فرانس میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری

Protest

Protest

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) فرانس میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری، مظاہرین کی جانب سے صدر ایمانوئل میکرون سے استعفیٰ تک مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے،پیر کی صبح ہزاروں افراد روڈ بلاک ہونے کے باعث تاخیر سے دفاتر اور تعلیمی اداروں میں پہنچے۔

فرانس ناٹ میں یلو جیکٹس والوں کا زور، ساوتھ میں بغدو میں بھی اکثر جگہ روڈ بلاک، گھنٹوں ٹریفک رکی رہی، فیول ٹیکس میں مسلسل اضافے اور ہوش رُبا مہنگائی پر ناراض لاکھوں فرانسیسی اتوار اور پیر کی درمیانی شب اور پیر کی صبح بھی سڑکوں پر موجود رہے، یلو جیکٹس پہنے احتجاج کرتے مظاہرین نے صدر میکرون کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور صدر سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا مظاہرین نے شاہراؤں، سڑکوں اور راستوں کو بلاک کر دیا اور رات بھی احتجاج کرتے گزاری، کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

مظاہروں کے دوران پولیس کی جھڑپوں میں ایک خاتون ہلاک اور تقریباً بارہ سو افراد زخمی ہوئے،تین سو پچاس سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے بعض اپوزیشن رہنمائوں کی طرف سے اظہار یکجہتی اور مظاہرین کے اجتماعات میں شرکت کی گئی۔