فٹ بال عالمی کپ:جوش و خروش بھی ،احتجاج بھی

Protests

Protests

ساو پاولو (جیوڈیسک) کھیل کی دنیا کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ اب جب کہ ایک روز بعد برازیل میں شروع ہو رہا ہے،اسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آٹھ لاکھ سے زائد شائقین برازیل آئیں گے۔

32 ممالک کی ٹیمیں ہیں اور ایک ماہ تک جاری رہنے والے ایونٹ میں برازیل کے 12 شہروں میں 64 میچز کھیلے جائیں گے۔ٹیموں کو آٹھ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ میزبان ملک برازیل اور کروشیا کے درمیان ساو پاولو میں کھیلا جائے گا۔ اسی شہر میں حکومت کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ساو پاولو سب وے ورکرز نے اپنی ہڑتال ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کی انڈر گراونڈ ٹرین سروس کے ملازمین نے تاہم خبر دار بھی کیا ہے کہ اپنی ہڑتال بحال بھی کر سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ فٹ بال سٹیڈیم جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا اہم ذریعہ سب وے ہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک ارب سے زائد افراد اس ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کو ٹیلی وژن سکرینوں پر دیکھیں گے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور بارہ ممالک کے سربراہان بھی اس موقع پر سٹیڈیم میں موجود ہوں گے۔

مزدور یونین ملازمین کی تنخواہوں میں 12.2 فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں کوئی بھی ورلڈ کپ کے دوران کوئی خلل پیدا نہیں کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں ٹورنامنٹ پر تو بڑی رقم خرچ کی گئی ہے لیکن مزدوروں کو کچھ نہیں ملا۔