جب اعتماد کا خون ہوا

Faith

Faith

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال
آخر وہی ہوا جس کا سنتے آئے تھے کہ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں یا گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ ہمارے ساتھ بھی وہی ہوا جو کئی بار پہلے بھی ہوا۔ یعنی اپنوں پر سے ایک اعتبار کا رشتہ جو قائم ہوا تھا برسوں سے وہ اٹھ گیا ہے۔ ہوا یہ ہے کہ دیکھا جائے تو دوسروں کی نظر میں ایک عام سی معمولی سی بات ہے کہ ہماری گاڑی (شہہ زور ڈالا) رات کو چوری ہوگئی اب جس جگہ سے وہ چوری ہوا ہے وہاں سے چوری ہو جانا اور پورے محلے کو کانوں کان خبر نہ ہونا ایک معنی رکھتا ہے۔اس کے چوری ہو جانے میں کسی اپنے کا ہاتھ ہے اس کے بناں ممکن نہیں ہے ایک تو دکھ یہ ہے اور یہ بہت بڑا دکھ ہے اپنوں میں رشتہ دار تو شامل ہیں ہی اس میں وہ بھی شامل ہیں جن سے خون کا رشتہ تو نہیں ہے مگر جذبات کا خیالات و احساسات محبتوں کا رشتہ ہے اور سب سے بڑھ کر اعتبار کا رشتہ ہے بقول شاعر ملے خلوص تو غیروں میں بھی جا بیٹھوں نہ ہو خلوص تو اپنوں میں جی نہیں لگتا ویسے بھی رشتے تو جذبات و احساسات کے ہوتے ہیں۔

اب انسان کس پر اعتماد کرے اور کس پر نہ کرے اس کے لیے مدتیں لگ جاتی ہیں لیکن جب یہ اعتماد کا رشتہ ٹوٹتا ہے تو ایک لمحہ بھی نہیں لگتا۔ہوا یہ کہ بھائی اسلم صبح سویرے نماز پڑھنے کے لیے جب گھر سے باہر نکلے، دیکھا تو سامنے سے گاڑی (شہہ زور ڈالا) غائب تھی ۔وہ پانچ سال سے اسی جگہ کھڑی ہوا کرتی تھی دن کے وقت اسے کھبی کھبار ہم کمپنی جی ایف سی کا سامان لانے اور لے جانے کے لیے استعمال کرتے اور پھر اسی جگہ ہی کھڑی کر دی جاتی۔اسے اس جگہ دیکھنے کی عادت سی ہو گئی تھی وہ تو اس جگہ کا ایک حصہ بن گئی تھی ہمارے گھر کے سامنے دو گھروں کے درمیان خالی جگہ پر اسے کھڑا کیا جاتاتھا اس جگہ وہ بارش، آندھی، طوفان اور دھوپ ہو یا چھاوئں اسی جگہ اسے ہم سب دیکھنے کے عادی تھے آج جب نظر نہ آئی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

شام تک معمول کی بھاگ دوڑ کی گئی ایف آئی آر درج ہوئی، قریبی اضلاع میں پیغام دیا گیا، دوستوں کو فون و میسج کئے گئے کہ ان کے علاقے میں جو مشکوک افراد ہوں ان کے ہاں سے پتہ کریں ،اخبارات میں خبر بھیجی گئی ،فیس بک پر پوسٹ لگائی، محلے میں پوچھا گیا کہ رات کو کسی نے گاڑی کو دیکھا ہو جاتے ہوئے۔یہ سب تو ہوا اصل بات یہ ہے کہ کسی اپنے کی مدد کے بغیر ،کسی اپنے کی شمولیت کے بغیر ،کسی بھیدی کی، دوست کی رشتہ دار کی پڑوسی کی ان میں سے جو بھی ہو وہ اپنا ضرور ہوتا ہے۔وہ اپنا جس پر ہم کو اعتبار ہے جو ہمارا راز داں ہیں اس کی شمولیت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ اس طرح اس مخصوص جگہ سے رات کے وقت کوئی غیرجس کا اس گلی میں آنا جانا نہ ہو جو اجنبی ہو،انجان گاڑی لے جائے اورکسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کیسے ممکن ہے۔آدھی رات کو میں لیٹا ہوا تھا کہ آنکھ کھل گئی میں اکیلا لیٹا اس بارے میں جیسے،جتنا سوچا ایسے لگا کہ جیسے کسی نے دل کو مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو کوئی اپنا، کون اپنا، ایسا ہے جس نے دھوکہ دیا ہے اس نے بہت نقصان کیا اپنے جیسے سینکڑوں دوست احباب اپنوں پر سے اعتماد کا، محبت کا جو رشتہ بنایا تھا اس پر اب اعتبار نہ رہا۔

Life

Life

برسوں کی محنت سے بنائی دوستی، تعلق ایک پل میں توڑ دیا اس نے بہت سے ایسے افراد جن سے میرا تعلق ہے اعتماد ہے بھروسہ ہے ان پر سے بھی میرا اعتماد اٹھ گیا اس نے بہت ظلم کیا۔ گاڑی کی چوری سے زیادہ دکھ بلکہ اصل دکھ ہی یہ تھا کہ کس نے ہمارے اعتماد کا خون کیا ؟۔جس نے کیا اس نے ایسا کیوں کیا ؟اس کو تو ہم نے اپنا سمجھا تھا۔مجھے ایک ایک کر کے سب یاد آنے لگے جن پر اب تک بھروسہ کیا تھا اور انہوں نے اعتماد کا خون کیا تھا۔تو کیااب کسی پر اعتبارنہ کیا جائے؟ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم زندگی میں کئی بار دھوکا کھا چکے ہوتے ہیںتو پھر کسی پر اعتبار نہیں کرتے اب وہ جو سچ مچ قابل بھروسہ ہوتا ہے ،جس پر اعتبار کرنا چاہیے وہ جب زندگی میں آتا ہے تو ہم اس پر اعتبار نہیں کرتے ہم تو پہلے ڈسے ہوئے ہوتے ہیں۔اس طرح ہم ایک بہت اچھے ،مخلص ،وفادار دوست ،رشتہ دار سے محروم ہو جاتے ہیںجو حقیت میں قابل بھروسہ ہوتا ہے ۔وہ سوچتا ہے کہ میری اتنی وفا کے باوجود مجھ پر اعتبار نہیں اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے ۔یہ ایک زنجیر بن جاتی ہے بے اعتمادی کی ،نااعتباری کی ،بے قدری کی جو معاشرے میں پھیلتی جاتی ہے اس کی بنیاد خود غرضی ہوتی ہے،لالچ ہے ۔بات یہ بھی ہے کہ ایک انسان کب تک ،کتنے افراد سے دھوکہ کھا کر اعتماد کرناچھوڑ دیتا ہے یا چھوڑنا چاہیے۔ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کو کوئی وفادار شریک کار مل جاتا ہے جو شریک زندگی ہو، شریک غم ہو، وفادار ہو، اور اسے دھوکا نہ ملے ایسا کم ہوتا ہے بہت کم ہوتا ہے مگر ایسا ہوتا ہے اس لیے ایک وفادار کی تلاش میں انسان بہت سے افراد کی بے وفائی سہتا ہے۔اور پھر جب برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے تو وہ بھی اسی رنگ میں رنگا جاتا ہے اس طرح معاشرے میں بے اعتمادی پھیلتی جاتی ہے ۔خود غرضی پروان چڑھتی ہے ۔ایک سے دوسرا دیا جلتا ہے جیسے ایسے ہی معاشرے میں خود غرضی پھیلتی جاتی ہے۔

احباب ایسی بھی کیا ہے بے اعتمادی ڈبو دے گی ہمیں موج نفس کیا گاڑی کو چوری ہوئے آج کافی دن ہو گئے ابھی تک اس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو سکا سب دوست، رشتہ دار ملنے آئے، افسوس کیا، اس کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی باتیں کیں مثلا،ایسا کون کر سکتا ہے؟ آپ کو کس پر شک ہے ؟کوئی اپنا ہی ہوگا ؟کسی بھیدی کے سوا کیسے ممکن ہے ؟اس مخصوص جگہ سے گاڑی کی چوری بناکسی اپنے کے کیسے ممکن ہے؟ ان کی باتیں سنیں ،سوچا ،سب سچ کہتے ہیں یہ سب میرے اپنے ہی توہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی اپنا ہی ہے میرے اعتماد کا خون کرنے والا بھروسہ توڑنے والا مگر کون ہے؟اپنوں میں اپنا جو اپنا نہیں ہے۔

Sardar Akhtar Chaudhry

Sardar Akhtar Chaudhry

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال