تو ہوئے ہیں لیکن بڑے مقاصد کے حصول کے لیے وہاں کارروائی ضروری ہے جہاں پر بڑے بیٹھتے ہیں اس ٹیلیفونک گفتگو میں اسلام آباد میں بڑے گھروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہاں کے مکینوں کو سبق سکھانا ضروری ہے بتانے والے بتاتے ہیں کہ بڑے گھروں سے مراد پارلیمنٹ ہاؤس، پاکستان نیوی اور پاکستان ائرفورس کے ہیڈ کوارٹرز ہیں ان بڑے گھروں کے مکینوں کے خلاف بھی اْسی طرح کارروائی کے بارے میں کہا گیا تھا۔

جس طرح کی کارروائی چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کی سینٹرل جیل میں کی گئی تھی جس میں دو سو سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر شدت پسندوں کے حملوں سے متعلق خفیہ اداروں نے جو رپورٹ بھیجی تھی شدت پسندوں نے ویسی ہی کارروائی کی۔ اْس رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ شدت پسندوں کے حملوں سے پہلے جیل کے اندر ہنگامہ کیا جائے گا۔ جس پر جیل اور پولیس کے حکام اس معاملے کو نمٹانے میں لگے ہوں گے اور جیل کے باہر سکیورٹی تسلی بخش نہیں ہو گی جس کا شدت پسند فائدہ اْٹھاتے ہوئے جیل پر حملہ کر دیں گے صرف ایک شخص نے ہمارے حکمرانوں کے طرز عمل پر سینکڑوں سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں کہ کیا ہم ملک وقوم کے ساتھ مخلص ہیں۔

Rohail Akber

Rohail Akber

تحریر : روہیل اکبر
03466444144