fbpx

فرانس نے ترکی کے ‘سرمئی بھیڑیے’ گروپ پر پابندی عائد کر دی

France Turkey Ban

France Turkey Ban

فرانس (اصل میڈیا ڈیسک) فرانس نے ترکی کے صدر طیب ارودوان سے قریب سمجھے جانے والے دائیں بازو کے سختگیر گروپ پر پابندی لگا دی ہے۔ جواب میں ترکی نے فرانس پر منافقت اور دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

فرانس کی حکومت نے ترکی میں سرگرم سخت گیر موقف کے حامی دائیں بازو کے گروپ ‘گرے اولوز’ (سرمئی بھیڑیے) پر بدھ چار نومبر کو پابندی لگانے کا اعلان کیا۔ دائیں بازو کے اس قوم پرست گروپ پر فرانس میں پر تشدد کارروائیاں کرنے اور نفرت پر مبنی اشتعال انگیز بیانات دینے کا الزام ہے۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان کے مطابق اس پابندی کو ہفتہ وار کابینہ کی میٹنگ میں منظوری دی گئی۔

یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی امور پر شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ حکومتی ترجمان نے گزشتہ ہفتے فرانس کے شہر لیون میں ایک آرمینیائی میموریل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے گروپ پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ پر ”انتہائی پُرتشدد اقدامات”، ”انتہائی پُرتشدد دھمکی آمیز بیانات” دینے اور سرکاری حکام اور آرمینیائی باشندوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے ”اشتعال انگیزی” جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شہر لیون میں آرمینیائیوں کی نسل کشی سے متعلق ایک خاص یادگار ہے جس پر ”گرے وولف” اور صدر طیب اردوان کے نام سے منسوب حروف ‘آر ٹی ای’ کے ساتھ ساتھ ترکی کی حمایت بھی کئی نعرے لکھ دیے گئے تھے۔ آرمینیا ایک مدت سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ سن 1915 میں خلافت عثمانیہ کے دور میں بڑی تعداد میں جن آرمینیائی باشندوں کا قتل کیا گیا تھا، اسے نسل کشی قرار دیا جائے۔ فرانس آرمینیا کے اس مطالبے کی حمایت کرتا

ترکی میں ‘گرے اولوز” (سرمئی بھیڑیے) نامی گروپ کو صدر طیب اردوان کا حامی مانا جاتا ہے۔ اسے پارلیمان میں اردوان کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی اہم اتحادی ‘نیشنلسٹ مومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کا عسکری ونگ بتایا جاتا ہے۔ تاہم ترکی اس طرح کے کسی بھی گروپ کے وجود سے انکار کرتا ہے۔

سن 1960 اور 70 کے عشرے میں ترکی میں دائیں بازو کے خیالات کی ایک نئی تحریک سامنے آئی تھی جس کا نام ‘گرے وولف’ یعنی سرمئی بھیڑیا دیا گیا تھا۔ یہ گروپ اسّی کے عشرے میں بایاں محاذ اور بعض اقلیتی نسلوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں بھی ملوث رہا تھا۔

اس گروپ پر پابندی کے رد عمل میں ترکی نے ممکنہ حد تک سخت جواب دینے کی بات کہی ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے اس گروپ کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس ”ایک خام خیال تصور سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فرانس کو اپنے ملک میں رہنے والے ترک نژاد افراد کو پر امن طور جمع ہونے اور آزادی اظہار کا حق دینا چاہیے۔”

ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فرانس میں موجود ترک افراد کے خلاف ہونے والی اشتعال انگیزی، دھمکیوں اور حملوں کو فرانس کی حکومت یکسر نظرانداز کر رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ گروپ پر پابندی لگانے کا مطلب یہ ہے کہ فرانسیسی حکومت پر اب آرمینیائی اثر و رسوخ غالب ہے۔ ”فرانس دوہرے معیار اور منافقت کی راہ پر ہے کیونکہ وہ کرد پارٹی (پی کے کے) اور اس جیسے دیگر گروپوں کو تو فرانس میں فعال رہنے کی اجازت دیتا ہے۔”

فرانس اور ترکی کے درمیان سخت گیر اور انتہا پسند موقف کے حامی گروپوں کے حوالے سے اس وقت شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ خاکوں کا جب دفاع کیا اور اس حوالے سے ہونے والے حملوں کو اسلامی شدت پسندی سے تعبیر کیا تو ترکی کے صدر نے کہا کہ انہیں اپنے دماغ کا علاج کروانے کی ضرورت ہے۔

اس پر بطور احتجاج فرانس نے ترکی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکے دکھانے پر اسکول کے ایک استاد کے قتل کے بعد سے فرانس اپنے ملک میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس واقعے کے بعد ہی نیس کے شہر میں ایک چرچ پر بھی دہشتگردانہ حملہ ہوا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آذربائیجان کے علاقے نگورنو کاراباخ میں کے تنازعے کے حوالے سے بھی ترکی اور فرانس کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔ انقرہ اس لڑائی میں اپنے اتحادی آذربائیجان کا حامی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق نگورونو کاراباخ کا علاقہ آذربائیجان کا ہے تاہم سن 1990سے ہی اس علاقے پر علیحدگی پسند آرمینیائی نسل کے قبائیلیوں کا قبضہ ہے۔ اس سے متعلق جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔