موٹاپا دنیا کے لئے سگریٹ نوشی سے بڑا خطرہ

Fatness

Fatness

نیویارک (جیوڈیسک) صحت عامہ کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں موٹاپا لوگوں کی صحت کے لئے سگریٹ سے بھی بڑا خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ عالمی فوڈ انڈسٹری کو بھی تمباکو کی صنعت کی طرح کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ کنزیومرز انٹرنیشنل اور ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن نے اپنی رپورٹ میں موٹاپا بڑھانے والی غذائوں پر پابندی لگانے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ موٹاپے سے جسم کو ہونے والے نقصان کے بارے میں ویسے ہی اشتہار شائع ہونے چاہییں جیسے سگریٹ کے پیکٹ پر ہوتے ہیں۔ فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن نے کہا ہے کہ فوڈ انڈسٹری پہلے سے ہی ایسے اقدامات کی حمایت کر چکی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتوں کو اشیائے خورونوش پر لازمی اصول لاگو کرنے چاہییں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2005 میں موٹاپے اور وزن کی زیادتی کی وجہ سے 26 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ پانچ سالوں میں یعنی 2010 تک یہ تعداد بڑھ کر 34 لاکھ ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئے قوانین میں کھانے کی چیزوں میں نمک، چربی اور چینی کی سطح میں کمی لانے، ہسپتالوں اور سکولوں میں فراہم کئے جانے والے کھانے کے معیار کو بہتر بنانے، اشتہارات پر سخت کنٹرول اور لوگوں کو اس بارے میں آگہی دینے جیسے اقدامات شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ مصنوعی ’ٹرانس فیٹ‘ کو آئندہ پانچ سال کے اندر اندر تمام کھانوں اور مشروبات سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر بچوں کے لئے بنائے گئے پروگراموں کے دوران ’جنک فوڈ‘ کے اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیے۔