قیام عدل کے لیے احتجاج و مظاہرے

law

law

مہذب معاشرے کا ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنا ہمیشہ سے ایک پسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آفاقی قوانین اور رائج الوقت قوانین میں یہ پر امن مظاہرے بنیادی حقوق میں شامل ہیں جس کو کسی صورت چیلینج نہیں کیا جا سکتا۔احتجاج دراصل بالا دست یا کسی خاص گروہ یا فرد کی کسی ناپسندیدہ بات یا عمل کے خلاف تقریراً ،تحریراً رائج الوقت طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار ہے جو درحقیقت زماں و مکاں کی قیود سے مبرا ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں ہوتے رہے ہیں تاکہ ظلم و زیادتی اورجبر و استحصال کا خاتمہ ہو اور عوام الناس امن و سکون کے ساتھ اپنے شب و روز کے معاملات مکمل کر سکیں۔اس کے برخلاف جن لوگوں نے بھی پر امن احتجاج و مظاہروں کو روکنے اورختم کرنے کے لیے قولی یا عملی مثالیں قائم کیں وہ تاریخ میں جابر اور متشدد کہلائے۔

پھر اس عمل سے نہ صرف انھوں نے اپنے ظلم کی داستانیں لکھیں بلکہ معاشرے کو بھی طوائف الملوکی کے حوالے کردیا۔نتیجہ میں ظلم بڑھتا گیا اور انسانوں کی بیش قیمت جانوں کی قدر باقی نہ رہی اورظالم امن پسندتو مظلوم مورد الزام ٹھہرائے جانے لگے۔معاملہ آگے بڑھا تو ظلم و زیادتی کی تعریف ہی تبدیل کردی گئی۔نہ صرف تبدیل کردی گئی بلکہ اب اپنی پسند اور نا پسند نیز اپنے فائدے اور نقصان کو پیش نظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جانے لگے۔آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں جہاں بہت ہی شد و مد کے ساتھ ظلم کو زبان و قلم سے تو ظلم کہنے کی کچھ جرات بظاہر کی جاتی ہے لیکن عمل کے میدان اُس سے یکسر مختلف ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج نہ ظالم لوگوں کی گرفت کی جاتی ہے، نہ ان پر روک لگائی جاتی ہے، نہ ان کے خلاف کوئی اقدا م کیا جاتا ہے، نہ ان کی جڑ کمزور کی جاتی ہے اور نہ ہی ان سے لا تعلق ہوا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف وہ سب تعلقات اور معاملات جاری رہتے ہیں جو قبل از مسلۂ تھے۔

اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ایک واقعہ یاد دلاتا ہے ،فرمایا:”یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا ، نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔ پھر ذرا یا د کرو، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیاتھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانہ اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا ، تم خود اس پر گواہ ہو۔ مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پِٹے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کالیں دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا، تو کیا تم کتاب کیایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اوردوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خرید لی ہے،لہٰذا نہ اِن کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کو ئی مدد پہنچ سکے گی”(البقرہ:٨٦-٨٤)۔اس پورے واقعہ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ جو چکھ تم کررہے ہو اللہ اس سے باخوبی واقف ہے۔لہذا اگر تم آخرت پر ذرا بھی یقین رکھتے ہو تو اپنے شب و روز کے معاملات میں تبدیلی لے آئو۔ورنہ وہ وقت دورنہیں جبکہ تمہارے اعمال کا حساب کر دیا جائے گا۔

مظاہرے اور احتجاج کا عقلی جواز: قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”جس نے کسی انسان کوخون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی”(المائدہ:٣٢)۔مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نوعِ انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتابلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے اور ہمدردی ِ نوع کے جذبہ سے خالی ہے ، لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افرادِ انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے۔یہ وہ عقلی جواز ہے جو ہر مرحلہ میں قیام عدل و انصاف کے لیے جمع ہونے والوں کو حوصلہ فراہم کرتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دو نہیںبلکہ متعدد مقامات پر قرآن حکیم میں قیام عدل و انصاف کی بات کہی ہے اور لوگو ں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ظم و زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ وہ بھی آنے والی تباہی اور اللہ کے غضب میں مبتلا ہوجائیں۔فرمایا:”جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں جو خلق خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں ، ان کو درد ناک سزا کی خوشخبری سنا دو”(آل عمران:٢١)۔یہ طنزیہ اندازِ بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت خوب کام کر رہے ہیں ، انہیں بتا دو کہ تمہارے ان اعمال کا انجام یہ ہے۔مزید فرمایا:”رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے”(النسائ:٩٣)۔یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بھی جلد یا دیر ذیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں تو ان کے لیے عذاب عظیم تیار ہی ہے۔

Allah

Allah

حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ (یعنی عملی جدوجہد) سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اپنی زبان سے (تنقید و مذمت کے ذریعے) روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو) اپنے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کم زور ترین درجہ ہے”۔قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کا نا پسند کرتا ہے اور ان لوگوں کی مدد فرماتا ہے جو ظلم و زیادتی کے خلاف سعی و جہد کرنے والے ہیں۔چونکہ ظلم و زیادتی کو دیکھنا اور اس پر خاموش تماشائی بنے رہنا اپنے آپ میں ظلم ہے۔لہذا یہ وہ جواز ہے جو کسی بھی طرح کے ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو تقویت فراہم کرتا ہے۔اس کے برخلاف ایمان کا باقی رہنا ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات،احساسات،جذبات،خیالات اور فکر و نظر کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہم موجود ظلم و زیادتی اور جبر و استحصال کے خلاف کیا کچھ کر رہے ہیں۔

تعصب سے پاک سعی و جہدکا آغاز : قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”(آل عمران:١١٠)۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ گروہ کہاں پایا جاتا ہے؟کیا کسی خاص علاقہ یا مقام پر یا ہر وہ شخص اس گروہ کا حصہ ہے جو نیکوں کے فروغ اور برائیوں کے ازالہ کے لیے کوشاں ہے؟ سوال کے جواب میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ گروہ آفاقی ہے اور ہر وہ شخص اس کا حصہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے۔لہذا یہ بات ذہنی عیاشی اور غیر منطقی موشگافیوں کے ماسوا اور کچھ نہیں کہ واضح طور پر اسلامی خطوط پر گامزن افراد اور جماعتوں کو تقسیم کیا جائے، ان کے کاموں میں تعاون نہ کیا جائے، ان سے دوری اور علیحدگی اختیار کی جائے اور ملت جو پہلے ہی مختلف فرقوں میں تقسیم ہے اس کو مزید تقسیم کرنے کے ہم درپے ہوں۔مسلمان تو وہ ہے جو ہر اس آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہے جو ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی ہو، مظلوموں کو ان کا حق دلانے والی ہو،استحصال جو چار سو بڑھتا ہی جا رہا ہے اس کے خاتمہ میں ہمہ تن مصروف عمل ہو۔اس کی واضح مثال وہ بڑا معاہدہ ہے جس میں طے ہوا کہ “ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے پائے گا”اور اس معاہدے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک تھے، یہ معاہدہ سیرت میں حلف الفضول کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ پاک و صاف شبیہ رکھنے والے ہر فرد اور گروہ کا ساتھ دیں جو قیام عدل کے لیے مصروف ہے۔ لیکن اگر ہم فرقوں اور گرہوں میں تقسیم ہوئے،ظالم کے ہاتھ کو پکڑنے کی کوشش نہ کی،اتحاد و اتفاق کو برقرار نہ رکھا اور امن و امان اور قیام عدل کے لیے کوشاں افراد،گروہ اور جماعتوں کا نہ خود ساتھ دیا بلکہ روکا بھی تو خدا کی قسم ایسے لوگ انتشار پھیلانے والوں میں شمار کیے جائیں گے۔ضرورت ہے کہ ہر طرح کے تعصب سے پاک ہوکر قیام عدل کی کوششوں میں ہم بھی سرگرم عمل ہو جائیں ۔تب ہی ممکن ہے کہ ہم ان متعصب لوگوں میں شمار نہ کیے جائیں جو انسانوں کی نظر وں میں حقیر اور اللہ کی نظر میں ذلیل و خوار ہونے والے ہیں۔

Mohammad Asif Iqbal

Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال، نئی دہلی
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com