جرمن اسکولوں کی کم عمر طالبات کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کا مطالبہ

Scarf

Scarf

جرمنی (اصل میڈیا ڈیسک) چانسلر میرکل کی کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور اس پارٹی کی ہم خیال جماعت کرسچین سوشل یونین کے متعدد رہنماؤں نے جرمنی میں تمام صوبائی حکومتوں سے اسکولوں کی کم عمر طالبات کے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

انگیلا میرکل کی پارٹی سی ڈی یو کے داخلی سیاسی امور کے ماہر کرسٹوف دے فرائیز نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی میں تعلیمی شعبہ صوبائی حکومتوں کی عمل داری میں آتا ہے اور اب ضرورت ہے کہ تمام سولہ وفاقی صوبوں کی حکومتیں اس معاملے میں زیادہ فعال ہو جائیں۔

یورپی یہودیوں نے سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مذہبی علامت کے طور پر یارمولکے یا کِپا پہننا شروع کیا تھا۔ یہودی مذہبی روایات کے مطابق تمام مردوں کے لیے عبادت کرنے یا قبرستان جاتے وقت سر کو کِپا سے ڈھانپنا لازمی ہے۔

کرسٹوف دے فرائیز نے کہا، ”میری رائے میں چودہ برس سے کم عمر کی بچیوں کے اپنے تعلیمی اداروں میں ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگا دینا ہی وہ اہم قدم ہو گا، جس کی مدد سے ان کے لیے خود ارادیت اور آزادانہ طور پر صنفی مساوات کے ماحول کو عملاﹰ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

اسی طرح جنوبی جرمن صوبے باویریا میں حکمران جماعت اور انگیلا میرکل کی کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی ہم خیال قدامت پسند پارٹی کرسچین سوشل یونین یا سی ایس یو کے پارلیمانی حزب کے نائب سربراہ اور سابق صوبائی وزیر انصاف ونفرید باؤزباک نے بھی کہا ہے کہ اس حوالے سے ریاستی اداروں کو موجودہ رجحان کے خلاف طرز عمل اپنانا ہو گا۔

ونفریڈ بوزباک نے کہا، ”اہم ترین ترجیح بچیوں کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس رجحان کی مخالفت کریں، جس کے تحت والدین کے اپنے بچوں کی مذہبی تربیت کے بنیادی حق کے غلط افہام کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات میں جرمنی میں ذیلی ‘متوازی معاشرے‘ قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

اسی طرح شمالی جرمنی کی شہری ریاست ہیمبرگ میں سی ڈی یو کے خواتین کے شعبے کی صوبائی سربراہ فرانسسکا ہوپرمان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسلمان بچیوں کو چھوٹی عمر سے ہی ‘ہیڈ اسکارف پہننے پر مجبور کر دینا ان کے والدین کی طرف سے مذہب کے نام پر جبر کی علامت ہے‘۔

ہوپرمان نے 14 سال سے کم عمر کی بچیوں کے لیے اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگا دینے کے اپنے مطالبے کے حق میں یہ دلیل بھی پیش کی کہ ابھی حال ہی میں ریاستی قوانین اور ان کی تشریح کے ایک معروف جرمن ماہر کی طرف سے پیش کردہ سفارشات میں ایسی کسی ممکنہ پابندی کے قانوناﹰ جائز ہونے کی بات کی گئی ہے۔

ان سفارشات کے لیے درخواست جرمنی میں تارکین وطن کی نمائندہ تنظیموں کے وفاقی ورکنگ گروپ نے کی تھی۔ شہر وُرسبرگ میں ریاستی قوانین اور ان کی تشریح کے معروف ماہر کِیرِل آلیکسانڈر شوارس نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ جرمن اسکولوں سمیت تمام عوامی تنظیموں اور پبلک اداروں میں چودہ برس سے کم عمر کی بچیوں کے سروں پر اسکارف پہننے پر لگائی جانے والے کوئی بھی حکومتی پابندی ممکنہ طور پر نہ تو آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی اس طرح کسی بھی مذہبی اقلیت یا اکثریت کے اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کر سکنے کے بنیادی حق کی نفی ہو گی۔

جرمنی میں آباد کئی ملین مسلمان، مسیحی عقیدے کی حامل آبادی کے بعد دوسری سب سے بڑی مذہبی برادری ہیں اور ہیڈ اسکارف پہننے یا حجاب استعمال کرنے کا رجحان بھی زیادہ تر مسلمان خواتین اور بچیوں میں ہی پایا جاتا ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں کہ جرمن اسکولوں میں زیر تعلیم ساری ہی مسلمان طالبات ہیڈ اسکارف پہنتی ہوں۔